رمضان، مہنگائی اور بے بسی: کیا ہر سال یہی کہانی دہرائی جائے گی؟

رمضان عبادت کا مہینہ ہے مگر ساتھ ہی مہنگائی کا شور بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے رمضان اور مہنگائی کا چولی دامن کا ساتھ ہو گیا ہے۔ جیسے ہی مقدس مہینہ قریب آتا ہے، بازاروں میں قیمتیں آسمان پر چڑھ جاتی ہیں۔

رمضان شروع ہوتے ہی مہنگائی کے اعداد و شمار سامنے آ گئے۔ وفاقی وزارت ترقی و منصوبہ بندی کے حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کے مطابق مہنگائی 5.19 فیصد بڑھ گئی ہے۔ یہ مسلسل 29 واں ہفتہ ہے جب قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ یعنی کئی مہینوں سے عام آدمی کی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہیں اور اب رمضان کے مہینے میں یہ بوجھ مزید بھاری محسوس ہورہا ہے۔

رمضان آتے ہی اشیائے خورونوش کی طلب بڑھتی ہے۔ بازاروں میں رش ہوتا ہے، گھروں میں تیاری ہوتی ہے، اور تاجر اس بڑھتی ہوئی مانگ کو قیمتوں میں اضافے کا جواز بنا لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر سال یہی صورت حال رہے گی؟ کیا ریاست کے پاس اس چکر کو توڑنے کا کوئی مستقل منصوبہ نہیں؟

ہر سال رمضان سے پہلے سستے بازاروں کا اعلان ہوتا ہے، چند دن چھاپے پڑتے ہیں، بیانات آتے ہیں کہ قیمتیں کنٹرول میں ہیں۔ عوام ان قیمتوں پر اشیا کی تلاش سے تھک جاتے ہیں اور پھر مہنگا سودا خریدنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا۔

اگر کہیں ریلیف مل بھی جائے تو اس کی مدت ایک یا دو دن ہوتی ہے اور پھر سوال وہی رہتا ہے کہ مستقل حل کہاں ہے؟ کیا ہمارے پاس ایسا نظام نہیں ہو سکتا جو ذخیرہ اندوزی کو واقعی جرم بنائے، جو سپلائی چین کو ڈیجیٹل نگرانی میں لائے، جو توانائی کی قیمتوں میں استحکام دے؟ یا ہم ہر سال اسی بے بسی کو معمول بنا چکے ہیں؟

وفاقی حکومت نے وزیراعظم ریلیف پیکج کے ذریعے 38 ارب روپے، پنجاب کی سرکار نے 47 ارب روپے، سندھ نے 22 ارب روپے کا رمضان پیکج کا اعلان کر رکھا ہے۔ خیبرپختونخوا کے 10 لاکھ 63 ہزار افراد کو تقریباً 12500روپے فی کس دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

 

لیکن یہ پیکج صحیح معنوں میں عام آدمی تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ عمومی رائے یہی ہے کہ اندھا بانٹے ریوڑی اپنوں ہی کو دے۔

پنجاب حکومت کی رمضان پیکج رجسٹریشن کے لیے دیا گیا نمبر 1000 بھی غیر فعال ہونے کی شکایات آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مریم ایپ سے بھی رسپانس نہ آنے کا گلہ کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ رمضان بازاروں کے نام پر جو بازار لگائے گئے ہیں وہاں اگر ریٹ کچھ کم ہیں تو اشیا کا معیار بھی کم ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سالانہ بنیاد پر دیکھیں تو ٹماٹر کی قیمت میں 85 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ آٹا مہنگا ہے، گیس اور بجلی کے بل عام آدمی کے بجٹ کو ہلا چکے ہیں، گوشت کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ حکومت کبھی کہتی ہے کہ آلو سستا ہوا، کبھی دالوں کی قیمت کم ہونے کا حوالہ دیتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خرچ جہاں زیادہ ہوتا ہے وہاں کمی نہیں آئی۔ بجلی، گیس، آٹا، چینی، گوشت اگر بنیادی اشیا مہنگی ہوں تو چند اشیا کی معمولی کمی مجموعی بوجھ کم نہیں کرتی۔

ہفتہ وار بنیادوں پر زندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں 19 روپے تک اضافہ ہوا، لہسن فی کلو 28 روپے تک اور پیاز تین روپے تک مہنگا ہوا، ایک ہفتے میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت 4 روپے بڑھ گئی، ہائی سپیڈ ڈیزل سات روپے 26 پیسے اور پیٹرول پانچ روپے تک مہنگا ہوا، ایل پی جی کا گھریلو سلینڈر 26 روپے تک مہنگا ہو گیا ہے۔

رمضان میں فروٹ چاٹ تقریباً ہر گھر کے دستر خوان کا حصہ ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ قیمتیں بھی پھلوں کی بڑھا دی جاتی ہیں۔ ریاست کو یہاں ماں کا کردار ادا کرنا چاہیے لیکن ریاست منافع خوروں کی سہولت کار دکھائی دیتی ہے۔ رمضان سے قبل جو کیلا 100 روپے درجن مل رہا تھا وہ پہلے رمضان ہی 250 تک پہنچ گیا۔ 200 روپے میں فروخت ہونے والا سیب 400 میں بھی دستیاب نہیں۔ جب پھلوں کی قیمت آسمان کو چھوتی ہے تو نہ جانے کتنی افطار کی میزیں سادگی کی مجبوری کا شکار ہو جاتی ہیں۔

مہنگائی کا سلسلہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ سرکار نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور رمضان شروع ہوتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ رمضان شروع ہوتے ہی وزیراعظم اسمبلی ممبران اور بیوروکریسی کی مراعات کم کرتے اوراس رقم سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان کرتے، کیونکہ ایندھن مہنگائی کا سب سے اہم جزو ہے۔

جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے اور پھر سبزی سے لے کر آٹے تک ہر چیز کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ سپلائی چین کے ہر مرحلے پر اضافہ ہوتا ہے اور آخر میں اس کا بوجھ صارف پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر آمدنی کم ہو اور خرچے بڑھ جائیں تو معمولی اضافہ بھی بہت بڑا دھچکا بن جاتا ہے۔

گذشتہ دو برسوں میں اوسط گھرانے کے یوٹیلیٹی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ متوسط طبقہ اپنی بچت کھا کر گزارا کر رہا ہے۔ دیہاڑی دار کے لیے تو ایک ہفتے کی 5 فیصد مہنگائی بھی براہ راست اس کی افطار کی میز پر اثر ڈالتی ہے۔ وہ اعداد نہیں گنتا، وہ پلیٹ دیکھتا ہے اور پلیٹ میں کمی اسے سب کچھ سمجھا دیتی ہے۔

رمضان صبر کا مہینہ ہے، لیکن یہ صبر صرف عوام کے لیے رہ گیا ہے۔ حکمرانوں کو شاید استثنیٰ حاصل ہے۔

پاکستان وسائل سے خالی نہیں، مگر ترجیحات سے ضرور خالی دکھائی دیتا ہے۔ رمضان آیا ہے، عبادت ہوگی، دعائیں ہوں گی۔ مگر کیا ان دعاؤں کے ساتھ کوئی پالیسی بھی بدلے گی؟ یا اگلے سال بھی ہم یہی لکھ رہے ہوں گے کہ ’ایس پی آئی بڑھ گیا، قیمتیں اوپر چلی گئیں، عوام پریشان ہیں۔‘

اعداد وشمار چیخ رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پالیسی ساز سن بھی رہے ہیں؟

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *