کیا خانپور کا گاؤں گرم تھون، سینٹ ٹامس کے نام پر ہے؟

اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 کے ساتھ ایران ایونیو ہے جو مارگلہ ہلز سے ہوتا ہوا جی ٹی روڈ سے جا ملتا ہے۔ ایران ایونیو کے ساتھ مارگلہ ہلز کے دامن میں ایک تاریخی گاؤں شاہ اللہ دتہ واقع ہے جہاں بدھا کے تاریخی غار موجود ہیں۔

انہی غاروں سے ایک قدیم سڑک مارگلہ ہلز کے بیچوں بیچ خان پور ڈیم سے ہوتی ہوئی ٹیکسلا جا نکلتی ہے جسے سکندر اعظم روڈ کہا جاتا ہے۔ اس روڈ پر پہاڑ میں ایک تاریخی باؤلی بھی ہے جسے شیر شاہ سوری کے دور سے موسوم کیا جاتا ہے۔

جب یہ سڑک بل کھاتی ہوئی خان پور کی طرف اترتی ہے تو ایک ڈھلوان پر ایک نہایت خوبصورت گاؤں گرم تھون واقع ہے۔ کچھ مسیحی مبلغین اور تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ یہ وہی گاؤں ہے جہاں کم و بیش دو ہزار سال پہلے حضرت عیسیٰ کے حواری سینٹ ٹامس آئے تھے۔

سینٹ ٹامس کون تھے؟

سینٹ ٹامس حضرت عیسیٰ کے 12 حواریوں میں سے ایک تھے جن کی پیدائش پہلی صدی عیسوی میں گلیل یہودیہ میں ہوئی۔ جب حضرت عیسیٰ دوبارہ زندہ ہوئے تو سینٹ ٹامس واحد حواری تھے جنہوں نے اس واقعے پر یقین نہیں کیا تاوقتیکہ انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے حضرت عیسیٰ کے زخموں کو دیکھ نہیں لیا۔ اس لیے انہیں مسیحی کتابوں میں ’شک کرنے والا‘ کہا گیا۔

اس طرح سینٹ ٹامس وہ پہلے شخص بن گئے جنہوں نے واضح طور پر حضرت عیسیٰ کی الوہیت کا اعتراف کیا۔ مسیحی روایات کے مطابق انہوں نے مشرقی ملکوں میں تبلیغ کے لیے سفر کیا اور ہندوستان تک آئے جہاں انہیں 72 میں چینائی مدراس کے قریب قتل کر دیا گیا جہاں آج بھی St. Thomas Mount کے نام سے وہ مقام موجود ہے جہاں تاریخی سینٹ ٹامس کیتھڈرل بھی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سینٹ ٹامس کو ایشیا میں عیسائیت کے ابتدائی مبلغین میں سے ایک مانا جاتا ہے لیکن بعض تاریخ دان اس پر یقین نہیں رکھتے۔ چوتھی صدی کے ایک بشپ Eusebius of Caesarea کے مطابق انہوں نے پارتھیا موجودہ خراسان میں تبلیغ کی۔ تاہم بعد کی مسیحی روایات کے مطابق سینٹ ٹامس نے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا دائرہ ہندوستان تک پھیلا دیا تھا مالابار میں آج بھی ان کے ماننے والے موجود ہیں۔ تاہم ان کے تبرکات اٹلی کے شہر اورٹانا میں محفوظ کیے گئے ہیں۔

ٹیکسلا کی لوک کہانیوں میں سینٹ ٹامس موجود ہیں

ٹیکسلا کی قدیم کہانیاں جو سینہ بہ سینہ چلی آتی ہیں ان میں ایک لوک کہانی سینٹ ٹامس سے متعلق بھی ہے۔ کیتھڈرل ہائر سکینڈری سکول لاہور کے پرنسپل اور بشپ آف حیدر آباد ایس کے داس نے اپنی کتاب ’تاریخ کلیسائے پاکستان‘ میں سینٹ تھامس کے ٹیکسلا آنے کی روایات اکٹھی کی ہیں۔

ایک روایات کے مطابق سینٹ ٹامس ٹیکسلا بھی آئے تھے اور جب وہ یہاں پہنچے تو سرکپ کے حکمران گونڈو فارس نے انہیں بتایا کہ وہ اپنے لیے ایک ایسا شاندار محل تعمیر کرنا چاہتا ہے جو بیت المقدس کی عمارات سے مشابہ ہو۔

سینٹ ٹامس نے پیشگی معاوضے کے طور پر خطیر رقم لے لی جسے بادشاہ کے محل سے نکلتے ہی انہوں نے فقیروں میں بانٹ دیا۔ جب بادشاہ کو یہ علم ہوا تو انہوں نے سینٹ ٹامس سے باز پرس کی۔ سینٹ ٹامس نے جواب دیا کہ یہ رقم بادشاہ نے معاوضے کے طور پر دی تھی اب وہ جسے چاہیں دے دیں بادشاہ کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

بادشاہ کو شدید غصہ آیا اور اس نے سمجھا کہ یہ بندہ مجذوب ہے اور محل تعمیر نہیں کر سکے گا اس لیے بادشاہ نے سینٹ ٹامس کو قید میں ڈال دیا۔ رات کو بادشاہ نے خواب دیکھا کہ جنت میں ایک شاندار محل ہے جب بادشاہ دریافت کرتا ہے کہ یہ کس کا ہے تو جواب دیا گیا کہ یہ گونڈو فارس کا محل ہے جسے انہوں نے سینٹ ٹامس سے بنوایا ہے۔

صبح اٹھتے ہی بادشاہ نے نہ صرف سینٹ ٹامس کو رہا کر دیا بلکہ ان سے ان کے مذہبی عقائد کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ ایک روایت ہے کہ گونڈو فارس نے سینٹ ٹامس کے نام پر مسیحیت قبول کر لی تھی۔

گرم تھون کی وجہ تسمیہ کیا واقعی سینٹ ٹامس سے ہے؟

جان رومنے کو پاکستان، ملائیشیا اور کینیا میں مسیحی تاریخ کا مستند حوالہ مانا جاتا ہے ان کی ایک کتاب ’Shadows in the Dark‘ ہے جس میں پاکستانی مسیحیوں کی دسویں صدی تک کی تاریخ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب کرسچین سٹڈی سینٹر راولپنڈی نے 1984 میں شائع کی تھی

اس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’ٹیکسلا میں تین سٹوپا ایسے ہیں جن میں مسیحی روایت جھلکتی ہے اور کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سینٹ ٹامس نے خود تعمیر کروائے تھے۔ سرکپ کے نزدیک ایک گاؤں ’گرم توما‘ ہے جس کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی نسبت سینٹ ٹامس سے ہے جس کے لیے وہ ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک بار شمالی علاقوں میں ایک وبا پھیل گئی اس وبا میں صرف ایک گاؤں ایسا تھا جو بچ گیا کیونکہ یہاں سینٹ ٹامس نے قیام کیا تھا جس کی وجہ سے اس کا نام ’کرم توما‘ پڑ گیا جو بعد میں ’گرم تھوما‘ اور اب بنتے بگڑتے گرم تھون ہو گیا ہے۔‘

سید ذیشان نقوی جو اسلام آباد کے ڈپٹی میئر بھی رہ چکے ہیں ان کا آبائی تعلق بھی اسی گاؤں سے ہے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’گاؤں کا قبرستان سینکڑوں سال قدیم ہے جس سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ صدیوں سے آباد ہے۔ ہم بھی بزرگوں سے یہی سنتے آئے ہیں کہ یہ کسی انگریز کے نام پر ہے ہو سکتا ہے کہ یہ سینٹ ٹامس ہی ہوں۔‘

تاہم ماہرین لسانیات نے اس حوالے سے ابھی کوئی دوٹوک جواب نہیں دیا کہ دو ہزار سال پہلے ٹیکسلا کے رہنے والے پنجابی جیسی کوئی زبان بولتے تھے۔

سرکپ کی کھدائیوں سے ملنے والے ’ٹیکسلا کراس‘ کے نشان کو بھی ماہرین سینٹ ٹامس سے جوڑتے ہیں جسے یونائیٹڈ چرچ آف پاکستان نے اپنے ایمان اور ورثے کے طور پر اپنا لیا ہے۔

اسی طرح کا کراس سکردو کے پہاڑوں میں بھی ملا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان و پاکستان میں مسیحی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *