یہ 2003 تھا جب ننگرہار کابل شاہراہ پر افغان ٹریکٹرز کی ایک کمپنی کی پارکنگ میں بڑی مقدار میں کباڑ پڑا نظر آ رہا تھا۔
اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور نیٹو کی افواج افغانستان کے مختلف فوجی اڈوں پر موجود تھیں۔
اس وقت کے دفتر برائے فوجی تعاون کو ایک ایسی جگہ کی تلاش تھی جس میں 800 سپاہیوں کے رہنے کی گنجائش ہو اور یوں یہ زمین جس کمپنی کی تھی، اس سے رابطہ کیا گیا۔
امریکی غیر سرکاری ادارے ’گلوبل سکیورٹی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق نیٹو کی جانب سے یہ پارکنگ کی جگہ ایک سال کی لیز پر لی گئی اور اس بنجر جگہ کو ایک بڑے فوجی کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ فوجی اڈہ ’کیمپ فینکس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس فوجی اڈے کو دو ہفتوں کے اندر اندر قائم کیا گیا تھا جس میں کچن کی سہولت، میڈیکل، واش رومز اور رہائش کے لیے کوارٹرز بنائے گئے تھے۔ نیو یارک ٹائمز کی 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کیمپ میں بعد میں 10 ہزار تک افراد کے رہنے کی گنجائش پیدا کی گئی۔
افغانستان کے شہر کابل میں بدھ کو ان افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جن کے بارے میں افغانستان کا کہنا ہے کہ یہ پیر کو ایک ہسپتال پر مبینہ پاکستانی بمباری میں مارے گئے جبکہ پاکستان کے بقول اس کا نشانہ ڈرون کی تیاری کا ایک مرکز تھا۔
یہ عمارت دراصل کیا تھی اور اس میں کیا واقعی ڈرون بنائے جاتے تھے؟
’گلوبل سکیورٹی‘ کے مطابق یہ کیمپ دراصل نیٹو افواج کی جانب سے افغان نیشنل آرمی کو تربیت دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس تربیتی کیمپ میں فروری 2005 تک 17 ہزار کے قریب افغان نیشنل آرمی کے اہلکاروں کو تربیت دے کر افغانستان کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا۔
اس کیمپ پر اس وقت افغان طالبان کی جانب سے متعدد بار حملوں کی کوشش بھی کی گئی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اڈے کے ایک حصے میں منشیات بحالی مرکز کی بنیاد
افغانستان سے 2014 میں امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کے بعد اس کیمپ کو اس وقت کی افغان حکومت کے حوالے کیا گیا۔ یہ کیمپ ’قرغا‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جبکہ اس کے داخلے کے راستے پر ’ابن سینا منشیات بحالی ہسپتال‘ نام لکھا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس وقت کے افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے کیمپ کے ایک حصے میں منشیات بحالی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کابل و دیگر صوبوں سے منشیات کے عادی افراد کو علاج کی غرض سے اس کیمپ میں لایا گیا۔
نیو یارک ٹائمز کی اس وقت کی ایک رپورٹ کے مطابق منشیات بحالی کے اس مرکز کے لیے اشرف غنی کی اہلیہ رولا غنی نے ’امید‘ نام تجویز کیا تھا۔ اس وقت تو یہ نام نہیں دیا گیا تھا لیکن اب یہ اسی نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ مرکز کیمپ کے احاطے میں ایک عارضی عمارت میں قائم کیا گیا ہے جہاں افغان طالبان کے مطابق دو ہزار مریضوں کی گنجائش موجود ہے۔ جبکہ برطانیہ کی سوانسی یونیورسٹی کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق اس مرکز میں ایک ہزار افراد کی گنجائش موجود ہے اور یہ افغانستان کا سب سے بڑا منشیات بحالی مرکز ہے۔
کیمپ پر بمباری
اس کیمپ پر 17 مارچ کی شب تقریباً نو بجے فضائی بمباری کی گئی۔ پاکستان کی جانب سے جاری ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اس کیمپ کے تین حصوں پر بمباری کی گئی۔ پاکستان کے مطابق اس کیمپ میں افغان طالبان کے بارودی مواد کا ذخیرہ موجود تھا اور درست نشانے پر دہشت گردی کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی جانب سے منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 400 افراد جان سے گئے ہیں اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دعوے کی انڈپینڈنٹ اردو یا کسی غیر سرکاری یا بین الاقوامی ادارے کی جانب سے آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے البتہ بعض آذاد ذرائع مرنے والوں کی تعداد اب سو کے لگ بھگ بتا رہے ہیں۔
طالبان حکومت کی وزارت صحت عامہ نے کہا کہ اس نے بدھ کو مرنے والے 70 افراد کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دی ہیں۔ کچھ کو پہلے ان کے لواحقین کے حوالے کر دیا گیا تھا لیکن کچھ لاشیں اب بھی ہسپتالوں میں ہیں۔
افغانستان کے محکمہ فرانزک میڈیسن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ منشیات کے علاج کے مرکز سے 100 سے 200 لاشیں ایجنسی کو منتقل کی گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان (یوناما) نے اس حوالے سے جاری بیان میں بتایا ہے کہ بمباری سے منشیات بحالی مرکز ’متاثر‘ ہوا ہے، تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ واقعی براہِ راست اس مرکز پر بمباری کی گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تصدیق پر کام کر رہے ہیں اور تمام فریقین سے کشیدگی ختم کرنے اور امن کو ترجیح دینے کی درخواست کی ہے۔
افغانستان میں مراکز صحت وزارت پبلک ہیلتھ کے تحت کام کرتے ہیں، تاہم یہ مرکز افغانستان کی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتا ہے۔ افغانستان کی تمام فوجی اور سکیورٹی تنصیبات کا کنٹرول وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے پاس ہے۔
تصاویر کیا دکھاتی ہیں؟
افغان طالبان کی جانب سے شیئر کی گئی اس مقام کی سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیمپ کے اندر تین مقامات متاثر ہوئے ہیں۔ دو مقامات ایسے نظر آ رہے ہیں جہاں عمارت مکمل تباہ نظر آ رہی ہے جبکہ ایک عمارت میں شدید آگ لگنے اور آگ سے نقصان کے آثار نظر آتے ہیں۔
اس مقام کو اگر آپ گوگل میپ پر سرچ کریں تو کیمپ کی بائیں جانب ایک بیرک نما عمارت نظر آتی ہے اور گوگل پر اس کا نام ’امید کیمپ‘ دکھایا گیا ہے۔ اس مرکز کے آس پاس گوگل میپ پر آپ کو فوجی بیرکس اور فوجی سٹوریج مراکز کی طرز کی عمارتیں نظر آتی ہیں جبکہ اس کمپاؤنڈ کا ایک حصہ کھلا میدان نظر آتا ہے جس کو نقشے پر ’فینکس کیمپ‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اس کیمپ کے حوالے سے گذشتہ سال برطانیہ کے روزنامہ ڈیلی میل اور دی ڈپلومیٹ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کیمپ کے اندر افغان طالبان کے ڈرون بنانے کی جگہ موجود ہے۔
اس رپورٹ میں افغان طالبان کا موقف شامل نہیں تھا، تاہم اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ کیمپ میں القاعدہ کے ماہرین ڈرون بناتے ہیں اور یہ کام 2023 کے آس پاس شروع کیا گیا تھا اور ان ماہرین میں کابل یونیورسٹی کے کچھ فارغ التحصیل طلبہ بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں [پاکستانیوں] کو ’ہم سے بڑے ردعمل کی توقع رکھنی چاہیے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان حکومت کو کابل میں حالیہ پاکستانی حملے کا جواب دینے میں کوئی جلدی نہیں ہے اور وہ فوجی رازداری کی وجہ سے تفصیلات جاری نہیں کر سکتی، تاہم جواب ناگزیر ہو گا۔
