علی لاریجانی: ’فلسفی‘ سے ایران کی طاقتور ترین شخصیت تک

ایران کے طاقتور ترین خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھنے والے علی لاریجانی ایرانی سیاست کا ایک ایسا نام تھے جو گذشتہ تین دہائیوں سے طاقت کے ایوانوں میں مسلسل موجود رہے۔

علی لاریجانی کی طاقت کا اندازہ اس سے سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنوری 2026 میں منتخب صدر مسعود پزشکیان نے کابینہ اجلاس میں تسلیم کیا تھا کہ انٹرنیٹ پابندیاں ہٹوانے کے لیے انہیں لاریجانی سے اپیل کرنی پڑتی ہے۔

ان کا پورا نام علی اردشیر لاریجانی تھا اور وہ ہر فن مولا شخص تھے۔ انہوں نے مشہور جرمن فلسفی امانوئل کانٹ پر کتاب لکھی، اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاسداران انقلاب میں اہم عہدوں پر کام کیا۔ وہ پارلیمان کی سپیکر شپ سے لے کر جوہری مذاکرات تک ہر محاذ پر موجود رہے۔

وہ اسرائیلی حملے میں قتل ہونے سے قبل سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کی حیثیت سے ایرانی کی سب سے طاقتور شخصیات میں سے ایک تھے۔

ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ منتخب صدر مسعود پزشکیان کی بجائے عملی طور پر ایران کی روزمرہ حکومت چلا رہے تھے۔

خاندانی جڑیں: ’ایران کے کینیڈی‘

تین جون 1958 کو پیدا ہونے والے علی لاریجانی کا تعلق ایران کی مذہبی اور سیاسی اشرافیہ سے ہے۔ والد آیت اللہ میرزا ہاشم آملی ایک معروف عالم دین تھے جو 1931 میں رضا شاہ کے دباؤ کی وجہ سے نجف چلے گئے تھے، لیکن 1961 میں ایران واپس آئے۔

لاریجانی خاندان ایران میں طاقت کا مترادف ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی عدلیہ کے سابق سربراہ رہے۔ دوسرے بھائی محمد جواد اور باقر لاریجانی نے بھی اعلیٰ مذہبی اور تعلیمی عہدے سنبھالے۔ لاریجانی خود آیت اللہ مرتضیٰ مطہری کے داماد تھے، جب کہ مطہری ایران کے 1979 کے انقلاب کے نظریاتی بانیوں میں سے ایک تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاریجانی کی بیٹی فاطمہ نے امریکہ کی کلیو لینڈ سٹیٹ یونیورسٹی سے میڈیکل میں سپیشلائزیشن کی۔

انہی خاندانی روابط کی بنا پر لاریجانی نے ایرانی معاشرے کے دو طاقتور ترین مراکز میں اہمیت حاصل کی، ایک طرف وہ علما کے قریب تھے جب کہ دوسری جانب پاسداران سے بھی ان کے گہرے تعلقات تھے، جب کہ بیوروکریسی میں ان کے حامی موجود تھے۔

فلسفی سپاہی

لاریجانی کی شخصیت کا سب سے دلچسپ پہلو ان کا تعلیمی سفر ہے۔ انہوں نے قم کے مدرسے سے روایتی مذہبی تعلیم حاصل کی، لیکن ساتھ ہی آریامہر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے کمپیوٹر سائنس اور ریاضی میں بیچلرز کی ڈگری لی۔

اس کے بعد انہوں نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں پی ایچ ڈی کی۔ ان کی تحقیق کا موضوع امانوئل کانٹ، ساؤل کرپکے، اور ڈیوڈ لیوس تھے۔  

لاریجانی نے ان فلسفیوں پر کتابیں لکھیں، اور تہران یونیورسٹی میں ادب اور انسانیت کے شعبے میں تدریس بھی کی۔ یہ وہ دور تھا جب وہ بیک وقت ایک اکیڈمک اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر تھے۔

سیاسی سفر

لاریجانی کا سیاسی سفر انقلاب کے فوراً بعد شروع ہوا۔ پہلے محنت و سماجی امور کے نائب وزیر، پھر انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے نائب وزیر مقرر ہوئے۔ 1994 میں انہیں اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کا سربراہ بنایا گیا۔ ایک ایسا عہدہ جو ایران میں انتہائی طاقتور سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ عوامی رائے کو تشکیل دیتا ہے۔

اس عہدے پر دس سال تک 2004 تک لاریجانی نے ایران کی میڈیا پالیسی کو کنٹرول کیا۔

2004  میں لاریجانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سکیورٹی مشیر بنے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں خامنہ ای کا مکمل اعتماد حاصل تھا۔

2005  میں صدر احمدی نژاد نے انہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا، اور لاریجانی نے مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات کی سربراہی سنبھالی۔ یہ وہ دور تھا جب ایران کے جوہری پروگرام پر دنیا کی نظریں تھیں، اور لاریجانی نے تکنیکی علم اور سفارتی مہارت دونوں کا مظاہرہ کیا۔

لیکن احمدی نژاد کے ساتھ پالیسی اختلافات کی بنا پر 2007 میں لاریجانی نے استعفیٰ دے دیا۔

2008 میں لاریجانی ایران کی پارلیمنٹ (مجلس) کے سپیکر منتخب ہوئے، اور مسلسل 12 سال اس عہدے پر رہے۔ اس دوران انہوں نے مختلف دھڑوں میں توازن برقرار رکھا، اور خود کو ایک تجربہ کار قانون ساز کے طور پر ثابت کیا۔

اس دوران لاریجانی کو ’قدامت پسند سے اعتدال پسند‘ کی طرف بڑھنے والے سیاست دان کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ 2016 کے پارلیمانی انتخابات میں اصلاح پسندوں کی تحریک نے انہیں سپورٹ کیا، حالانکہ وہ خود کو ’آزاد امیدوار‘ کہتے رہے۔

لاریجانی نے تین بار صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کی، تاہم وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ سخت گیر دھڑا ان کی اعتدال پسندی کو خطرہ سمجھتا تھا۔

اگست 2025 میں لاریجانی کو عین اس وقت دوبارہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا جب جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ نے ایران کی فوجی کمانڈ چین کو تباہ کر دیا تھا۔

جنوری 2026 میں جب ملک گیر احتجاج پھوٹ پڑے اور امریکی دھمکیاں بڑھیں، تو سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے لاریجانی کو مکمل اختیارات دے دیے، اور صدر پزشکیان، جو اگست 2024 میں منتخب ہوئے تھے، کو کنارے کر دیا گیا۔

جنوری 2026 میں معاشی تباہی اور حکومت کی تبدیلی کے مطالبات پر ایران میں ملک گیر احتجاج ہوئے۔ لاریجانی نے کریک ڈاؤن کی قیادت کی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔ اس کے بعد امریکہ نے 15 جنوری کو لاریجانی پر پابندیاں عائد کیں، لیکن تہران میں یہ پابندیاں اعزاز کا نشان سمجھی گئیں۔

لاریجانی کی شخصیت متضاد تھی۔ وہ بیک وقت ایک دانشور اور سخت گیر شخص تھے۔ ان کی تقاریر فلسفیانہ حوالوں سے بھری ہوتی ہیں، لیکن ان کے فیصلے سخت ہوا کرتے تھے۔

ان کی موت سے ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ وہ ایک طاقتور شخص تھے جن کے اندر فیصلے کرنے کی صلاحیت تھی۔ مگر ان کے قتل سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ تنازع مزید طول پکڑتا جائے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *