عمران خان کی آنکھ کا چوتھا پروسیجر، ڈاکٹر ’مطمئن‘ مگر پی ٹی آئی کو تشویش

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی رواں ہفتے اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں آنکھ کے چوتھے طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت میں بہتری بہتری آ رہی ہے۔

عمران خان 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں متعدد مقدمات میں قید ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)  کے مطابق عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پیر کو لایا گیا تھا۔

پمز انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس عمل سے پہلے کیے گئے آنکھ کے سکین میں طبی بہتری ظاہر ہوئی۔‘

ان کے مطابق یہ سکین آپٹیکل کوہرنس ٹوموگرافی (OCT) تھا، جو ریٹینا اور آنکھ کے اندرونی حصوں کا جائزہ لینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سابق وزیر اعظم کی صحت اور جیل کی صورت حال پر ان کی جماعت، حامیوں اور انسانی حقوق کے مبصرین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف بارہا ان کو دی جانے والی طبی سہولیات اور دورانِ قید علاج تک رسائی پر تشویش ظاہر کر چکی ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کو چوتھے انٹراویٹریئل انجیکشن کے لیے لایا گیا تھا، جو عام طور پر ریٹینا اور آنکھ کی دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے آنکھ میں دوا انجیکٹ کرنے کا طریقہ ہے۔

بیان کے مطابق ڈاکٹروں نے عمل سے پہلے خان کا معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر مستحکم پایا۔

پمز کے مطابق ’یہ عمل ڈے کیئر سرجری کے طور پر کیا گیا اور اس کے بعد انہیں فالو اپ نگہداشت کی ہدایات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل 23 مارچ کو بھی عمران خان نے اینٹی وی ای جی ایف انٹراویٹریئل انجیکشن لگوایا تھا۔

ان کی آنکھ کی بیماری دائیں مرکزی ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) جنوری کے آخر میں سامنے آئی تھی۔ ان کا پہلا طبی معائنہ 24 جنوری کو کیا گیا تھا، جبکہ دوسری بار انہیں 24 فروری کو ہسپتال لے جایا گیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں تصدیق کی کہ عمران خان کو گذشتہ رات آنکھ کے انجیکشن اور طبی معائنے کے لیے پمز لے جایا گیا تھا۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ’علاج کچھ بھی ہو، ہماری تشویش کا جواب نہیں ملا۔‘ انہوں نے پی ٹی آئی کے اس مطالبے کی طرف اشارہ کیا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ’ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں، اہل خانہ کی موجودگی کے ساتھ علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ ان کا بنیادی حق ہے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے ’حراست میں کیے جانے والے اندرونی طبی معائنوں پر انحصار غیر جانبداری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔

’طبی استحکام‘ کے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، اس لیے یہ اس وقت تک ناقابل قبول ہے جب تک مریض کے اپنے منتخب کردہ ڈاکٹروں سے اس کی توثیق نہ ہو، خصوصاً ایک سابق وزیرِاعظم کے معاملے میں۔‘

پی ٹی آئی کے مطابق ’مسلسل غیر شفافیت عوامی بداعتمادی میں اضافہ کرتی ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *