سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ایران پر سے اعتبار ’مکمل طور پر ختم‘ ہو چکا ہے اور تہران کے موجودہ رویے کو دیکھتے ہوئے اسے شراکت دار نہیں سمجھا جا سکتا۔
سعودی گزٹ کے مطابق جمعرات کو دارالحکومت ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ایران کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ حقیقی بات چیت پر یقین نہیں رکھتا، بلکہ اس کی بجائے دباؤ اور سیاسی و سکیورٹی جبر کا سہارا لیتا ہے۔‘
انہوں نے پڑوسی ممالک اور سمندری جہاز رانی پر ایرانی حملوں کو ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، اور کہا کہ اجلاس کے شرکا نے ان حملوں کو روکنے اور ایران کے عدم استحکام پیدا کرنے والے رویے کی شدید مذمت کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
وزیر خارجہ نے زور دیا کہ ایران ’نہیں رکے گا‘ جب تک اسے مضبوط مقابلے کا سامنا نہ ہو، اور اس بات کو دہرایا کہ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا اور ضرورت پڑنے پر اپنی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔
شہزادہ فیصل نے کہا کہ ایران نے ان حملوں کی ’پہلے سے منصوبہ بندی‘ کر رکھی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ کشیدگی بڑھانے کی ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسا رویہ اچھے پڑوسی کے اصولوں، بین الاقوامی معاہدوں اور یہاں تک کہ اسلام کی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔
انہوں نے ایرانی جواز کو غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کر دیا، اور اسے جبر کی وسیع تر پالیسی پر پردہ ڈالنے کی کوششیں قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مسلسل غلط اندازوں کے تہران پر سیاسی اور وسیع تر نتائج مرتب ہوں گے۔
شہزادہ فیصل نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر سعودی عرب ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ مناسب فیصلے صحیح وقت پر کیے جائیں گے۔
’ایران اگر یہ سمجھتا ہے کہ خلیجی ریاستیں جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو وہ غلطی پر ہے۔ خطے کے ممالک اپنے مفادات اور سکیورٹی کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔‘
