کالا باغ میں ’کسوٹی‘ کے کھیل کو نئے انداز میں زندہ کرنے کی کوشش

پرانے وقتوں میں جب میڈیا اور تفریح کے موجودہ ذرائع عام نہیں تھے تو پنجاب کے دیہات میں بیٹھکیں اور محفلیں لوگوں کے میل جول اور تفریح کا سب سے بڑا مرکز ہوا کرتی تھیں۔ 

ان محفلوں میں ہر عمر کے لوگ شریک ہوتے تھے۔ ان نجی محفلوں میں دیگر سرگرمیوں سمیت نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے افراد ایک خاص کھیل میں بھی دلچسپی لیتے تھے جسے مقامی زبان میں ’بجھارتاں پانڑاں‘ یعنی پہیلیاں بجھوانا کہا جاتا تھا۔

 کہیں کہیں اسے ’کسوٹی‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ اس وقت یہ کھیل صرف تفریح نہیں بلکہ پنجاب کی ثقافت کا اہم پہلو بھی ہوا کرتا تھا۔ اس میں پہیلیاں زیادہ تر اس وقت کی معروف شخصیات، روزمرہ استعمال کی اشیا یا مقامی روایات سے متعلق ہوتی تھیں۔

پہیلی بجھوانے والا عام طور پر چند اشارے بھی دیتا تاکہ سامعین جواب تک پہنچ سکیں۔ اس طرح یہ کھیل محفل میں نہ صرف تجسس اور دلچسپی پیدا کرتا بلکہ کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ افراد کے علم میں بھی اضافہ کرتا۔ یہ روایت محض ایک کھیل نہیں تھی بلکہ اس میں سماجی میل جول، ثقافتی ورثے اور مقامی دانش کی جھلک بھی نظر آتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میڈیا کے پھیلاؤ اور جدید ذرائع تفریح اور خصوصاً موبائل کے عام ہونے سے یہ روایت رفتہ رفتہ دم توڑ گئی اور آج دیہاتی محفلوں میں ایسی رونق معدوم ہو کر رہ گئی ہیں۔

 ثقافتی پہلو سے یہ کھیل نہ صرف ماضی کی یاد دلاتا ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ کس طرح سادہ دور کے لوگ اپنی دانش، علم اور محفلوں کو دلچسپ بنانے کے لیے اپنی تخلیقی روایتیں تشکیل دیتے تھے۔

جہاں یہ تاریخی کسوٹی کھیل تقریباً معدوم ہوچکا ہے، وہیں 2022 سے اس روایت کو پنجاب کے علاقے کالاباغ سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد سبحان نے ایک نئے رنگ میں زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 سبحان نے اپنے بزرگوں کی یاد کو سمیٹتے ہوئے کسوٹی کے کھیل کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال کر دوبارہ پیش کیا ہے اور وہ ہر ماہ کے ہر اتوار کو اپنے چند دوستوں کے ساتھ بیٹھک میں کسوٹی کا کھیل منعقد کرتے ہیں۔

گو کہ کسوٹی کھیل کا طریقہ کار ذرا مختلف ہے لیکن کیفیات قدیمی کھیل جیسی ہی ہیں۔ محفل میں شریک افراد کو موبائل سے محروم کر دیا جاتا ہے، جب کہ ناظرین کو موبائل سکرین پر مشہور شخصیت کی تصویر دکھائی جاتی ہے۔ محفل میں شریک ایک فرد کو صرف 15 سوالات پوچھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جن کے ذریعے وہ اس شخصیت تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔

 کھیل عام طور پر آٹھ سے 10 منٹ جاری رہتا ہے اور بعض اوقات کسی خاص مہمان کو بھی خصوصی طور پر کھیلنے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ سبحان اس کھیل کی ریکارڈنگ کر کے بعد ازاں سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں، جہاں بزرگوں سے لے کر بچوں تک ہر عمر کے لوگ ان کی کسوٹی کو شوق سے دیکھتے ہیں۔

سبحان کا کہنا ہے کہ یہ کھیل ان کے دادا کی یادگار ہے، جو ماضی میں پہیلیاں بجھوایا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے دادا سے اس کھیل کے بنیادی خدوخال پوچھ کر اس میں ذرا جدت ڈالی تاکہ یہ روایت نئی نسل کے لیے مزید دلچسپ اور بامقصد ہو سکے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *