متحدہ عرب امارات کی ملکی سلامتی کے ادارے (ایس ایس اے) نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ اور ایران کی ’مالی اور انتظامی معاونت‘ سے چلنے والے ’دہشت گرد‘ نیٹ ورک کا پتہ لگانے اور اس کے ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سرکاری نیوز ایجنسی وام کے مطابق ایس ایس اے کا کہنا ہے کہ ’یہ نیٹ ورک ملک کے اندر ایک فرضی تجارتی آڑ میں کام کر رہا تھا اور اس کی کوشش تھی کہ وہ قومی معیشت میں دراندازی کرے اور ملک کے مالی استحکام کے لیے خطرہ بننے والے بیرونی منصوبوں کو عملی جامہ پہنائے۔‘
ایس ایس اے نے وضاحت کی کہ ’یہ نیٹ ورک اقتصادی اور قانونی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے حزب اللہ اور ایران سے جڑے بیرونی فریقوں کی ہم آہنگی سے ایک پہلے سے طے شدہ سٹریٹجک منصوبے کے تحت کام کرتا تھا۔‘
متحدہ عرب امارات کی جانب سے اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کی مشرق وسطیٰ میں دبئی، ابوظبی، قطر اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک میں امریکی تنصیبات اور نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے قبل کویت کی وزارتِ داخلہ نے بھی پیر کو خفیہ آپریشنز کے بعد ایک ’دہشت گرد گروہ‘ کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا جو ان کے مطابق حزب اللہ سے منسلک تھا۔
کویتی وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ گروہ کالعدم تنظیم حزب اللہ سے وابستہ تھا اور اس کا ’مقصد ریاست کویت میں امن و امان کو نقصان پہنچانا اور افراد کو اس دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے کے لیے بھرتی کرنا تھا۔‘
وام نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ملکی سلامتی کے ادارے ایس ایس اے نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی معیشت یا شہری اداروں کو ’دہشت گردانہ یا تخریبی مقاصد‘ کے لیے استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کا سختی اور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
