’زندگی دربدری کے عذاب سے نکل چکی ہے۔ تھوڑی بہت رزق اور روٹی یہیں مل جاتی ہے تو اب گھر چھوڑ کر جانا نہیں پڑتا۔‘
یہ سندھ میں کھاروچھان کی رحیمہ سے ہمارا پہلا مکالمہ تھا۔ پہلے کیا ہوتا تھا؟ ہمارے اس سوال کے جواب میں رحیمہ نے تفصیل سے بتایا کہ ’پہلے ہماری زمینوں پر تھوڑی بہت فصل ہو جاتی تھی مگر پھر سمندر کے پانی نے زمینیں بنجر کر دیں تو مچھلی پکڑنے کا کام شروع کردیا۔
’کچھ مہینے مچھلی پکڑنے پر پابندی ہوتی ہے تو ہمارے لیے زندگی اور مشکل ہوجاتی ہے۔ ایسے میں ہم ان علاقوں کی جانب نقل مکانی کرتے ہں جہاں ہریالی ہو، فصلیں ہو، کچھ مزدوری بھی ملے اورزندگی چلتی رہے۔‘
یہ کہانی صرف رحیمہ کی نہیں بلکہ ہر اس شحص کی ہے جو سندھ کے ساحلوں کا باسی ہے۔ اپنے زمانے کے ان زرخیز اور خوش حال علاقوں میں اب صرف غربت اور بدحالی کا ڈیرہ ہے۔
دریا کے پانی کا یہاں نہ پہنچنا اصل بربادی کی وجہ بنا اور پھر موسمیاتی تبدیلی نے اسے ایسے بڑھاوا دیا کہ ڈیلٹا میں زندگی مشکل تر ہو گئی۔
جیسے جیسے دریائے سندھ میں پانی کی کمی ہوتی گئی، ڈیلٹا تک پانی پہنچنا کم ہوتا گیا تو سمندر کا پانی ان زرعی زمینوں کو نگلتا چلا گیا۔
پھر موسمیاتی تبدیلی کے تحت بارشیں، سیلاب، پینے کے پانی کی کمی اور روزگار کی عدم موجودگی سے ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہونے لگی۔
اگرچہ اس حوالے سے مستند اعداد وشمار موجود نہیں لیکن پھر بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق پچھلے 10 سالوں میں لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی جن میں سے کچھ مستقل طور پر نئے علاقوں میں آباد ہو گئے جبکہ کچھ حالات کے بہتر ہونے پر لوٹ آئے۔
ہجرت کی یہ داستان انڈس ڈیلٹا میں ہر جگہ ملے گی مگر حال ہی میں تیمر کے جنگلات میں جاری ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبے سے ان علاقوں میں کچھ بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں۔
تقریباً چھ لاکھ ہیکٹرز سے زائد رقبے پر دریائے سندھ کا تشکیل کردہ انڈس ڈیلٹا موجود ہے جس کے سنہری ساحلوں پر سبز سونا بکھرا ہوا ہے۔ یہ سونا تیمر کے وہ جنگلات ہیں جو اپنی ایکو سسٹم سروسز اور عالمی کاربن مارکیٹ میں شمولیت کی بدولت مزید قیمتی ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے ساحلوں پر موجود تیمر کے یہ جنگلات اپنے اندر اضافی کاربن انجذاب کی خصوصیات کی بنا پر بلیو اکانومی کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں اور اب عالمی کاربن مارکیٹ میں پاکستان کے لیے ڈالر کمانے کا مضبوط ذریعہ بن چکے ہیں۔
ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جس کے تحت تقریباً 40 ملین ڈالرز کا کاربن فروخت کیا جا چکا ہے۔
اس منصوبے کی خاص بات اس میں کمیونٹی کی بھرپور شمولیت ہے۔ بیج جمع کرنے، پودے لگانے یا نگہبان بن کر پودوں اور جنگلات کی حفاظت، یہ تمام کام مقامی آبادی کے نوجوان، بچوں اور خواتین کی ذمے داری ہے جس کے لیے انہیں معقول معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔
رحیمہ بھی ایک ایسی ہی خاتون ہیں جن کا پورا خاندان ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہے مگر جن دنوں مچھلی کے شکار پر پابندی ہوتی ہے، وہ کہتی ہیں فاقوں کی نوبت آجاتی ہے۔ ایسے میں مزدوری کی تلاش میں گھر چھوڑنا پڑتا تھا لیکن اب ایسا نہیں۔
وہ کہتی ہیں ’جن دنوں ہم لوگوں کو مچھلی نہیں ملتی تو ہم بیج جمع کرنے اور پودے لگانے کا کام کرتے ہیں، جس کے اچھے پیسے مل جاتے ہیں، بہت سی خواتین نرسری بھی بناتی ہیں جن کے پودے فارسٹ والے ہی خرید لیتے ہیں۔‘
رحیمہ جیسی بڑی تعداد میں خواتین اس منصوبے میں شامل ہو کر ایک بہتر زندگی کے راستے پر قدم رکھ چکی ہیں
ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبہ کیا ہے؟
سندھ حکومت نے 2015 میں انڈس ڈیلٹا میں ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبہ شروع کیا جو تیمر کے جنگلات کے حوالے سے دنیا کے سب سے بڑے بحالی پروگرامز میں سے ایک ہے۔
ڈیلٹا بلیو کاربن پروجیکٹ انڈس ڈیلٹا کیپیٹل لمیٹڈ اور سندھ فارسٹ ڈپارٹمنٹ کے درمیان پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کی ایک کامیاب مثال ہے۔
اس منصوبے کا دورانیہ 60 سال یعنی 2015 سے 2075 پر محیط ہے اور اندازہ 142 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ مینگروز کے ان جنگلات میں جمع اور فروخت ہوتی رہے گی۔
ڈویژنل فارسٹ آفیسر کوسٹل فارسٹ ڈویژن کراچی شہزاد صادق کے مطابق ابھی تک 3.21 ملین ٹن کاربن کریڈٹ انٹرنیشنل مارکیٹ میں فروخت ہو چکے ہیں جس سے 40 ملین سے زائد امریکی ڈالرز کی آمدن حاصل ہوچکی ہے۔
طویل المدتی ہدف کے طور پر یہ منصوبہ 2075 تک 12 ارب ڈالر حاصل کرنے اور 240 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی گیسوں کو ذخیرہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
یہ منصوبہ واضح کرتا ہے کہ ساحلوں پر موجود تیمر کے جنگلات کاربن مارکیٹ میں ایک ہائی ویلیو اور لو رسک اثاثہ ہیں کیونکہ یہ عام زمینی جنگلات کے مقابلے میں تین سے پانچ گنا زیادہ کاربن اپنی جڑوں اور مٹی میں محفوظ کرتے ہیں، جہاں کاربن دہائیوں بلکہ صدیوں تک محفوظ رہ سکتا ہے۔
اس منصوبے میں تقریباً 3.5 لاکھ ہیکٹر رقبے پر جنگلات کو بحال اور محفوظ کیا گیا۔
کاربن کریڈٹ کیا ہے؟
کاربن کریڈٹ دراصل ایک مالیاتی سرٹیفکیٹ ہوتا ہے اور ایک کاربن کریڈٹ کے مساوی ہے۔ ایک میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ یا اس کے برابر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار جو یا تو فضا میں جانے سے روکی گئی ہو یا فضا سے جذب کی گئی ہو۔
اگر سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو اگر کوئی منصوبہ (مثلاً مینگروز کی بحالی، جنگلات لگانا، قابلِ تجدید توانائی) ایک ٹن کاربن کے اخراج کو کم کرے یا جذب کرے تو اسے ایک کاربن کریڈٹ ملتا ہے جسے عالمی مارکیٹ میں فروخت کیا جا سکتا ہے۔
شہزاد صادق کے مطابق اگر تیمر کے درخت کی بات کی جائے تو کاربن درخت کے پورے ماس میں محفوظ ہوتی ہے۔ مثلا درختوں کے تنوں، پتوں، جڑوں اور مٹی میں بھی۔
ماہرین زمین کے نمونے لیتے ہیں، درختوں کی اونچائی اور قطر ناپتے ہیں اور مخصوص فارمولوں سے اندازہ لگاتے ہیں کہ ایک ہیکٹر میں کتنی کاربن محفوظ ہے۔
منصوبے کی تفصیل
شہزاد صادق کے مطابق اس وقت ہمارے تیمر کے جنگلات دو لاکھ ساٹھ ہزار ہیکٹرز پر مشتمل ہیں اور یہ رقبہ پچھلے 20 سالوں میں تین گنا بڑھا ہے۔
2008 میں سپارکو Space & Upper Atmosphere Research Commissionکی ایک سٹڈی کے مطابق اس وقت یہ جنگلات صرف ایک لاکھ سات ہزار ہیکٹرز پر مشتمل تھے لیکن مسلسل محنت اور حفاظتی اقدامات سے ان جنگلات کا رقبہ یہ تقریبا دگنے سے زیادہ ہوگیا ہے۔
کمیونٹی کی زمین کے حوالے سے شہزاد کا کہنا تھا کہ ڈیلٹا بلیو کاربن پروجیکٹ زون کی تمام زمین محکمہ جنگلات سندھ کی ہے۔ اس میں مقامی آبادی کی کوئی زمین شامل نہیں ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ تمام زمین محکمہ جنگلات کے قوانین کے تحت پروٹیکٹڈ (محفوظ) ہے۔
’لیکن ڈیلٹا بلیو کاربن کے اس منصوبے میں مقامی آبادی ابتدا ہی سے ہمارے ساتھ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مقامی آبادی کے بغیر کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔
اس پروجیکٹ کی تمام سرگرمیوں مثلا پودے لگانا، بیج جمع کرنا یا ان جنگلات اور خصوصا نئی شجرکاری کی حفاظت کرنا ہو مقامی لوگ ہمارے شانہ بہ شانہ کام کرتے ہیں۔ یہ ایک کامیاب کمیونٹی ماڈل ہے۔ اس مثال کو ہم دریائی جنگلات میں بھی دہرا رہے ہیں۔‘
کیٹی بندر ہی کے ایک اور گاﺅں کے رہائشی نوجوان کریم (فرضی نام) اس منصوبے سے بطور نگہبان وابستہ ہیں۔
نگہبانی کا یہ کام اگرچہ 24 گھنٹوں کا ہے لیکن وہ اپنے کام سے خوش ہیں۔ انہیں 30 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں جن سے ان کی بہت اچھی گزر اوقات ہوجاتی ہے۔
وہ نہ صرف تیمر کی نئی شجرکاری بلکہ موجود جنگلات کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے وہ اور ان جیسے بہت سے نوجوانوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پیسے تو مل ہی رہے ہیں مگر ’پہلی بار ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے یہ جنگلات ہمارے لیے کتنے اہم ہیں اور ہمیں ان کی حفاظت کرنی چاہیے۔
’اب شاید ہی کوئی جنگل سے لکڑی کاٹتا ہے۔ ہم ضرورت کے لیے ٹوٹی ہوئی شاخیں اور سوکھے پتے استعمال کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’ہمیں علم نہ تھا کہ جنگلات کی حفاظت سے ہمارے ماہی گیری کے روزگار پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔‘
شکیل میمن، تعلقہ کیٹی بندر کے ایک گاﺅں میں سکول ٹیچر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس منصوبے سے مقامی آبادی کو فائدہ مل رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں کیٹی بندر کی زمینیں بہت زرخیز تھیں جن پر کئی فصلیں بشمول لال چاول بڑی مقدار میں اگا کرتیں، مگر دھیرے دھیرے دریا میں میٹھا پانی کم ہوتا گیا اور سمندر آگے آتا رہا یوں یہ زرخیز زمینیں سمندر برد ہوگئیں اور لوگ غریب تر ہوگئے۔
’اگر تھوڑا بہت بھی کمیونٹی کو روزگار مل رہا ہے تو یہ بہترین ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کے گاﺅں کی آبادی اندازہ چھ ہزار ہے۔ 140 نوجوان نگہبان کے طور پر اس منصوبے میں ملازمت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ اس منصوبے میں کوئی ملازمت نہیں کرتے مگر بہت سے کام رضاکارانہ طور پر انجام دیتے ہیں۔ میڈیکل کیمپ وغیرہ لگتا ہے تو لوگوں کی آنے جانے میں مدد کرتا ہوں۔
اس کے علاوہ مقامی افراد کو آنکھوں کے ہسپتال سے بھی خصوصی سہولت فراہم کی گئی ہے اور ہزاروں لوگ اس سے مستفید ہوچکے ہیں۔
کیٹی بندر ہی ایک علاقے حسن اترادی کی بہت سی خواتین اس منصوبے میں کام کرتی ہیں۔
فاطمہ بھی ایسی ہی خواتین میں شامل ہیں جو اس منصوبے میں ابتدا ہی سے کام کر رہی ہیں۔ وہ تیمر کے جنگلات میں گرے ہوئے بیج جمع کرتی ہیں، اس میں ان کا پورا خاندان ہاتھ بٹاتا ہے۔
دلدل میں گرے ہوئے بیج مرد اٹھا کر لاتے ہیں، انہیں صاف کرنے اور چھانٹنے کا کام وہ کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گھر کے قریب تیمر کے پودوں کی نرسری بھی بنائی ہے۔
یہ پودے جنگلات والے خریدلے جاتے ہیں، اس سے انہیں اضافی آمدنی ہوجاتی ہے۔
ایک اور نوجوان عنایت جو اس منصوبے سے نگہبان کے طور پر واستہ ہیں، پہلے ماہی گیری کیا کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیمر کے جنگلات میں بہتری آنے سے پہلے مچھلی اور جھینگے کی پیداوار بڑھی ہے، علاقے کے لوگوں کا روزگار بڑھا ہے۔
’ماہی گیر سمندری طوفانوں اور تیز ہواﺅں میں اپنی کشتیاں ان ہی گھنے جنگلوں میں باندھ کر محفوظ رکھتے ہیں تو ان جنگلوں کا محفوظ ہونا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔‘
ماہر ماحولیات رفیع الحق ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبے سے چھ ماہ بطور کنٹری ڈائریکٹر پروگرامز اینڈ آپریشن وابستہ رہے ہیں۔ اس منصوبے کے ٹیکنیکل پہلو ان ہی کی ذمے داری تھی۔
رفیع صاحب کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے کئی مدارج تھے، اس کا اہم ترین مرحلہ عالمی مارکیٹ میں ویلیڈیشن یا توثیق تھی جس کے لیے انہوں نے ٹیم لیڈ کے طور کام کیا اور عالمی سطح پر تیمر کے جنگلات کی کاربن انجذاب کی صلاحیت کو منوایا۔
یقیناً اس کے ثمرات مقامی آبادی تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے مقامی آبادی کی اس منصوبے میں شمولیت کے حوالے سے بتایا کہ فشر مین کمیونٹی میں خواتین کو اپنے حدود و قیود اور تمام تر ثقافتی حساسیت کا خیال رکھتے ہوئے پیسے کمانے کا موقع مل رہا ہے۔
یہاں پورے خاندان کام کرتے ہیں اور یہ وقت ہوتا ہے جب ماہی گیری کی سرگرمیوں پر پابندی ہوتی ہے اور ان کے پاس کوئی اور کام نہیں ہوتا ہے۔
جسم و جاں کا تعلق برقرار رکھنے کے لیے یہ نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں لیکن اب کلائمیٹ مائگریشن میں کمی آئی ہے۔
ہجامڑو کریک اور دیگر کریکس میں بھی لوگ موجود ہیں، جو ماہی گیری کے ساتھ اس منصوبے میں بھی کام کررہے ہیں۔
پہلے بڑے پیمانے پر مائیگریشن ہوتی تھی، کیٹی بندر کے لوگ گھارو چلے جاتے تھے اور کھاروچھان کے لوگ چوہڑجمالی یا سجاول چلے جاتے تھے۔
بہت سے خاندان کراچی آکر آباد ہوجاتے تھے مگر اب صورت حال بدل رہی ہے۔
رفیع صاحب کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے حوالے سے ایک غلط فہمی کی وضاحت بہت ضروری ہے۔ یہ جنگلات بیچے نہیں گئے ہیں، جنگلات کی سروسز اور خدمات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔
اس میں کاربن کو جذب کرنے کی جو استعداد ہے وہ فروخت کی گئی ہے۔
تیمر کے جنگلات سمندری حیات کے لیے بطور نرسری یا پرورش گاہ کے طور پر کام کرتے ہیں، ان کی جڑوں میں بے شمار سمندری حیات بشمول، مچھلی، جھینگے، کیکڑے وغیرہ افزائش نسل کرتے ہیں۔
یہ جنگلات سمندری طوفانوں کے مقابلے میں ڈھال بن کر ایک حفاظتی دیوار کا کام کرتے ہیں، اس کے علاوہ ان جنگلات کی بے شمار خدمات ہیں جو محفوظ ہیں، صرف ان کی کاربن کو جذب کرنے کی صلاحیت کو فروخت کیا گیا ہے جسے کاربن کریڈٹ بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ کاربن کریڈٹ کا ماڈل اگر شفاف اور منصفانہ ہو تو یہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ماحولیاتی انصاف کی ایک نئی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
اس حوالے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کاشف علی کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ انڈس ڈیلٹا میں ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبہ فطرت پر مبنی کاربن فنانسنگ کی عالمی سطح پر ایک نہایت امید افزا مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
اس منصوبے میں تیمر کے جنگلات کی بحالی اور تحفظ کو بین الاقوامی طور پر تصدیق شدہ کاربن کریڈٹس کے اجرا کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور یہ پاکستان کے قومی سطح پر طے شدہ اہداف این ڈی سیز کی تکمیل میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
اس منصوبے کے ذریعے قابلِ ذکر مالی فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں اور مقامی سطح پر اس کے نمایاں مثبت اثرات بھی دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا، متبادل ذرائع معاش کی تقویت، اور کمیونٹی کی بنیادی سہولیات و انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوائد کی تقسیم کے کسی واضح، باقاعدہ اور عوامی طور پر دستیاب طریقہ کار کی عدم موجودگی شفافیت سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اگر کاربن مارکیٹس کو اپنی ساکھ اور اعتماد برقرار رکھنا ہے تو ضروری ہے کہ فوائد کی منصفانہ تقسیم کے لیے ایک باقاعدہ، شفاف اور جوابدہ فریم ورک وضع اور عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
مقامی تحفظات
انڈس ڈیلٹا ہی کے رہائشی محمد اقبال مکینیک کا جو کشتیوں کے انجن بناتے ہیں کہنا ہے کہ اگر ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبہ تیمر کے جنگلات سے کما رہا ہے تو کمیونٹی کو اور سہولت دینی چاہیے مثلا تعلیم کے حوالے سے کام کرے۔
پڑھانے والے ٹیچرز قابل رکھے جائیں تاکہ معیاری تعلیم حاصل ہو اور نقل کا کلچر ختم ہو۔
’آغا خان بورڈ کے تحت امتحان لیے جائیں، اسی صورت میں نئی نسل بہتر مستقل کی جانب بڑھے گی۔‘
ایک اور صاحب نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بتای، اگر ادارے ان جنگلات سے کروڑوں کما رہے ہیں تو اسی حساب سے کمیونٹی کا حصہ بھی بڑھایا جائے۔
چھ ہزار کی آبادی کے لیے صرف ایک ایمبولینس ہے، ہسپتال موجود ہے مگر کوئی سہولت نہیں ہے۔ اسے اپ گریڈ کیا جائے۔
ایک اور خاتون حسنہ بی بی نے بتایا کہ خواتین ڈیلیوری کے دوران ایک عام الٹرا ساﺅنڈ پر 10 ہزار روپے خرچ کرتی ہیں۔ سادہ الٹرا ساﺅنڈ 400 روپے کا ہوتا ہے اور کراچی آنے جانے کا کرایہ 10 سے 12 ہزار لگ جاتا ہے تو یہ الٹراساﺅنڈ ہمیں 11، 12 ہزار میں پڑتا ہے۔
اگر یہ کمپنی والے ہسپتال میں یہ سہولت مہیا کردیں تو خواتین کی زندگی آسان ہو جائے۔ آخر الٹرا ساﺅنڈ مشین کتنے کی ٓاتی ہے؟ حسنہ بی بی کا سوال تھا۔
شکیل میمن کا کہنا ہے کہ سکول میں بجلی نہیں ہے لہذا میرے سکول کا کمپیوٹر لیب تباہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ غربت کے باعث بچے سکول نہیں آتے کیونکہ ان کے گھر والے شکار پر بھیج دیتے ہیں کہ وہ اپنے لیے دو چار مچھلیاں پکڑ لائے گا۔
ان بچوں اور والدین کو کوئی ترغیب دی جائے جس سے وہ بچوں کو سکول بھیج سکیں۔ تعلیم ہی سے اس علاقے کے حالات بدل سکتی ہے۔
زرینہ بی بی کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پینے کا صاف پانی نہیں ہے لہذا بچے پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں، میڈیکل کیمپ لگتا ہے مگر کافی نہیں ہے۔
شکیل میمن کے نزدیک ماہی گیروں کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ ’ان کے پاس کولڈ سٹوریج نہیں ہے، انہیں ویلیو ایڈیشن سکھائی جاسکتی ہے، وہ ابھی تک پرانے انداز میں مڈل مین کو مچھلیاں بیچتے ہیں۔ یہ مڈل مین ان کی آمدنی کا بڑا حصہ خود رکھ لیتا ہے۔‘
یہ حقیقت ہے کہ ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبے سے پاکستان عالمی کاربن مارکیٹ میں اپنی جگہ بناچکا ہے لیکن مقامی سطح پر اصل تبدیلی تب ہی نظر آئے گی جب اس کے ثمرات مساوی طور پر مقامی آبادی تک منتقل ہوں گے۔
ساحلوں سے اٹھنے والی ان آوازوں پر جتنی جلدی توجہ دی جائے بہتر ہوگا۔
