پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے جاری بحران کے سبب جیٹ فیول کی فراہمی سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر غیر ملکی ایئرلائنز کو احتیاطی تدابیر کے طور پر واپسی کا ایندھن ساتھ لانے اور ملک میں ری فیولنگ محدود رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ ہدایت پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے اس ماہ کے اوائل میں جاری کردہ نوٹس ٹو ایئر مین (NOTAM) کے ذریعے دی گئی۔
پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ نوٹس 13 مارچ کو جاری کیا گیا۔
یہ اقدامات ایران جنگ کے باعث عالمی ایندھن سپلائی چین میں خلل کے بعد سامنے آئی، جس پر حکام نے پیشگی اقدامات اٹھاتے ہوئے ملکی ذخائر کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا۔
مشاورتی ہدایت کے تحت غیر ملکی ایئرلائنز سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں جیٹ فیول پر انحصار کم کریں، جبکہ مقامی ایئرلائنز کو آپریشنل ضروریات کے مطابق ایندھن کی فراہمی جاری رہے گی۔
نوٹس میں کہا گیا کہ ’ فیول کی سپلائی چین میں خلل کے باعث، احتیاطی تدبیر کے طور پر ایئرلائنز کو ہدایت دی جاتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایندھن بیرونِ ملک سے لے کر آئیں اور پاکستان سے Jet A-1 فیول کی فراہمی کم سے کم رکھیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے لیے مختلف اقدامات متعارف کرائے ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی سپلائی غیر یقینی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایندھن کی فراہمی اور استعمال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے، اور معمول کے استعمال کے لیے مناسب ذخائر موجود ہیں، تاہم اس ماہ کے اوائل میں پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 55 روپے اضافہ کیا گیا۔
حکام اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو آئندہ دنوں میں ایندھن کی راشن بندی کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں تاہم اس بارے میں تاحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کا جائزہ لیا گیا اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں تیاریوں کا اندازہ لگایا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک کے پاس اس وقت اپریل کے مہینے اور اس کے بعد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
انہوں نے موجودہ سپلائی کی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ وزارتوں اور تمام اداروں کو ہدایت دی کہ ’باہمی رابطہ برقرار رکھا جائے، بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور آئندہ ہفتوں میں مناسب سپلائی برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔‘
