سلمان علی آغا کے انوکھے ’رن آؤٹ‘ پر سپورٹس مین سپرٹ پر سوال

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جمعے کو میرپور میں جاری دوسرے ایک روزہ میچ میں صورت حال اس وقت دلچسپ ہو گئی جب پاکستانی بلے باز سلمان علی آغا کو انوکھے انداز میں رن آؤٹ کر دیا گیا۔

میچ کی پہلی اننگز کے 39ویں اوور میں بنگلہ دیشی کپتان مہدی حسن میراز محمد رضوان کو بولنگ کرا رہے تھے، ایسے میں محمد رضوان نے بولر کی جانب واپس شاٹ کھیلی اور گیند بولر اور سلمان علی آغا دونوں سے ٹکرا کر رک گئی۔

اسی دوران سلمان علی آغا بظاہر جھک کر گیند کو اٹھانے کی کوشش کرتے دکھائی دیے لیکن بولر مہدی حسن میراز گیند کو فوراً سے اچک کر وکٹوں کی جانب سے پھینک کر بیلز اڑا دیتے ہیں۔

اس سب میں سلمان علی آغا بظاہر ناقابل یقین صورت حال سامنے آنے پر حیران دکھائی دیتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ بنگہ دیشی کپتان سے پوچھ رہے ہیں کہ ’یہ کیا کیا؟‘

جس کے جواب میں بنگہ دیشی کپتان بظاہر انہیں یہی بتاتے نظر آرہے ہیں کہ آپ کریز سے باہر تھے اس لیے میں نے آپ کو آؤٹ کر دیا۔

فیلڈ امپائر اس فیصلے کو تھرڈ امپائر کی جانب ریفر کرتے ہیں جو ایک مختصر نظرثانی کے بعد سلمان علی آغا آؤٹ قرار دے دیتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس کے بعد سلمان علی آغا میدان سے باہر آتے ہوئے اپنا ہیلمٹ اور گلوز بظاہر غصے میں پھینکتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس فیصلے پر کمینٹری باکس میں بیٹھے رمیز راجہ بھی یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’قوانین کے تحت یہ آؤٹ تو ہے لیکن سپورٹس مین سپرٹ کو اس سے زک پہنچی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بلے باز نے سوچا کہ میں گیند اٹھا کے بولر کو پکڑا دیتا ہوں لیکن بولر کو لگا کہ یہ رن آؤٹ کرنے کا اچھا موقع ہے۔ آپ کو سلمان آغا سے ہمدردی ہونی چاہیے۔‘

اس صورت حال پر سوشل میڈیا صارفین بھی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

سلمان نامی صارف نے لکھا ’مہدی حسن میراز کی جانب سے بدترین سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ۔‘

عواب علوی نامی صارف نے لکھا کہ’بنگلہ دیش کی جانب سے بدترین سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ، یہ منکڈ جیسا ہی ہے۔‘

کانی یار نامی صارف نے لکھا کہ ’تھیوری کے مطابق آغا کو خود کو بچانا چاہیے تھا، کبھی کبھی لگتا ہے ہمارے کھلاڑی بہت بھولے ہیں۔ آپ سب سے اس سپورٹس مین سپرٹ کی توقع نہیں رکھ سکتے جو آپ خود اپنا رہے ہوتے ہیں۔ کوئی اچھا کپتان ہوتا تو ان کو واپس بلا لیتا، لیکن آج ایسا نہیں ہوا۔‘

 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *