پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے منگل کو اسرائیل اور انڈیا کے درمیان مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف گٹھ جوڑ کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔
یہ قرارداد منگل کو سینیٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کی جانب سے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے ممکنہ دورۂ اسرائیل کے تناظر میں پیش کی گئی۔
قرارداد میں انڈیا اور اسرائیل کے ممکنہ اتحاد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق وزریراعظم نریندر مودی ممکنہ طور پر 25 فروری کو دو روزہ دورے پر اسرائیل جا رہے ہیں۔ یہ ان کا نو سالوں میں پہلا دورہ ہو گا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے اتوار کو اپنی کابینہ سے خطاب میں ایک نئے علاقائی اتحاد کے قیام کے منصوبے کا خاکہ پیش کیا تھا اور مشرقِ وسطیٰ کو ’انتہا پسند‘ سنی اور شیعہ میں منقسم قرار دیا تھا۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک مجوزہ ’اتحادی ہیکساگون‘ (چھ فریقی اتحاد) کا ذکر کیا، جس کے مطابق اس میں اسرائیل کے ساتھ انڈیا، یونان اور سائپرس شامل ہوں گے، جبکہ دیگر غیر نامزد عرب، افریقی اور ایشیائی ریاستیں بھی اس کا حصہ بن سکتی ہیں۔
سینیٹ اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیان پر شدید ردعمل بھی سامنے آیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
منگل کو پاکستان کی سینیٹ میں ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں اسرائیل کی جانب سے اسلامی ممالک کی ’خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش‘ کی مذمت کی گئی ہے۔
قرارداد میں اسرائیل اور انڈیا کے ممکنہ اتحاد کی بھرپور مذمت کی گئی ہے اور سینیٹ آف پاکستان نے مسلمانوں کے خلاف کسی بھی قسم کے اتحاد کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان ہر قسم کے اسلام مخالف اتحاد کی بھرپور مخالفت کرتا رہے گا اور ایسے کسی بھی اتحاد کو خطے کے امن اور مسلمانوں کے مفادات کے خلاف قرار دیا گیا۔‘
بعد میں ایوان نے انڈیا اور اسرائیل مخالف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔
