یوں تو لاہور میں حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار، جسے داتا دربار بھی کہا جاتا ہے، پر 11ویں صدی عیسوی سے لنگر کی تقسیم پورا سال جاری رہتی ہے تاہم ماہ رمضان میں یہاں سحری و افطاری کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے جہاں روزانہ دور دراز علاقوں سے آئے 20 سے 25 ہزار افراد اس سہولت سے مستفید ہوتے ہیں۔
مزار کی انتظامیہ کے مطابق یہ دربار برصغیر کا سب سے بڑا اور قدیم صوفیانہ مرکز ہے جو تقریباً ایک ہزار سال سے زائرین کے لیے روحانی اور سماجی مرکز بنا ہوا ہے۔ لاہور کو بھی زمانہ قدیم سے داتا کی نگری کہا جاتا ہے، جہاں صاحب حیثیت لوگ نذرانے کے طور پر چندہ دیتے ہیں۔
لنگر کا سلسلہ کب سے جاری ہے؟
داتا دربار کا لنگر حضرت داتا گنج بخش کے زمانے سے منسوب ہے۔ دربار کے ریکارڈ میں بتایا گیا ہے کہ 11ویں صدی عیسوی (تقریباً 1070ء کے آس پاس) سے لنگر کا سلسلہ چلا آ رہا ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق حضرت داتا گنج بخش خود لوگوں کو کھانا کھلاتے تھے اور ان کی خانقاہ میں مسلسل مہمان نوازی کا اہتمام رہتا تھا۔
انگریز مورخین نے بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ ایک ہزار سال پرانا رواج ہے اور آج بھی روزانہ ہزاروں لوگوں کو مفت کھانا دیا جاتا ہے۔ دربار کا انتظام آج کل محکمہ اوقاف پنجاب کے زیر نگرانی چلتا ہے، جس کے لیے یہاں سرکاری افسر کو ایڈمنسٹریٹر اور منیجر مقرر کیا جاتا ہے۔
منیجر داتا دربار گوہر مصطفی نے دی انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ: ’رمضان المبارک میں داتا دربار کا لنگر خاص طور پر سحری اور افطاری کے لیے بہت بڑے پیمانے پر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ رواج بھی صدیوں پرانا ہے اور عام دنوں کے لنگر کا ہی وسیع تر تسلسل ہے۔‘
ان کے بقول: ’یہاں بغیر کسی امیر و غریب کی تفریق کے سب کو ایک جیسا کھانا ایک ہی لائن میں ملتا ہے۔ ماہ رمضان میں خاص اہتمام ہوتا ہے جس کے لیے مالی معاونت اور انتظام کئی تنظیمیں اور سرمایہ دار اپنی خواہش سے کرتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری صرف نظم و ضبط اور سکیورٹی برقرار رکھنا ہوتی ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے ذریعے کھانوں کا معیار چیک کر کے تقسیم کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گوہر مصطفی نے مزید بتایا کہ ’یہاں سحر و افطار میں کم و بیش 20 سے 25 ہزار افراد جمع ہوتے ہیں۔ انہیں کھانا، فروٹ، جوس، شربت وغیرہ حسب ضرورت فراہم کیا جاتا ہے۔ لوگ یہاں سحری و افطاری کے ساتھ نماز بھی ادا کرتے ہیں۔ ویسے تو پورا سال لنگر وافر مقدار میں چلتا ہے لیکن ان ایام میں خصوصی طعام کا بندوبست کیا جاتا ہے۔‘
سحری اور افطار کرنے والوں کی اکثریت دوسرے شہروں سے آئے زائرین یا لاہور میں چھوٹی ملازمت کرنے والوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
سکردو سے آئے روزہ دار ذوالقرنین نے بتایا کہ وہ یہاں گھومنے آئے تھے اور داتا دربار حاضری کے لیے آئے تو افطار کا بہترین انتظام دیکھا، لہٰذا یہیں افطار کرنے بیٹھ گئے۔ یہاں افطاری کا انتظام دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور اچھا لگ رہا ہے۔
مریدکے سے آنے والے وقار نے کہا کہ ہم لاہور آئے تو منصوبہ بنایا کہ افطاری داتا دربار میں کی جائے، کیونکہ وہاں کا منظر ہی الگ ہوتا ہے۔ یہاں افطار کا انتظام دیکھ کر واقعی حیرانی ہوئی۔
داتا دربار سے ملحقہ علاقوں میں کام کرنے والے پردیسی محنت کش بھی یہاں بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں۔ نہ صرف دربار کے احاطے بلکہ باہر بھی لنگر تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان دنوں دربار کی توسیع کا کام جاری ہے، اس کے باوجود سحر و افطار کا نظام متاثر نہیں ہوا۔
