ایران پر حملہ: صدر ٹرمپ کے خلاف کانگریس اور عوام میں مخالفت شدت اختیار کر گئی

امریکہ میں صدر ٹرمپ کی ایران پر فوجی حملوں کے خلاف سیاسی اور عوامی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے علاوہ خود صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت رپبلکن پارٹی کے ارکان نے بھی جنگ کے خلاف آواز اٹھائی ہے جب کہ عوامی رائے عامہ کے جائزوں میں عوام کی اکثریت جنگ کے خلاف ہے۔ 

ورجینیا کے ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر انتظامیہ نے ایران پر حملہ کرنے کی کئی وجوہات بتائی ہیں، جن میں پہلے اس کا جوہری پروگرام تباہ کرنا، پھر اس کے بیلسٹک میزائل کی تیاری ختم کرنا، اس کی حکومت تبدیل کرنا اور اب اس کے بحری بیڑے کو غرق کرنا شامل ہے۔

وار پاور ریزولوشن

امریکی کانگریس کا رواں ہفتے اجلاس ہو رہا ہے جس میں سینیٹ کی وار پاورز ریزولوشن اور ایوانِ نمائندگان میں دو قراردادوں پر غور کیا جائے گا جن کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اختیار کو محدود کرنا ہے جس کے تحت وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو وسعت دے سکتے ہیں۔

امریکی حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹم کین کی زیرِ قیادت سینیٹ کی قرارداد میں 1973 کی وار پاورز ریزولوشن کا حوالہ دیا گیا ہے، جسے ویت نام جنگ کے دوران صدارتی جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔

اگر یہ قرارداد منظور ہو گئی تو اس کے تحت ضروری ہو گا کہ جب تک کہ کانگریس منظوری نہ دے، ایران کے خلاف جنگ بند کر دی جائے۔

سینیٹر ٹم کین سینیٹ کی آرمڈ سروسز اور فارن ریلیشنز کمیٹیوں کے رکن بھی ہیں۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے حکم کو ایک ’بہت بڑی غلطی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہر سینیٹر کو اس خطرناک، غیر ضروری اور احمقانہ اقدام کے حوالے سے اپنا موقف آن دی ریکارڈ لانے کی ضرورت ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری طرف جمعرات کو رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹامس میسی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رو کھنہ ایک الگ قرارداد میں ایران سے فوجیوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کریں گے۔

’ٹرمپ کی مرضی کی جنگ‘

اس کے علاوہ متعدد دوسرے امریکی سیاست دانوں اور دوسری سرکردہ شخصیات نے بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ میں حصہ لینے کے فیصلے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔

امریکی حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی نے حملوں کو ’ٹرمپ کی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر یہ جنگ غیر قانونی ہے۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا کہ ’ٹرمپ کی جنگ، کوئی حکمت عملی نہیں، کوئی اختتام نہیں۔ امریکی مزید لمبی اور مہنگی جنگ نہیں چاہتے۔‘

سابقہ صدارتی امیدوار کاملا ہیرس نے کہا کہ یہ جنگ ’ٹرمپ کی مرضی کی جنگ ہے،‘ (Trump’s war of choice) ’امریکی جانیں خطرے میں ہیں اور کانگریس کو مزید مداخلت روکنی چاہیے۔‘

کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ حکیم جیفریز نے کہا کہ ٹرمپ نے کانگریس سے ’اجازت لیے بغیر فوجیوں کو خطرے میں ڈالا‘ اور ان کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں کہ جنگ طول نہ پکڑے۔

صرف ڈیموکریٹک پارٹی ہی نہیں، خود صدر ٹرمپ کی اپنی رپبلکن پارٹی میں بھی جنگ کی مخالفت موجود ہے، اگرچہ رپبلکن پارٹی کی اکثریت جنگ کی حمایت کر رہی ہے۔ ۔

رکنِ کانگریس ٹامس میسی نے کہا، ’یہ امریکہ فرسٹ نہیں ہے۔‘

سابق رپبلکن رکنِ کانگریس مارجری ٹیلر گرین، جو ماگا کی پرجوش حامی تھیں، نے صدر ٹرمپ کی ’ذہنی حالت‘ پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا، ’میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ان کی ذہنی حالت کیا ہے۔‘

معروف اینکر ٹکر کارلسن نے اس جنگ کو ’گھناؤنی اور شیطانی‘ (disgusting and evil) قرار دیا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ ٹکر کارلسن نے پیر کو اپنی پوڈکاسٹ میں کہا کہ یہ ’اسرائیل کی جنگ‘ ہے اور امریکہ اسے صرف اسرائیل کی وجہ سے لڑ رہا ہے۔

عوام کی اکثریت جنگ کے خلاف

روئٹرز/اپسوس کے اختتامِ ہفتہ کیے گئے رائے عامہ کے ایک نئے جائزے کے مطابق، صرف 27 فیصد امریکیوں نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کی حمایت کی، جبکہ 43 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ یہ سروے ان خبروں کے سامنے آنے سے قبل کیا گیا تھا کہ ایرانی جوابی حملوں میں چھ امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔

پیر اور منگل کو کیے گئے سی بی ایس (CBS) کے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 1,400 امریکی بالغوں میں سے 60 فیصد سے زائد کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں امریکی مقاصد کے حوالے سے کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی۔

سی این این کے ایک سروے کے مطابق 59 فیصد افراد نے جنگ کی مخالفت کی، جب کہ یو گو کے ایک سروے میں 45 فیصد مخالفت دیکھنے میں آئی جب کہ حمایت صرف 33 فیصد نے کی۔

نیویارک ٹائمز کے ایک سروے میں صرف 21 فیصد نے ایران پر حملے کی حمایت کی۔ اس سرویز میں لوگوں نے مخالفت کی وجوہات میں لمبی جنگ، فوجی اخراجات اور مہنگائی وغیرہ بتائیں۔

اس کے علاوہ کئی امریکی شہروں میں جنگ کے خلاف مظاہرے اور احتجاج ہوئے ہیں۔ لاس اینجلس، واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک میں بڑے مظاہرے ہوئے جہاں ہزاروں افراد نے حملوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔ لاس اینجلس میں مظاہرین نے ’پیسہ نوکریوں کے لیے، بموں کے لیے نہیں‘ کے نعرے لگائے۔ سات مارچ کو ملک گیر مظاہرے متوقع ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *