تھائی لینڈ میں 72 شیروں کی موت کی وجہ کیا تھی؟

تھائی لینڈ کے حکام نے ایک وائرل وبا کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جس سے ایک مشہور سیاحتی پارک میں 72 شیر موت کے منہ میں جا چکے ہیں، اس پارک میں سیاحوں کو بڑے بلی نما جانوروں کے ساتھ قریب سے میل جول کی اجازت دی جاتی ہے۔

یہ اموات شمالی صوبہ چیانگ مائی میں واقع پارک کی دو مقامات یا سہولیات میں دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ہوئیں، جہاں 240 سے زائد شیر رکھے گئے ہیں۔

زیادہ تر اموات ٹائیگر کنگڈم مائے تائینگ اور ٹائیگر کنگڈم مائے رِم میں ہوئیں، جو نجی طور پر چلائے جانے والے جانوروں کے پارک ہیں۔

حکام نے پیر کو تصدیق کی کہ ٹائیگر کنگڈم چیانگ مائی میں مرنے والے 72 شیروں کی باقیات کو دفن کر دیا گیا ہے تاکہ ان کے غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت میں جانے کا کوئی خطرہ نہ رہے۔

پروٹیکٹڈ ایریا ریجنل آفس 16 کے ڈائریکٹر کرتسایم کونگساتری کے مطابق، ابتدا میں شیروں کی باقیات کو جلانے کا منصوبہ تھا، لیکن تدفین کی سہولیات محدود ہونے کے باعث بعد میں انہیں دفنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی شیر کی کھال یا دانت فروخت کے لیے نہیں نکالے گئے اور ہر قبر کو شیر کے شناختی نمبر کے ساتھ نشان زد کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ریکارڈ برقرار رہے۔

ابتدائی ٹیسٹوں میں شیروں میں کینائن ڈسٹیمپر وائرس کی موجودگی پائی گئی، جو ایک نہایت متعدی بیماری ہے اور سانس، نظام ہاضمہ اور اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ حکام نے ابھی تک اس وبا کے آغاز کی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔

یہ وائرس عام طور پر کتوں میں پایا جاتا ہے لیکن بڑے بلی نما جانوروں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض نمونوں میں سانس کی بیماری سے متعلق بیکٹیریل انفیکشن بھی پایا گیا۔

8 سے 19 فروری کے درمیان مائے تائینگ میں 51 اور مائے رِم میں 21 شیر ہلاک ہوئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ابتدائی اطلاعات میں فیلائن پاروو وائرس یا آلودہ کچے چکن کے ذریعے انفیکشن کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، جو 2004 میں ایک ٹائیگر مرکز میں برڈ فلو کے مہلک پھیلاؤ کا سبب بن چکا تھا۔

وبا کی شدت کے باوجود پارک میں کام کرنے والے کسی ویٹرنری ڈاکٹر یا عملے کے رکن میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تاہم احتیاطی تدبیر کے طور پر عملے کو 21 دن تک نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

پارک کو جراثیم کش صفائی کے لیے دو ہفتوں کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور حکام وسیع پیمانے پر صفائی کے اقدامات کر رہے ہیں۔

تھائی لینڈ کے محکمہ لائیوسٹاک ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل سومچوان راتانامنگکلانون کے مطابق ’بیمار شیروں کا علاج کتوں اور بلیوں کے علاج سے بہت مختلف ہے۔ کتے اور بلیاں ہمارے قریب رہتے ہیں، اس لیے علامات ظاہر ہوتے ہی ہم فوری علاج کر سکتے ہیں۔ لیکن شیر انسانوں کے قریب نہیں رہتے، اس لیے جب تک ہمیں مسئلے کا علم ہوتا ہے، بیماری کافی بڑھ چکی ہوتی ہے۔‘

محکمہ لائیوسٹاک ڈیولپمنٹ نے یہ بھی کہا کہ قید میں پالے گئے شیروں میں قریبی افزائشِ نسل (ان بریڈنگ) نے ممکنہ طور پر ان کے مدافعتی نظام کو کمزور کیا، جس سے وہ انفیکشن کے لیے زیادہ حساس ہو گئے اور بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار بڑھ گئی۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ٹائیگر کنگڈم چیانگ مائی میں حالات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قید میں رکھے گئے جنگلی جانوروں کی جگہیں متعدی بیماریوں کے لیے زیادہ حساس ہوتی ہیں۔

وائلڈ لائف فرینڈز فاؤنڈیشن تھائی لینڈ اور پیٹا ایشیا جیسے گروہوں کا کہنا ہے کہ سیاحوں کا جانوروں کے ساتھ قریبی رابطہ خطرات کو بڑھاتا ہے۔ پیٹا ایشیا کے مطابق، ’اگر لوگ ایسے مقامات سے دور رہیں تو اس طرح کے سانحات کے امکانات بہت کم ہو جائیں گے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *