ڈی آئی خان میں انٹیلیجنس آپریشن، کرک میں ڈرون حملہ: چار شدت پسند، تین اہلکار جان سے گئے

خیبر پختونخوا میں پیر کو سکیورٹی فورسز کے ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران چار شدت پسند مارے گئے جبکہ کرک میں نیم فوجی پوسٹ پر ڈرون حملے کے بعد اہلکاروں اور امدادی کارکنوں پر حملوں کے نتیجے میں تین اہلکار جان سے گئے۔

 فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آپریشن کے دوران فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے پر مؤثر کارروائی کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار شدت پسند مارے گئے۔

بیان کے مطابق آپریشن میں ’انڈین حمایت یافتہ عسکریت پسندوں‘ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، جو علاقے میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔

کرک میں حملے

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پیر ہی کو خیبر پختونخوا میں ایک نیم فوجی پوسٹ پر دھماکہ خیز مواد سے بھرے ڈرون کے حملے میں متعدد اہلکار زخمی ہوگئے، جس کے بعد حملہ آوروں نے زخمیوں کو منتقل کرنے والی دو ایمبولینسوں پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں تین اہلکار جان سے گئے اور دو امدادی کارکن زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ ضلع کرک میں پیش آیا جو افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ضلعی پولیس ترجمان شوکت خان نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم شبہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر ظاہر کیا جا رہا ہے جن کے خلاف پاکستان نے ہفتے اور اتوار کی شب افغانستان میں فضائی کارروائی کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

شوکت خان کے مطابق شدت پسند حالیہ مہینوں میں سکیورٹی پوسٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون استعمال کر رہے ہیں، جس سے ایسے حملوں کی بڑھتی ہوئی مہارت پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔

ادھر پاکستانی فوج نے اتوار کو افغان سرحد کے ساتھ کارروائیوں میں کم از کم 70 شدت پسندوں کو مارے کرنے کا دعوی کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ان ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں جنہیں حالیہ حملوں کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی تازہ ترین رپورٹ نے بھی پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو مزید تقویت دی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’متعدد رکن ممالک مسلسل رپورٹ کر رہے ہیں کہ داعش خراسان ، ٹی ٹی پی، القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ المعروف ترکستان اسلامک پارٹی ، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔ بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے  استعمال کیا ہے یا کر رہے ہیں۔‘

پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پیر کو  اس بات پر زور دیا کہ قومی سلامتی کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور پاکستان نے افغانستان میں ’دہشت گردوں‘ کے ٹھکانوں پر کارروائی کرتے ہوئے 80 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔

دانیال چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ لیکن جب افغان سرزمین مسلسل پراکسی حملوں کے لیے استعمال ہوتی رہے تو ہمارے پاس اپنے وطن کے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ قومی سلامتی ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *