جنگ ہو یا ہتھیاروں کا پھیلاؤ، میں احمقوں کی جنت میں رہتا تھا

ہتھیاروں کی مخالفت میں ساری زندگی کرتا رہا، پستول ہو، بندوق ہو، حتیٰ کہ لائسنس یافتہ ہی کیوں نہ ہو، میرا خیال تھا کہ انسان کو اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھنا چاہیے۔

دل سے سمجھتا تھا کہ کسی ملک کو بھی زیادہ اس دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہیے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اندر سے وائلنس کے خلاف تھا، اب بھی ہوں۔

لیکن اس سوچ کے ساتھ ایک مسئلہ تھا۔ عدم تشدد کے اس پورے فلسفے میں ایک بہت اہم بات فراموش ہو گئی تھی جس کا احساس مجھے پچھلے ایک دو سال میں چند بڑے واقعات کے بعد ہوا۔

پہلا واقعہ پاکستان پر انڈیا کا حملہ، دوسرا غزہ میں اسرائیل کی جارحیت، تیسرا ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ اور چوتھا ٹرمپ کا بیٹھے بٹھائے گرین لینڈ مانگ لینا۔

ان چاروں واقعات نے جنگ، ہتھیاروں، ایٹم بم اور کسی ملک کی جارحانہ فارن پالیسی پر میری سوچ بدل دی۔

وہ اہم بات یہ تھی کہ مجھ جیسوں نے سمجھ لیا تھا کہ اگر ہم تشدد نہیں کریں گے، جارحیت نہیں کریں گے، ایٹم بم نہیں بنائیں گے تو دوسرا بھی ایسا نہیں کرے گا۔ ہم امن چاہیں گے تو سب امن کی طرف آئیں گے۔ یہ ایسی سوچ تھی جسے اب میں دیکھتا ہوں تو اعتراف کرتا ہوں کہ میں احمقوں کی جنت میں رہ رہا تھا۔

موجودہ حالات میں اگر پاکستان جنگ سے محفوظ ہے، خاص طور پر گذشتہ ایک ڈیڑھ سال کے واقعات کے دوران، تو اس کے پیچھے ایک بنیادی وجہ اس کی سٹریٹیجک مضبوطی ہے، اور لاریب اس کی بنیاد ایٹمی طاقت ہونا ہے۔

یہ ایٹم بم کیسے بنا، مخالفت کس نے کی اور حمایتی کون تھا، یہ سب الگ بحثیں ہیں۔ ہر انسان کے پاس اس حوالے سے اپنا نظریہ ہے۔ لیکن میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جو سرے سے ان چیزوں کو جائز ہی نہیں جانتے تھے اور اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی۔

ریاستی سطح پر آپ جتنے مرضی پرامن ہوں، اپنی بقا کے لیے طاقت کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔

آپ گرین لینڈ والے معاملے کو دیکھ لیجیے۔ اس کے بعد پورے یورپ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ امریکہ کی وہ چھتری، جس کے نیچے وہ اپنی سکیورٹی کے لیے بیٹھے ہوئے تھے، عین بارش میں اڑ گئی۔

ہر وہ ملک جو سکیورٹی کے لیے امریکہ پر منحصر تھا آج دوبارہ سوچ رہا ہے۔

پاکستان کی خاص بات یہ تھی کہ دانشورانہ سطح پر کوئی پذیرائی نہ ہونے کے باوجود اس کی سکیورٹی پالیسی بڑی حد تک اپنی ہوا کرتی تھی، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کئی بڑے بحرانوں سے گزرنے کے باوجود اب تک بچا رہا۔

میری پوری نسل، جو خود کو ترقی پسند سمجھتی تھی، جسے اکثر ’لبرل‘ کہا جاتا تھا، وہ اس معاملے میں غلط تھی۔

جنگ یقیناً ایک بری چیز ہے۔ ہتھیار کبھی انسان دوست نہیں ہو سکتے۔ لیکن جہاں بقا کا سوال ہو، جہاں یہ خطرہ ہو کہ کوئی طاقت کسی بھی وقت لاکھوں لوگوں کو ایک غیر ضروری سنگین بحران میں مبتلا کر سکتی ہے، وہاں اپنی حفاظت کے لیے سب  بندوبست جائز ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی ریاست یہ کہے کہ بس ہمارے پاس ایٹم بم ہے، باقی کسی کے پاس نہیں ہونا چاہیے، تو یہ بھی انصاف نہیں ہے۔ سب کے پاس ہو یا پھر نہ ہو۔ اس معاملے میں کوئی پالیسی آپ کو تباہی سے نہیں بچا سکتی، سوری!

آج اقوام متحدہ کا کردار دیکھ لیں اور جمہوریت کے دعویدار ملکوں کا بھی۔

ایک جمہوری ملک یہ کر رہا ہے کہ اگر کسی ملک کا صدر پسند نہیں تو اسے اٹھا لو، کسی گروہ سے اختلاف ہے تو اس کے سکول تک تباہ کر دو، اس کے رہائشی علاقوں پر حملے کرو، اور یہ سب فیصلے ایسے لوگ کرتے ہیں جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کے آئے ہیں؟ کیا فرق ہے ان میں یا کسی وار لارڈ میں؟

اب بھی یہ سوال نہیں پیدا ہوتا کہ کیا واقعی جمہوریت، اقوام متحدہ، غیر ایٹمی دنیا اور عدم تشدد کے فلسفے وہی ہیں جو ہمیں پڑھائے گئے تھے؟ یا اصل نظام یہاں کچھ اور ہے؟

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انسان کی بنیادی فطرت آج بھی وہی ہے جو ہزاروں سال پہلے تھی فرق صرف اتنا آیا ہے کہ آج اس سارے عمل میں ٹیکنالوجی شامل ہو گئی ہے۔

فلسفہ یا کتابیں، عدم تشدد، اہنسا اور امن کی بہت سی خوبصورت باتیں بتاتے رہے لیکن اب ایڑھی گھما کر دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ زندگی کا بڑا حصہ نری خوش فہمی میں گزار دیا۔ محفوظ یہاں وہی ہے جس کے پاس طاقت ہے!

آخری بات یہ کہ اکثر کہا جاتا ہے جتنی مرضی جنگ کر لو فیصلہ مذاکرات کی میز پر ہونا ہے۔ یہ بھی درست نہیں ہے۔

مذاکرات کی میز پر بیٹھنے والے دو سربراہ کس حالت میں وہاں پہنچے ہیں، ان کی طاقت، ان کی پوزیشن کیا ہے، یہی چیز مذاکرات کے نتیجے کا تعین کرتی ہے۔

تو جنگ یقیناً بری چیز ہے، امن واقعی بہت ضروری ہے لیکن کوئی ملک کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھا رہے اور آخر میں سوچے کہ وہ بچ جائے گا، یہ خطرناک حماقت ہے۔

باقی، اگر ایک انسان دشمن دار معاشرے میں نہیں رہتا، قبائلی ماحول میں نہیں ہے تو محض اس خیال سے کہ شاید کبھی کوئی ایک چور گھر کے اندر آ جائے گا، اس لیے اپنے پاس پستول رکھ لینا، یہ مجھے اب بھی ٹھیک نہیں لگتا، یاد رکھیں، بندوق ہے تو اس نے چلنا بھی ہے، کہانی میں کوئی کردار بے مقصد نہیں ہوتا!

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *