نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کراچی میں ہونے والے پالیسی ہیکاتھون میں اے آئی گورننس، کرپٹو ریگولیشن اور ڈیٹا انفراسٹرکچر سے متعلق اہم تجاویز سامنے آئیں، جن میں کروڑوں غیر رجسٹرڈ کرپٹو صارفین کو قانونی دائرے میں لا کر معیشت کا حصہ بنانے اور Pakistan Virtual Assets Regulatory Act کے مؤثر نفاذ پر زور دیا گیا۔
نیپا میں جمعرات کو ’Governing AI and Digital Assets: First Policy Hackathon‘ کے عنوان سے منعقد اس پالیسی ہیکاتھون میں 32 سول سرونٹس نے شرکت کی۔
اس ایونٹ نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اثاثوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں نئی پالیسی سازی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
ہیکاتھون میں پالیسی سازوں، سرکاری نمائندوں، ٹیک ماہرین اور نوجوان محققین نے شرکت کی اور ایسے قابل عمل تجاویز تیار کیں جو پاکستان کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔ ایونٹ کو چار موضوعاتی ٹریکس میں تقسیم کیا گیا
محفوظ اور اخلاقی اے آئی
سرکاری امور میں اے آئی کا استعمال
ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن
ڈیٹا انفراسٹرکچر اور ریاستی تیاری
ہر ٹریک میں موجودہ چیلنجز، مواقع اور پالیسی خلا پر گفتگو ہوئی جبکہ شرکا نے عملی تجاویز بھی دیں۔
ماہرین نے زور دیا کہ سرکاری سطح پر اے آئی کے استعمال کے ساتھ شفافیت، احتساب اور شہریوں کی پرائیویسی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے ورنہ عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
ایس ایس پی ڈاکٹر فرخ رضا نے، جو تقریب کے میزبان تھے، انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ نیپا میں اس نوعیت کا یہ پہلا ایونٹ ہے جہاں باقاعدہ پالیسی سازی پر توجہ دی گئی۔
ان کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت کئی ادارے پہلے ہی اپنے نظام میں اے آئی شامل کر رہے ہیں لہٰذا اس موضوع پر سنجیدہ مکالمہ ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس ایونٹ میں انڈسٹری کے ماہرین کو بطور مینٹور شامل کیا گیا تاکہ سول سروس اور ٹیک سیکٹر کے درمیان موجود خلا کم ہو سکے۔
کو-ڈیزائن کے اصول پر تیار کردہ تجاویز کو پالیسی پیپرز کی شکل دے کر متعلقہ وزارتوں اور ریگولیٹری اداروں کو بھجوایا جائے گا۔
ڈاکٹر فرخ رضا کے مطابق اے آئی کا مؤثر استعمال گورننس میں شفافیت، بہتر کارکردگی اور کرپشن میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
ڈیجیٹل اثاثوں کے ٹریک کے مینٹور ایس ایس پی بشیر احمد نے بتایا کہ پالیسی میں بائنانس سمیت عالمی کرپٹو ایکسچینجز کی پاکستان میں رجسٹریشن کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
انہوں نے کہا ملک میں اندازاً ڈیڑھ سے دو کروڑ کرپٹو صارفین اس وقت غیر رجسٹرڈ اور غیر ریگولیٹڈ ہیں، جسے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے تجویز دی گئی کہ ایسے فریم ورک کی ضرورت ہے جو صارفین اور کاروبار کو قانونی دائرے میں لا کر انفارمل اکانومی سے فارمل اکانومی میں منتقل کرے۔
اس اقدام سے ٹیکس بیس اور قومی ریونیو میں اضافہ ہو سکے گا۔
بشیر احمد کے مطابق پالیسی میں صارفین کے حقوق کا تحفظ مرکزی حیثیت رکھتا ہے تاکہ کسی کمپنی کے دیوالیہ ہونے یا پاکستان چھوڑنے کی صورت میں عوام کے ڈیجیٹل اثاثے محفوظ رہیں۔
اسی مقصد کے لیے Pakistan Virtual Assets Regulatory Act کے تحت قانونی فریم ورک تیار کیا گیا جو 2025 میں آرڈیننس اور 2026 میں باقاعدہ قانون کی شکل میں سامنے آیا۔
توقع ہے کہ آئندہ چند ماہ میں اس کے عملی نفاذ سے ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے مؤثر ریگولیٹری نظام قائم ہو جائے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈیٹا انفراسٹرکچر کے ٹریک میں ایس ایس پی سینٹرل زیشان صدیقی نے ہیلتھ سیکٹر کے لیے اے آئی کے استعمال پر محتاط حکمت عملی کی سفارش کی۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کسی نظام کا متبادل نہیں بلکہ اسے بہتر بنانے کا ذریعہ ہے، اس لیے لازمی ہے کہ مضبوط، معیاری اور محفوظ ڈیٹا بیس قائم کیا جائے۔ شہریوں کے ڈیٹا کا تحفظ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق ایم ایس، ڈی ایچ کیو ہسپتالوں، تحصیل مراکز اور محکمہ صحت کی ذمہ داریاں واضح کرنا ضروری ہے تاکہ اے آئی کا نفاذ مؤثر، محفوظ اور شفاف ہو سکے۔
انہوں نے مؤثر مانیٹرنگ سسٹم، چیک اینڈ بیلنس اور حکومتی نگرانی کو ناگزیر قرار دیا۔
ہیکاتھون کیا ہے؟
ہیکاتھون وہ ایونٹ ہوتا ہے جس میں مختلف شعبوں کے افراد مختصر وقت میں اکٹھے ہو کر کسی مخصوص مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں۔ ٹیم ورک کے ذریعے نئے آئیڈیاز اور عملی تجاویز تیار کی جاتی ہیں اور آخر میں ان کے حل پیش کیے جاتے ہیں۔
ایسے ایونٹس نہ صرف جدید سوچ کو فروغ دیتے ہیں بلکہ پالیسی سازی اور گورننس میں نئی راہیں بھی کھولتے ہیں۔
