پاکستان نے انگلینڈ کی غیر مستحکم بیٹنگ لائن کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں دونوں ٹیموں کے ٹکراؤ کے دوران انہیں سپن کا کڑا امتحان درپیش ہوگا۔
پاکستانی بلے باز صاحبزادہ فرحان نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کو اتوار کے دن سری لنکا کے سپنرز کے خلاف نو وکٹوں کے نقصان پر 146 رنز تک محدود رہنا پڑا۔
فرحان نے کہا کہ منگل کی شب کینڈی کے پالے کیلے میدان میں ہونے والے میچ میں انگلینڈ کو پاکستان کے سپنرز کی جانب سے اسی نوعیت کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاکستان کو اپنے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف بارش کے باعث مقابلہ منسوخ ہونے کے بعد جیت کی اشد ضرورت ہے۔
اگر پاکستان کو شکست ہوئی تو انگلینڈ، جس نے سری لنکا کو 95 رنز پر آؤٹ کر کے 51 رنز سے کامیابی حاصل کی، ایک میچ باقی رہتے ہوئے سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا۔
اس صورت میں پاکستان کو سپر ایٹ کے آخری میچ میں سری لنکا کو شکست دینا ہوگی اور دیگر نتائج اپنے حق میں آنے کی امید بھی رکھنا ہوگی تاکہ وہ آخری چار ٹیموں میں جگہ بنا سکے۔
فارم میں موجود اوپنر فرحان نے کہا، ’ہم نے سری لنکا اور انگلینڈ کے میچ میں دیکھا کہ گیند پچ پر پکڑ کر رہی تھی اور انگلینڈ کو سپن کے خلاف دشواری ہوئی۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’سری لنکا کے پاس ایک یا دو سپنرز ہیں، لیکن ہمارے پاس مجموعی طور پر پانچ ہیں، اس لیے اس پچ پر جو بظاہر اچھی دکھائی دے رہی ہے اور گرفت بھی کرے گی، ہم انگلینڈ کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اب تک چار میچوں میں پاکستان کے سپنرز 26 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں، جبکہ فاسٹ باؤلرز صرف سات بلے بازوں کو آؤٹ کر سکے ہیں۔
تاریخ پاکستان کے حق میں نہیں رہی کیونکہ وہ ماضی کے تین ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مقابلوں میں کبھی انگلینڈ کو شکست نہیں دے سکا۔ تاہم فرحان نے کہا، ’ہم پُراعتماد ہیں اور ہمارا حوصلہ بلند ہے۔‘
انہوں نے گروپ مرحلے کے آخری میچ میں نمیبیا کے خلاف ناقابلِ شکست 100 رنز سکور کیے تھے۔
انہوں نے کہا، ’ہم اس میچ میں فتح اور اگلے مرحلے میں رسائی پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔‘
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 220 رنز کے ساتھ سب سے زیادہ رنز بنانے والے فرحان نے کہا کہ وہ انگلینڈ کے تیز رفتار باؤلر جوفرا آرچر کے چیلنج کے لیے بھی تیار ہیں۔
فرحان کا کہنا تھا، ’آرچر کا سامنا کرنا مشکل نہیں ہوگا کیونکہ میں پاکستان میں اسی معیار کے باؤلرز کا سامنا کر چکا ہوں۔‘
انہوں نے اعتماد سے کہا، ’اگر اس کے پاس میرے خلاف منصوبہ ہے تو میرے پاس بھی اس کے خلاف حکمت عملی موجود ہے۔‘
پاکستان کی ٹیم ممکنہ طور پر سیمر آل راؤنڈر فہیم اشرف کی جگہ سپنر ابرار احمد کو شامل کرے گی۔
انگلینڈ لگاتار پانچویں میچ کے لیے ممکنہ طور پر بغیر تبدیلی کے میدان میں اترے گا، جہاں لیام ڈاسن، ول جیکس، عادل رشید اور جیکب بیتھل سپن کے متبادل فراہم کریں گے۔
پاکستان اور انگلینڈ کے سپر ایٹس گروپ میں سری لنکا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہیں، جو بدھ کو کولمبو میں آمنے سامنے ہوں گے۔
گروپ کی سرفہرست دو ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
