افغان طالبان کی پاکستان کے خلاف فضائی طاقت کتنی مضبوط ہے؟

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر افغانستان میں عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد کابل نے ’مناسب وقت پر جواب دینے‘ کی بات کی ہے۔ آئیں افغانستان کی فضائی طاقت پر ایک نظر ڈالیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

افغانستان کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ مناسب وقت پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا اور افغانستان کی خودمختاری کا دفاع کیا جائے گا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ایک بیان میں پاکستان کے عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی تعلقات گذشتہ کئی مہینوں سے کشیدہ ہیں اور اس کی وجہ پاکستان کی جانب سے یہ دعویٰ ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند تنظیمیں پاکستان میں عسکریت پسندانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ تاہم افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ’مناسب وقت پر جواب‘ کیا ہو سکتا ہے اور افغان طالبان کے پاس فضائی طاقت کتنی مضبوط ہے۔

افغان ائیر فورس کی تاریخ

افغان فضائیہ کی جڑیں 1921 میں پڑیں جب بادشاہ امان اللہ خان نے اس جانب آغاز کیا۔

پہلے ایک چھوٹی کوشش سوویت یونین اور برطانیہ سے طیارے حاصل کرنے کی کی گئی۔ ان میں زیادہ تر جاسوسی اور ہلکے نقل و حمل کے طیارے شامل تھے۔

اصل اضافہ سرد جنگ کے دوران آیا۔ 1950 کی دہائی سے، افغانستان نے سوویت یونین سے تعلقات کو مضبوط کرتے ہوئے ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر اور تربیت یاصل کی۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں تک افغان فضائیہ ایک اہم علاقائی فورس بن چکی تھی جو میگ، سوخوئی اور می سیریز ہیلی کاپٹروں سے لیس تھی۔

سوویت-افغان جنگ (1979–1989) کے دوران، فضائیہ نے حکومت اور سوویت زمینی آپریشنز میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، مسلسل جنگوں اور بغاوت نے اس کی یکجہتی کو کمزور کر دیا۔

جب 1992 میں کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوا، تو فضائی بیڑے کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا یا مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوگیا۔

امریکہ نے افغانستان کی پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد 2001 سے 2019 کے درمیان افغان ایئر فورس کو مختلف تربیتی پروگراموں کے ذریعے بہتر بنانے کی کوشش کی۔

امریکہ کی ایئر یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے 2007 میں 7000 افراد پر مشتمل فضائی دستہ تشکیل دیا جو سکیورٹی معاملات میں امریکی ایئر فورس کی مدد کرتا تھا۔

اس کے بعد 2011 میں امریکہ نے افغان ایئر فورس کو دو درجن طیارے فراہم کیے اور افغان پائلٹس کی ٹریننگ بھی شروع کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2016 تک روسی ساختہ ایم آئی 17 ہیلی کاپٹرز استعمال کرنے والی افغان ایئر فورس کو 2017 میں جدید امریکی یو ایچ 60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز فراہم کیے گئے۔

تاہم رپورٹ نے نشاندہی کی کہ افغان ایئر فورس کے پاس روسی ساختہ پرانے ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال کی صلاحیت موجود نہیں تو ایسے میں امریکی ساختہ جدید بلیک ہاکس کی مینٹیننس زیادہ مشکل کام تھا۔

دوسرا مسئلہ یہ پیش آیا کہ اکثر افغان پائلٹس انگریزی زبان نہیں سمجھتے تھے اور نتیجتاً بلیک ہاکس کے نظام کو نہیں سمجھ پاتے تھے۔

اسی طرح 2015 میں امریکہ نے افغان پائلٹس کے لیے امریکی ریاست جارجیا میں تربیت کا پروگرام شروع کیا، جس کے نتیجے میں یہ پائلٹس 2018 تک 88 فیصد ایکوریسی سے ہدف کو نشانہ بنانے کے قابل ہو گئے۔

2020 میں افغان طالبان اور امریکہ کے مابین دوحہ معاہدہ طے پایا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے امریکی فوجوں کے انخلا کا اعلان کیا۔

افغان ایئر فورس کو 2003 سے 2021 کے درمیان 208 طیارے فراہم کیے گئے تھے اور امریکہ کے سپیشل انسپکٹر جنرل ادارے کی رپورٹ کے مطابق کابل پر طالبان کے قبضے سے پہلے افغان ایئر فورس 167 طیارے استعمال کر رہی تھی۔

افغان طالبان کا کابل پر قبضہ

دوحہ معاہدے اور امریکی انخلا نے افغان ایئر فورس کا مورال بری طرح متاثر کیا۔ انٹرنیشنل سینٹر فار کاؤنٹر ٹیررازم کے مطابق مختلف ایئر بیسز میں موجود 13 جنگی طیارے، 44 ہیلی کاپٹرز اور سات ڈرون طیارے طالبان کے قبضے میں آ گئے۔

اسی طرح کابل ہوائی اڈے میں موجود لیکن امریکہ کی جانب سے جانے سے قبل ناکارہ بنائے گئے 28 طیارے اور 47 ہیلی کاپٹرز بھی افغان طالبان کے قبضے میں آگئے۔

اس کے علاوہ امریکی سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے قبضے سے چند دن پہلے 45 طیارے ازبکستان کے ترمیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچا دیے گئے تھے۔

اس رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ان طیاروں کو طالبان کے ہاتھ لگنے سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ ان میں سی 208 یوٹیلٹی، اے 29 لائٹ اٹیک طیارے، ایم آئی 17، ایم آئی 25 اور یو ایچ 60 ہیلی کاپٹرز بھی شامل تھے۔

افغان طالبان کے پاس اب کیا ہے؟

عسکری ماہرین کے مطابق اس میں شک نہیں کہ پاکستان کے مقابلے میں افغان طالبان کی فضائی طاقت بہت کمزور ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنرل اجمل عمر شینواری افغان طالبان کے قبضے سے قبل افغان فوج کے مرکزی ترجمان تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک منظم فوج کے سامنے کسی غیر منظم گروہ کا لڑنا ممکن نہیں اور یہی حال اب پاکستان فوج اور افغان طالبان کا ہے۔

انہوں نے کا کہ غیر منظم گروہ چاہے کتنی بھی مضبوط معیشت رکھتا ہو ایک منظم فوج کے ساتھ لڑ نہیں سکتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کے پاس غیرمنظم جنگ کا کافی تجربہ ہے۔

جنرل عمر کے خیال میں ’یہی غیر منظم جنگ کی صلاحیت کے ذریعے طالبان روس اور پھر امریکہ کے خلاف لڑے رہے ہیں پاکستان کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ لیکن فضائی طاقت میں افغان طالبان کمزور ہیں۔‘

فضائی فورس کے حوالے سے جنرل اجمل عمر نے بتایا کہ افغان طالبان کے پاس لڑاکا طیارے تو موجود نہیں ہیں لیکن وہ ہیلی کاپٹرز رکھتے ہیں جو مارٹر گولے پھینکنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ افغان طالبان ڈرونز کا بہتر استعمال بھی کر سکتے ہیں جن پر خرچہ بھی اتنا نہیں آتا اور وہ پاکستان کے علاقوں میں کارروائیاں کر سکتے ہیں اور اس کے لیے اتنا تجربہ بھی درکار نہیں ہوتا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے پاس بھی ڈرونز کی صلاحیت موجود ہے۔

جنرل اجمل عمر نے بتایا کہ ’افغان طالبان کے پاس ایک آپشن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنائیں۔‘

ڈاکٹر سید عرفان اشرف پاکستان افغانستان امور کے ماہر اور پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے پروفیسر ہیں۔ ان کے خیال میں افغان طالبان کا گوریلا جنگ کا تجربہ زیادہ ہے اور یہ پاکستان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جس طرح پاکستان کہتا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی سپورٹ ہے تو اگر یہ مزید بڑھ گئی تو پاکستان باالعموم اور خیبر پختونخوا بالخصوص متاثر ہو سکتا ہے۔

سید عرفان اشرف نے بتایا کہ ’ملکوں کے درمیان مسائل بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں اور ممالک کی ایک دوسرے کی تباہی کی بجائے صلح میں فائدہ ہوتا ہے۔‘

آج افغانستان ایئر فورس کی صلاحیتیں غیر یقینی ہیں البتہ جنگ جو بھی ہو یقینا ’ڈرٹی‘ اور خونی ہوتی ہیں، لیکن ڈرون جیسی نئی ٹیکنالوجی نے اسے مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *