امریکی جج کا وائس آف امریکہ کے ملازمین کو 23 مارچ تک بحال کرنے کا حکم

ایک امریکی وفاقی جج نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وائس آف امریکہ کے ایک ہزار سے زائد ملازمین کو دوبارہ کام پر بحال کیا جائے اور اس سرکاری مالی اعانت سے چلنے والے میڈیا ادارے کی نشریات بحال کی جائیں۔

ڈسٹرکٹ جج رائس لیمبرتھ کا یہ حکم منگل کو اس فیصلے کے 10 دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نے قرار دیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے وائس آف امریکہ میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی نگرانی کے لیے تعینات شخص کی تقرری غیر قانونی تھی، جس کے باعث ملازمتوں میں کٹوتی بھی غیر مؤثر ہو گئی۔

سابق ٹی وی اینکر کیری لیک نے، ٹرمپ کی جانب سے یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا کی سربراہی سنبھالنے کے بعد، ملازمتوں اور فنڈنگ میں کمی کر دی تھی۔

یہ ادارہ وی او اے  کے علاوہ ریڈیو فری یورپ اور  ریڈیو فری یورپ سمیت دیگر نشریاتی ادارے چلاتا ہے۔

جج لیمبرتھ، جنہیں ریپبلکن صدر نے مقرر کیا تھا، نے حکم دیا کہ گذشتہ ایک سال سے تنخواہ کے ساتھ انتظامی چھٹی پر موجود 1,042 ملازمین کو 23 مارچ تک بحال کیا جائے۔

عدالت نےیو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اگلے ہفتے تک بین الاقوامی نشریات بحال کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کرے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وائس آف امریکہ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی سطح پر امریکی سافٹ پاور کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔

ٹرمپ اکثر میڈیا اداروں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے وی او اے کے اس ادارتی فائروال کی بھی مخالفت کی ہے جو حکومت کو اس کی خبروں میں مداخلت سے روکتا ہے۔

وی او اے  کے تین ملازمین، جنہوں نے کیری لیک کے اقدامات کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، نے جج کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ’ہم اپنی ایجنسی اور ساتھیوں کو پہنچنے والے نقصان کو درست کرنے، کانگریس کی دی گئی ذمہ داری کو دوبارہ پورا کرنے اور عالمی ناظرین کا اعتماد بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ جج کے اس پہلے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی جس میں کیری لیک کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *