ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 13ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔
12ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں
صبح نو بج کر 10 منٹ: پاکستان کی جانب سے بحرین اور روس کی قرارداد کی حمایت
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے مطابق پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نےکہا کہ پاکستان نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ’متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں سے دو پاکستانی جان سے گئے جب کہ ایران پر حملوں نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘
سلامتی کونسل سے خطاب میں عاصم افتخار نے امید ظاہر کی کہ خلیجی ممالک کی سرزمین پر حملے فوری طور پر بند ہوں گے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان ممالک کو جنگ کے بدترین نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان ان کی حکومتوں اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان روسی فیڈریشن کی جانب سے پیش مسودہ قرارداد کو بھی مثبت نظر سے دیکھتا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روسی قرارداد کا بنیادی مقصد فریقین پر زور دینا ہے کہ وہ فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند کریں، مزید کشیدگی سے گریز کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں- یہ مؤقف پاکستان کے مجموعی مؤقف کے عین مطابق ہے۔
صبح 8 بج کر 55 منٹ: امریکہ کو ایران میں کام مکمل کرنا ہو گا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران ’شکست کے دہانے‘ پر پہنچ چکا ہے، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی افواج حملے اس حد تک بڑھا سکتی ہیں کہ ملک کو دوبارہ تعمیر کرنا ’تقریباً ناممکن‘ ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے کہا کہ ’وہ تقریباً آخری حد تک پہنچ چکے ہیں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم تہران اور دوسری جگہوں کے ایسے حصوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں کہ ان کے لیے اپنے ملک کو دوبارہ تعمیر کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا، اور ہم یہ نہیں چاہتے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کو ایران میں ’کام مکمل کرنا‘ ہو گا، یہ بات انہوں نے اس کے چند گھنٹے بعد کہی جب انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے کیوں کہ واشنگٹن کے پاس نشانہ بنانے کے لیے اہداف ختم ہو گئے تھے۔
ٹرمپ نے کینٹکی کے شہر ہیبرون میں ایک خطاب کے دوران ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’ہم جلدی نہیں جانا چاہتے، ہے نا؟ ہمیں کام مکمل کرنا ہو گا، ٹھیک ہے؟‘
