وفاقی تحقیقاتی ادارے کراچی نے سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہونے والی خاتون مسافر کی پاکستان آمد پر آج منظم انسانی سمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ہے۔
ایف آئی اے امیگریشن کے مطابق سعودی عرب سے ڈی پورٹ کی گئی بہاولپور کی رہائشی خاتون مسافر گلشن بی بی کو کراچی ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران مشکوک رویے کے باعث حراست میں لیا گیا۔
تفصیلی جانچ پڑتال کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے، جن میں ’بیرون ملک روانگی کے لیے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایجنٹ طیب علی معراج الدین کی معاونت کا اعتراف شامل ہے۔‘
ابتدائی تفتیش میں خاتون نے بتایا کہ سعودی عرب پہنچنے پر انہیں ایک منظم انسانی سمگلنگ نیٹ ورک کے حوالے کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اس نیٹ ورک میں زینی (لاہور)، حسیب (اوکاڑہ) اور حاجی اللہ وسایا (مقیم سعودی عرب) شامل ہیں۔‘
ایف آئی اے کے مطابق خاتون مسافر مبینہ طور پر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث پائی گئیں، جس پر مقامی حکام نے گرفتاری اور سزا کے بعد انہیں ڈی پورٹ کر دیا۔
ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ملزمہ کو مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ یونٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ انسانی سمگلنگ میں ملوث دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک سفر کے لیے صرف قانونی اور مستند ذرائع اختیار کریں۔
