اسرائیل اور امریکہ نے جس طرح ایران پر حملہ کیا اور سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا، اس سے کئی سنگین سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
مثلاً کیا انٹرنیشنل لا اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جنگ کے دوران کسی ریاست کے سربراہ کو مار دیا جائے؟َ کیا جنگوں کی جدید تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا ہے؟ کیا بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ریاست کا سربراہ ایک جائز جنگی ہدف سمجھا جا سکتا ہے یا اسے نشانہ بنانا ایک سنگین جنگی جرم ہے؟
اگر یہ جنگی جرم ہے تو اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کے خلاف کیا کوئی کارروائی ہو سکتی ہے؟ اگر ہو سکتی ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے اور اگر نہیں ہو سکتی تو پھر اس انٹرنیشنل لا کی افادیت کیا ہے؟ اس پر مزید کوئی بات کرنی چاہیے یا اب اس دنیا میں انٹرنیشنل لا کی بات کرنا اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے؟
جنگ کے حوالے سے بین الاقوامی قانون بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
پہلا حصہ یہ بتاتا ہے کہ کب اور کن حالات میں جنگ کی جا سکتی ہے اور جنگ کون کر سکتا ہے۔ یعنی کون سی جنگ جائز تصور ہو گی اور کون سی ناجائز۔
دوسرا حصہ یہ بتاتا ہے کہ جنگ بھلے جائز طریقے سے لڑی جا رہی ہو یا ناجائز طریقے سے، چند اصول ایسے ہیں کہ جن کی پابندی کرنا ہر ایک پر فرض ہے۔ حتیٰ کہ اگر کسی ملک نے ان اصولوں کو تسلیم نہ کیا ہو پھر بھی اس پر لازم ہے کہ ان پر عمل کرے۔ انحراف کی کوئی صورت ہی نہیں۔
بین الا قوامی قانون کی رو سے امریکہ اور اسرائیل کی یہ جنگ بھی ناجائز ہے اور اس جنگ میں ایران کے سپریم لیڈر کا قتل بھی ناجائز ہے۔ یہ دونوں اقدام بین الاقوامی قانون کی نظر میں جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
آئیے اس کا مختصر ترین جائزہ لیتے ہیں:
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انٹر نیشنل لا کی روشنی میں جائز جنگ وہ ہوتی ہے جو دفاع میں لڑی جائے یا وہ جنگ جائز ہوتی ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چارٹر کے تقاضے پورے کرتے ہوئے لڑنے کا اعلان کرے۔
امریکہ اور اسرائیل کی یہ جنگ ان دونوں معیارات پر پورا نہیں اترتی۔ نہ یہ حق دفاع ہے (کیونکہ ابھی تک ایران نے ان دونوں ممالک پر حملہ نہیں کیا تھا اور حملے کی غیر موجودگی میں دفاعی جنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا) اور نہ ہی اقوام متحدہ نے امریکہ اور اسرائیل کو ایسا کوئی مینڈیٹ دے رکھا ہے کہ وہ چاہیں تو ایران پر چڑھ دوڑیں۔
اسرائیل خود ایک ایٹمی قوت ہے، وہ کسی دوسرے ملک پر یہ فرد جرم کیسے عائد کر سکتا ہے کہ وہ ایٹمی قوت بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی طرح امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال کیا ہے۔ فرد جرم کا مستحق اگر کوئی ہے تو وہ امریکہ خود ہے۔
اب آئیے دوسرے سوال کی جانب کہ کیا اس جنگ میں ایرانی سپریم لیڈر کو ایک جائز ہدف تصور کیا جا سکتا تھا؟ انٹرنیشنل لا بڑی وضاحت کے ساتھ اس سوال کا جواب نفی میں دیتا ہے۔
کسٹمری انٹرنیشنل لا اس ضمن میں چند اصول وضع کرتا ہے:
- حملہ صرف عسکری ٹارگٹ پر کیا جا سکے گا۔
- عسکری اہداف اور عام شہری املاک میں فرق رکھنا لازم ہے۔
- حملے کے دوران شہری آبادی کو بچانا لازم ہے۔
- حملے صرف جنگجوؤں اور فوج پر ہو سکتے ہیں۔
ہیگ قوانین برائے فضائی جنگ میں لکھا ہے کہ فضائی بمباری صرف عسکری ٹارگٹ پر کی جا سکتی ہے، شہری املاک اور شہریوں پر نہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر نہ مسلح فوجی تھے، نہ ہی وہ جائز عسکری ہدف تھے۔ وہ ریاست کے سربراہ تھے، گھر پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے۔ ان پر حملہ اوپر دیے گئے تمام قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے کہ کسٹمری انٹرنیشنل لا کی خلاف ورزی کو جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔
1945 میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، شمالی آئر لینڈ اور سوویت سوشلسٹ ری پبلک حکومتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں جو انٹرنیشنل ملٹری ٹربیونل بنا تھا، اس نے بھی کسٹمری انٹرنیشنل لا کی خلاف ورزی کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس جنگی جرم کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی ممکن ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔
سلامتی کونسل میں ویٹو کا بندوبست ایسا ہے کہ کسی طاقتور ملک کو یا کسی طاقتور ملک کے کسی چہیتے کو کٹہرے میں لانا ممکن نہیں۔
اقوام متحدہ کہنے کو تو بین الاقوامی مساوات اور برابری کے اصول پر کھڑی ہے لیکن عملاً یہاں جارج آرول کے ’اینیمل فارم‘ جیسی صورت حال ہے اور ویٹو پاور والے ممالک کچھ زیادہ ہی برابر ہیں۔
تو اگر جنگی جرائم کا مرتکب ملک بہت طاقتور ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جرم جرم نہیں رہتا؟ اس سوال کا جواب بھی ظاہر ہے کہ نفی میں ہے۔
قانون کا نفاذ ممکن نہ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ جرم اب جائز ہو گیا ہے۔ جرم جرم ہی رہے گا اور مجرم مجرم ہی رہے گا۔
انٹرنیشنل لا بہرحال قانون ہے۔ اس پر عمل درآمد مشکل سہی، پھر بھی اس کی افادیت مسلمہ ہے۔ اس پر بات ہونی چاہیے اور دنیا کے شعور اجتماعی کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کب، کہاں اور کس نے قانون توڑا اور کب کہاں اور کون جنگی جرائم کا مرتکب ہوا۔
یہاں تک کہ وقت کا موسم کبھی بدل جائے، انٹرنیشنل لا کی قوتِ نافذہ بحال ہو جائے اور جنگی جرائم کے مرتکب کٹہرے میں کھڑے کر دیے جائیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
