شمالی کوریا نے 10 سے زیادہ میزائل داغ دیے: جنوبی کوریا

جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے ہفتے کو 10 سے زیادہ بیلسٹک میزائل سمندر میں داغے ہیں۔

شمالی کوریا کی جانب سے یہ میزائل ایسے وقت میں داغے گئے جب امریکہ اور جنوبی کوریا کی افواج مشقوں میں مصروف تھیں جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیانگ یانگ کو بات چیت کے لیے دوبارہ پیشکش کر چکے ہیں۔

جاپان کے کوسٹ گارڈ نے کہا کہ اس نے ایک ایسی چیز کا پتہ لگایا، جو ممکنہ طور پر بیلسٹک میزائل تھا جو سمندر میں جا گرا۔ سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے نے فوج کے حوالے سے کہا کہ بظاہر یہ میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرا۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ایک بیان میں کہا کہ یہ میزائل دارالحکومت پیونگ یانگ کے قریب ایک علاقے سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً ایک بج کر 20 منٹ پر ملک کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی طرف داغے گئے۔

شمالی کوریا دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جوہری ہتھیار پہنچانے کے ذرائع تیار کرنے کی کوشش میں طرح طرح کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے تجربات کرتا آ رہا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایسے ہتھیار کامیابی سے بنا چکا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی وجہ سے 2006 سے پیانگ یانگ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کئی پابندیاں عائد ہیں، لیکن تجارت، معیشت اور دفاع کے شعبوں میں شدید رکاوٹیں پیدا ہونے کے باوجود وہ اب بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

جنوبی کوریا اور واشنگٹن نے اس ہفتے جنوبی کوریا میں اپنی سالانہ بڑی مشقیں شروع کیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد شمالی کوریا کی فوجی دھمکیوں کے مقابلے کے لیے تیاری جانچنا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کے سینکڑوں فوجیوں نے ہفتے کو دریا عبور کرنے کی مشقیں کیں، جن میں ٹینک اور بکتر بند جنگی گاڑیاں بھی شامل تھیں اور ان مشقوں کی نگرانی ان کی مشترکہ افواج کے کمانڈر نے کی۔ جنوبی کوریا میں امریکہ کے تقریباً ساڑھے 28 ہزار فوجی اور لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن تعینات ہیں۔

شمالی کوریا اکثر ایسی مشقوں پر غصے کا اظہار کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ اتحادیوں کی طرف سے اس کے خلاف مسلح جارحیت کی ’پیشگی جنگی مشق‘ ہیں۔

جمعرات کو جنوبی کوریا کے وزیراعظم کم من سوک نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تاکہ شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ جنوبی کوریا کے کم نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کا کوئی بھی موقع حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *