امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی نمائندے ایران سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی غرض سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے پاکستان یا ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ ’میرے نمائندے اسلام آباد، پاکستان جا رہے ہیں، وہ کل شام وہاں مذاکرات کے لیے موجود ہوں گے۔‘
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، اور اب فریقین ایک بار پھر بات چیت میں پیش رفت کی کوشش کر رہے ہیں۔
انڈیپنڈنٹ اردو کی ٹیم نے شہر کے حساس علاقوں اور اہم ہوٹلوں کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کا مشاہدہ کیا، جہاں مسلح اہلکار تعینات تھے۔
خصوصاً میریٹ اور سیرینا ہوٹلز کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، جہاں اس سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔
سیرینا ہوٹل کی جانب جانے والی بیشتر سڑکیں خار دار تاروں، کنٹینرز، بیریئرز اور بھاری نفری کے ساتھ مکمل طور پر بند کر دی گئیں، جبکہ بعض مقامات پر پارکنگ ایریاز بھی خالی کروائے جا رہے ہیں۔
ممکنہ مذاکرات سے قبل وفاقی دارالحکومت میں اتوار کے روز سکیورٹی غیر معمولی طور پر سخت کر دی گئی۔
شہر بھر میں اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں، چیک پوسٹس قائم کی گئیں اور ٹریفک کی نقل و حرکت پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق اسلام آباد کا ریڈ زون اور توسیعی ریڈ زون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔
کورال سے زیرو پوائنٹ تک ایکسپریس وے بند رہے گی جبکہ سری نگر ہائی وے پر بھی مختلف اوقات میں ٹریفک روکی جا سکتی ہے۔
شہر میں داخل ہونے والی ہر قسم کی ہیوی ٹریفک پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ٹرانسپورٹ مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان دنوں اسلام آباد کا رخ نہ کریں تاکہ مشکلات سے بچا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی تاحکم ثانی معطل کیا جا رہا ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
راولپنڈی میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے گئے ہیں، جہاں ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ نے پبلک ٹرانسپورٹ، گڈز ٹرانسپورٹ اور ہیوی ٹریفک کی آمد و رفت پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل روٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔ جی-5، جی-6، جی-7، ایف-6 اور ایف-7 کے رہائشیوں کو راولپنڈی آنے جانے کے لیے مارگلہ روڈ کے ذریعے نائنتھ ایونیو استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسی طرح فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ جانے والی ٹریفک کو نائنتھ ایونیو کی طرف موڑا جائے گا۔
اگر زیرو پوائنٹ سے کورال چوک کا راستہ بند ہو تو شہری سری نگر ہائی وے سے نائنتھ ایونیو، سٹیڈیم روڈ، مری روڈ، چاندنی چوک اور راول روڈ کے ذریعے کورال جا سکتے ہیں۔
پارک روڈ سے کلب روڈ بند ہونے کی صورت میں ٹریفک کو ترامڑی چوک کی طرف موڑا جائے گا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان جواد تقی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کے شہر کو ہائی سکیورٹی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
امریکہ کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت یا کسی معاہدے کی صورت سامنے آتی ہے تو صدر ٹرمپ خود بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔
