سعودی عرب اور پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں ماہ رمضان میں مسلمان عبادت گزاروں کے لیے مسجد اقصی کے دروازوں کو بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ اس بندش کو ختم کیا جائے۔
اسرائیل نے مسجد اقصی کو عبادت گزاروں کے لیے مسلسل بند کر رکھا ہے۔
آٹھ اسلامی ممالک، جن میں سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکی شامل ہیں، کے وزرائے خارجہ نے بدھ کو ایک مشترکہ اعلامیے میں ماہ رمضان میں ’اسرائیلی قابض حکام‘ کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے دروازوں کو مسلمان عبادت گزاروں کے لیے بند رکھنے کے مسلسل اقدام کی مذمت کی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مسجد اقصیٰ کے دروازوں کی بندش ختم کرے، مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد پابندیاں ہٹائے، اور مسلمان عبادت گزاروں کو مسجد تک پہنچنے سے روکنے سے باز رہے۔
#Statement | The Foreign Ministers of the Kingdom of Saudi Arabia, the Hashemite Kingdom of Jordan, the United Arab Emirates, the State of Qatar, the Republic of Indonesia, the Islamic Republic of Pakistan, the Arab Republic of Egypt, and the Republic of Türkiye condemn Israeli… pic.twitter.com/FyDh3rbCcG
— Foreign Ministry (@KSAmofaEN) March 11, 2026
بیان میں کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے ’قدیم شہر اور اس کے عبادت گاہوں تک رسائی پر عائد سکیورٹی پابندیاں، اور قدیم شہر میں موجود دیگر عبادت گاہوں تک رسائی پر امتیازی اور من مانے انداز میں عائد پابندیاں، بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جن میں بین الاقوامی انسانی قانون، تاریخی اور قانونی حیثیتِ موجودہ (سٹیٹس کو)، اور عبادت گاہوں تک بلا رکاوٹ رسائی کے اصول شامل ہیں۔‘
وزرائے خارجہ نے نے اس غیر قانونی اور بلا جواز اقدام کو مکمل طور پر مسترد کرنے اور اس کی مذمت کرنے کی توثیق کی، اسی طرح مسجد اقصیٰ میں اور عبادت گزاروں کے خلاف اسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیز کارروائیوں کی بھی مذمت کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس یا ’اس کے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر اسرائیل کی کوئی حاکمیت نہیں ہے۔‘
وزرائے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا علاقہ ’ صرف مسلمانوں کے لیے عبادت کی جگہ ہے، اور یہ کہ بیت المقدس اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ، جو اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ ہے، بابرکت مسجد اقصیٰ کے معاملات کے انتظام اور اس میں داخلے کو منظم کرنے کا واحد قانونی اختیار رکھنے والا ادارہ ہے۔‘
انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایک مضبوط مؤقف اختیار کرے جو اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں اور غیر قانونی اقدامات کو روکنے پر مجبور کرے، اور ’ان مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزیوں کو بھی ختم کرائے۔‘
