ایک جاپانی شہر کو پانی کے پرانے نظام کی دیکھ بھال کے لیے ایک گمنام شخص کی جانب سے سونے کی اینٹوں کا ایک غیر معمولی عطیہ ملا ہے۔
شہری حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اوساکا کے میونسپل واٹر ورکس بیورو کو ایک ایسے عطیہ دہندہ کی جانب سے مجموعی طور پر 21 کلوگرام وزنی سونے کی اینٹیں ملی ہیں جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھے۔ سونے کی اینٹوں کی مالیت 56 کروڑ 60 لاکھ ین یا 27 لاکھ پاؤنڈ بنتی ہے۔
میئر ہیدیئوکی یوکویاما نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ عطیہ گذشتہ نومبر میں ایک ایسے شخص نے دیا تھا جس نے ایک ماہ قبل میونسپل واٹر ورکس کے لیے نقد رقم کی صورت میں 2451 پاؤنڈ بھی دیے تھے۔
تقریباً 30 لاکھ نفوس پر مشتمل شہر اوساکا کو پانی اور سیوریج کے پرانے نظام کے مسائل کا سامنا ہے، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو جاپان کے کئی دیگر شہروں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق ملک کے تیسرے بڑے شہر اوساکا میں مالی سال 2024 میں سڑکوں کے نیچے پانی کے پائپوں سے رساؤ کے تقریباً 90 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق متوقع لاگت کے اصل بجٹ سے تجاوز کر جانے کے بعد پرانے پائپوں کو تبدیل کرنے کا کام رک گیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جاپان ٹائمز نے گذشتہ ستمبر میں رپورٹ کیا تھا کہ جاپان بھر میں پانی کے 20 فیصد سے زائد پائپوں نے اپنی 40 سالہ مدت پوری کر لی ہے، اس میں مزید کہا گیا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے بہت سی میونسپلٹیز کو اس مسئلے سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اخبار کے مطابق جاپان کے تقریباً سات لاکھ 40 ہزار کلومیٹر پانی کے پائپوں میں سے تقریباً ایک لاکھ 76 ہزار کلومیٹر نے اپنی مقررہ مدت پوری کر لی ہے اور 40 سال سے زائد عرصے سے زیر استعمال پائپوں کا حصہ مالی سال 2042 تک بڑھ کر تقریباً 70 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
یوکویاما نے کہا کہ ’پانی کے پرانے پائپوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے, اس لیے میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں۔ یہ واقعی ایک حیران کن رقم ہے۔ میں تو حیران رہ گیا۔‘
عطیہ دہندہ نے بتایا کہ انہوں نے ملک میں پانی کے ٹوٹے ہوئے پائپوں کے بارے میں خبروں کی بھرمار دیکھنے کے بعد مدد کی پیشکش کرنے کا فیصلہ کیا۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ عطیہ کی گئی سونے کی اینٹیں پانی کے تقریباً دو کلومیٹر عام پائپ کو تبدیل کرنے کی لاگت پوری کریں گی۔
