ایران پر حملہ کر دیا ہے: اسرائیلی وزیر دفاع

اسرائیل کے وزیر دفاع نے ہفتے کو کہا کہ ان کے ملک نے ایران پر حملہ کیا ہے اور ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ ہدف کیا تھا، لیکن یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ نے اس خطے میں اپنے لڑاکا طیاروں اور جنگی جہازوں کی ایک بڑا بیڑہ جمع کر رکھا ہے تاکہ ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈال سکے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے ’خطرات کو ختم کرنے کے لیے‘ کیا گیا حملہ قرار دیا۔ انہوں نے فوری طور پر اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں لوگوں نے دھماکے کی آواز سنی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تہران میں یونیورسٹی سٹریٹ اور جمہوری کے علاقے میں کئی میزائل گرے ہیں۔

دوسری جانب اسی وقت اسرائیل کے مختلف حصوں میں بھی سائرن بج اٹھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’عوام کو یہ تیاری دینے کے لیے ایک پیشگی الرٹ جاری کیا کہ ممکن ہے ریاست اسرائیل کی طرف میزائل داغے جائیں۔‘

اے پی کے مطابق امریکی فوج نے اس حملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اس نئی صورت حال نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے فوجی تصادم کی طرف دھکیل دیا ہے اور مغرب کے ساتھ ایران کے دیرینہ جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدوں کو مزید مدھم کر دیا ہے۔

گذشتہ برس جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ فضائی جنگ کے بعد یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کے ان مسلسل انتباہات کے بعد کیا گیا ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو آگے بڑھایا تو وہ دوبارہ نشانہ بنائیں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور ایران نے فروری میں سفارت کاری کے ذریعے اس دہائیوں پرانے تنازع کو حل کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے والے ممکنہ فوجی تصادم کے خطرے کو ٹالنے کی کوشش میں مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے۔

تاہم، اسرائیل کا اصرار تھا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی امریکی معاہدے میں صرف افزودگی کے عمل کو روکنا ہی نہیں بلکہ تہران کے جوہری ڈھانچے کا خاتمہ بھی شامل ہونا چاہیے اور اس نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں کو بھی شامل کرے۔

ایران نے کہا کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر قدغنوں کے حوالے سے بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے اس معاملے کو میزائلوں کے ساتھ جوڑنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔

تہران نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا۔

اس نے امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے پڑوسی ممالک کو متنبہ کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کو نشانہ بنایا تو وہ امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کرے گا۔

جون میں، امریکہ ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف ایک اسرائیلی فوجی مہم کا حصہ بنا تھا، جو اسلامی جمہوریہ کے خلاف اب تک کی سب سے براہ راست امریکی فوجی کارروائی تھی۔

جس پر تہران نے قطر میں واقع مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی ہوائی اڈے ’العدید‘ کی جانب میزائل داغ کر جوابی کارروائی کی۔

مغربی طاقتوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل منصوبہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے اور اگر اسے مزید تیار کر لیا گیا تو یہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم تہران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *