پاکستان انڈیا کشمکش کی نئی تفہیم

جنوبی ایشیا کی سیاست میں انڈیا اور پاکستان کا تعلق محض ایک سرحدی تنازع یا تاریخی دشمنی کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا مسلسل بحران ہے جو سات دہائیوں سے خطے کی سمت متعین کر رہا ہے۔

عام تجزیات اس کشمکش کو مذہبی شناخت، قوم پرستی، کشمیر کے مسئلے اور داخلی سیاست کے تناظر میں بیان کرتے ہیں۔ ڈاکٹر محسن شاہد کی پی ایچ ڈی تحقیق اس روایتی بیانیے سے ہٹ کر ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ اگر دشمنی اتنی شدید ہے، اگر جنگیں ہو چکی ہیں، اگر سرحدی جھڑپیں معمول بن چکی ہیں، تو پھر ایٹمی دور میں مکمل جنگ کیوں نہیں ہوئی؟

یہ سوال بظاہر سادہ ہے مگر اس کا جواب جنوبی ایشیا کی سکیورٹی سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

مئی کی حالیہ جنگ نے اس سوال کو ایک بار پھر عالمی سطح پر زندہ کر دیا۔ سرحدی جھڑپوں سے شروع ہونے والی کشیدگی نے تیزی سے فضائی سرگرمیوں، میزائل تیاریوں، سخت سفارتی بیانات اور بین الاقوامی سفارتی رابطوں کی صورت اختیار کی۔

عالمی میڈیا میں ایٹمی تصادم کے خدشات زیر بحث آئے اور جنوبی ایشیا ایک بار پھر عالمی منظر نامے میں آ گیا مگر چند دنوں کی شدید کشیدگی کے بعد بیانات کی شدت میں کمی آئی، عسکری سرگرمیوں کو محدود کیا گیا اور پس پردہ رابطوں نے ماحول کو نسبتاً سنبھال لیا۔

اس پورے منظرنامے نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ بحران کسی بھی لمحے شدت اختیار کر سکتا ہے، مگر مکمل جنگ اب بھی ایک ایسا قدم ہے جسے دونوں ریاستیں آخری حد تک ٹالنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ڈاکٹر محسن شاہد  قومی سلامتی اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی کے سنجیدہ محقق ہیں۔ ان کی پی ایچ ڈی تحقیق انڈیا پاکستان تعلقات کو ایک منظم اور مربوط نظری فریم میں رکھ کر دیکھتی ہے۔ ان کا کام محض واقعاتی بیان نہیں بلکہ فیصلہ سازی کے عمل کی تہہ میں اترنے کی کوشش ہے۔ وہ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ ریاستی قیادت بحران کے وقت صرف جذباتی نعروں کے زیر اثر نہیں ہوتی بلکہ نقصانات اور فوائد کا باقاعدہ اندازہ لگاتی ہے۔

اس تحقیق کی نظریاتی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ ریاستیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے ممکنہ راستوں کا جائزہ لیتی ہیں اور ہر انتخاب کی قیمت کو سامنے رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر محسن شاہد اس فکری ڈھانچے کو جنوبی ایشیا کے پیچیدہ ماحول پر منطبق کرتے ہوئے دکھاتے ہیں کہ نظریاتی وابستگیاں، قومی شناختیں اور داخلی سیاست اگرچہ اہم عوامل ہیں، مگر ان کے ساتھ ساتھ خطرات کا حساب اور نتائج کا اندازہ بھی فیصلہ سازی کا حصہ ہوتا ہے۔

وہ اس فریم کو محض جامد اصول کے طور پر نہیں اپناتے بلکہ اسے حقیقت پسندی، تعمیریت اور لبرل رجحانات کے ساتھ جوڑ کر ایک متوازن تجزیہ پیش کرتے ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ معقولیت اور شناختی سیاست ایک دوسرے سے متصادم ہونے کے بجائے بسا اوقات ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

تحقیق کے ابتدائی ابواب میں تقسیم ہند کو دونوں ریاستوں کی قومی نفسیات کی بنیاد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

تقسیم کی خونریزی اور کشمیر کا ادھورا تنازع دونوں معاشروں میں ایک مستقل بے اعتمادی کا سبب بنے۔ پاکستان کے لیے کشمیر تقسیم کا نامکمل وعدہ ہے جبکہ انڈیا کے لیے علاقائی سالمیت کی علامت۔ ڈاکٹر محسن شاہد دکھاتے ہیں کہ یہ شناختی بیانیے دشمنی کو توانائی فراہم کرتے ہیں، مگر ہر بحران میں حتمی فیصلہ صرف اسی بنیاد پر نہیں کیا جاتا۔

اس کے بعد تحقیق عسکری تصادمات کا تقابلی جائزہ پیش کرتی ہے۔ 1947، 1965 اور 1971 کی جنگیں ایک ایسے دور کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں ایٹمی عنصر موجود نہیں تھا۔

مگر 1998 کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی۔ کارگل، 2001 کی فوجی کشیدگی، 2008 کے ممبئی حملے اور 2019 کا بالاکوٹ واقعہ ان مثالوں میں شامل ہیں جہاں شدت کے باوجود مکمل جنگ سے گریز کیا گیا۔ ڈاکٹر محسن شاہد کے مطابق ہر بحران میں ایک مرحلہ ایسا آیا جہاں قیادت نے خطرات کا اندازہ لگایا اور تصادم کو محدود رکھا۔

کارگل کے باب میں وہ واضح کرتے ہیں کہ عسکری اقدام کے باوجود کارروائی کو مخصوص جغرافیائی حدود تک محدود رکھا گیا۔ 2001 02 میں دس ماہ کی کشیدگی کے باوجود افواج واپس چلی گئیں۔

ممبئی کے بعد جنگی فضا بنی مگر براہ راست تصادم سے بچا گیا۔ بالاکوٹ میں فضائی کارروائیوں کے باوجود اہداف اور مدت کو کنٹرول میں رکھا گیا۔ ان مثالوں سے ڈاکٹر محسن شاہد یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ایٹمی حقیقت نے مکمل جنگ کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔

تحقیق داخلی سیاست کے کردار کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ انڈیا میں انتخابی سیاست اور قوم پرستی کا ابھار اور پاکستان میں سول ملٹری توازن بحران کی شدت کو متاثر کرتے ہیں۔

مگر حتمی فیصلوں میں بین الاقوامی دباؤ، معاشی اثرات اور عسکری حقیقتیں غالب آتی ہیں۔ ڈاکٹر محسن شاہد کے مطابق ایٹمی صلاحیت ایک طرف مکمل جنگ کو روکتی ہے اور دوسری طرف محدود کارروائی کی گنجائش بھی پیدا کرتی ہے، مگر ہر مرحلے پر ایک حد موجود رہتی ہے جسے عبور کرنا دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

معاشی پہلو بھی تحقیق کا اہم حصہ ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت محدود ہے، مگر عالمی معیشت سے وابستگی، سرمایہ کاری اور علاقائی منصوبے مکمل جنگ کی قیمت بڑھا دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ تحقیق میں عالمی طاقتوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ امریکہ، چین اور دیگر علاقائی قوتیں ہر بڑے بحران میں سفارتی سطح پر سرگرم ہو جاتی ہیں۔ جنوبی ایشیا کا بحران اب محض دو ریاستوں کا داخلی معاملہ نہیں رہا بلکہ عالمی توازن کا حصہ بن چکا ہے۔ یہی بیرونی عنصر اکثر کشیدگی کو قابو میں رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

ڈاکٹر حسن عباس نے اپنے تجزیے میں ڈاکٹر محسن شاہد کے مقالے کو نظریاتی اور عملی دونوں حوالوں سے اہم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تحقیق مختلف بحرانوں میں فیصلہ سازی کے عمل کو منظم انداز سے پیش کرتی ہے اور دکھاتی ہے کہ داخلی سیاست، سول ملٹری تعلقات اور عالمی نظام کس طرح قیادت کے فیصلوں کو متاثر کرتے ہیں ۔

وہ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ یہ مطالعہ جنوبی ایشیا میں محدود جنگ اور قابو شدہ کشیدگی کی تفہیم کو آگے بڑھاتا ہے اور نظری مباحث کو عملی سیاست سے جوڑتا ہے  ۔

پروفیسر ڈاکٹر روہان گنارتنا نے بھی اس تحقیق کو بروقت اور بامعنی اضافہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ مطالعہ جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتوں کے رویے کو سمجھنے کے لیے ایک متبادل زاویہ فراہم کرتا ہے کیونکہ زیادہ تر تجزیات مذہبی یا قومی عوامل پر مرکوز ہوتے ہیں.

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جبکہ یہ کام قیادت کے عملی فیصلوں اور طاقت کے محتاط استعمال کو مرکز میں رکھتا ہے  ۔ ان کے مطابق یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ شدید تبادلہ آتش کے باوجود اہداف اور کارروائی کی مدت کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے اور ایک مرحلے پر پہنچ کر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے  ۔

انڈیا اور پاکستان کے تعلقات ایک نازک توازن پر قائم ہیں۔ سرحدی جھڑپ، کسی دہشت گرد حملے یا کسی سیاسی بیان سے کشیدگی اچانک بڑھ سکتی ہے۔

دونوں ممالک کی عسکری تیاری، قوم پرستانہ بیانیے اور باہمی عدم اعتماد اس تعلق کو غیر یقینی بناتے ہیں۔ ایک غلط اندازہ، ایک غیر محتاط قدم یا کسی واقعے کی غلط تعبیر بحران کو وسیع تر تصادم میں بدل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی سیاست ہمیشہ ایک نازک دھاگے پر لٹکی محسوس ہوتی ہے جہاں امن اور تصادم کے درمیان فاصلہ بہت کم ہے۔

موجودہ تناظر میں ڈاکٹر محسن شاہد کا یہ مطالعہ نہایت بروقت اور متعلقہ ثابت ہوتا ہے۔ مئی کی حالیہ جنگی فضا نے ایک بار پھر یہ دکھایا کہ جنوبی ایشیا میں بحران کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتا ہے، مگر مکمل جنگ ناگزیر نہیں۔

اگر فیصلہ سازی کے مرحلے پر خطرات کا شعور غالب رہے تو تصادم محدود رہ سکتا ہے۔ ڈاکٹر محسن شاہد کی یہ تحقیق اسی امکان کی علمی بنیاد فراہم کرتی ہے اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دشمنی کی شدت کے باوجود ایک حد ایسی ہوتی ہے جسے عبور کرنے سے پہلے دونوں ریاستیں ٹھہر کر ضرور سوچتی ہیں۔

کالم نگار ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سنٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *