بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تین روز تک بسنت کا رنگا رنگ تہوار بھرپور جوش و خروش سے منایا گیا۔ پہاڑوں اور ٹھنڈی ہواؤں کے درمیان رنگ برنگی پتنگیں آسمان پر چھائی رہیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے شہر کی فضا خوشیوں کے رنگوں سے بھر گئی ہو۔
اگرچہ ماضی میں بھی کوئٹہ میں بسنت پر کوئی پابندی نہیں رہی لیکن اس بار نوجوانوں کا جوش کچھ زیادہ ہی نمایاں تھا چھتوں سے پتنگوں کے پیچ لڑانے کا عمل دن بھر جاری رہا۔ نوجوانوں کے ساتھ بچے اور لڑکیاں بھی اس تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی دکھائی دیں۔
پتنگوں اور ڈور کی خریداری کے لیے بازاروں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا دکان داروں کے چہروں پر مسکراہٹ نمایاں تھی کیونکہ آخری روز تک خریداروں کا ہجوم کم نہ ہوا۔
پتنگ باز نوجوان افنان بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پتنگیں اگرچہ جیب میں موجود رقم سے مہنگی ہیں لیکن یہ شوق پورا کرنا ہی پڑتا ہے، بسنت کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔‘
بچوں کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں ہر سال بسنت منائی جاتی ہے تاہم اس بار لاہور میں بسنت کی رونقوں کی بازگشت نے یہاں کے جوش کو بھی دوبالا کر دیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کسی چھت پر پتنگ اڑانے کا مقابلہ جاری تھا تو کہیں بچے کٹی ہوئی پتنگ کے پیچھے گلیوں اور میدانوں میں دوڑتے نظر آئے۔ بچوں میں شامل محمد اذان کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ کی وادی میں جب آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں اڑتی ہیں تو منظر بہت خوبصورت لگتا ہے ہم اسی لمحے کے انتظار میں رہتے ہیں۔‘
شہر بھر میں بسنت کی گہما گہمی دیکھنے کو ملی مگر مری آباد کی پہاڑیوں کے دامن میں اڑتی ہوئی پتنگوں کا منظر خاص طور پر دلکش تھا جہاں آسمان رنگوں کی چادر اوڑھے دکھائی دے رہا تھا۔
پتنگ فروش ساجد خان نے بتایا: ’لاہور کے بعد کوئٹہ میں بھی شان دار بسنت ہوئی خریداروں کا رش توقع سے زیادہ تھا اور اس بار منافع بھی اچھا ہوا۔‘
بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ یادوں کا سفر بھی ہے۔ل کٹی ہوئی پتنگ کے پیچھے بھاگنا بچپن کا وہ جنون ہے جو بڑے ہونے کے بعد بھی دل میں زندہ رہتا ہے اور شاید اسی لیے لوگ ہر سال بسنت کے بہانے اپنے بچپن کو دوبارہ جینے کی کوشش کرتے ہیں۔
