ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے، جس کے باعث بدھ کو تیل کی قیمتیں چار سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
تیل کی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی، جس کے خاتمے کا مطالبہ تہران کسی بھی معاہدے سے پہلے کر رہا ہے، بمباری سے زیادہ مؤثر ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق، منگل کو ہونے والی اس ملاقات میں ٹرمپ نے ’عالمی تیل کی منڈی کو مستحکم کرنے اور ضرورت پڑنے پر کئی ماہ تک موجودہ ناکہ بندی جاری رکھنے اور امریکی صارفین پر اس کے اثرات کم کرنے کے اقدامات‘ پر بات کی۔
اگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے خلاف بحری کارروائی کے بارے میں کہا کہ ’وہ بری طرح دباؤ میں ہیں، اور یہ ان کے لیے مزید خراب ہونے والا ہے۔‘
برینٹ خام تیل کی قیمت میں مزید 7.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 119.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 2022 میں یوکرین جنگ کے ابتدائی دنوں کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
ایران نے حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے، جو ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے اور جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
