صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلعے شمالی وزیرستان میں پولیس نے بتایا کہ جمعے کی شام ایک چیک پوسٹ کے قریب دھماکے میں ایک شخص جان سے گیا جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 16 افراد زخمی ہو گئے۔
شمالی وزیرستان پولیس کے اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ میران شاہ کے مصروف روڈ پر چشمہ چیک پوسٹ کے قریب ہوا۔ اہلکار کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ تاہم یہ دھماکہ اس وقت پر ہوا جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے آج ہی ’خیبر‘ کے نام سے تازہ کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
پاکستانی حکومت نے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
شمالی وزیرستان میں اتحادالمجاہدین نامی اتحاد، جس میں حافظ گل بہادر کا دھڑا بھی شامل ہے، ماضی میں مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسلام آباد، افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، تاہم کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
افغانستان کی جانب سے پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں سرحدی کارروائی شروع ہونے کے بعد گذشتہ جمعرات سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔
اسلام آباد نے اس کے جواب میں سرحدی علاقوں میں جوابی کارروائیاں کیں اور نئے فضائی حملے بھی کیے، جن میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سابق امریکی فضائی اڈہ بگرام، دارالحکومت کابل اور جنوبی شہر قندھار شامل ہیں۔
جمعرات کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے بتایا کہ سرحد پر جاری لڑائی کے باعث ایک لاکھ سے زیادہ افغان اور ہزاروں پاکستانی اپنے گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق ’افغانستان اور پاکستان کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے کیونکہ سرحد کے ساتھ فعال لڑائی جاری ہے اور دونوں ممالک میں اندرونی نقل مکانی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔‘
ادارے نے خبردار کیا کہ ’اندازاً افغانستان میں 115,000 افراد اور پاکستان میں تقریباً 3,000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔‘
