امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے باوجود دونوں ممالک کی عسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے لیکن یہ کشیدگی صرف بیانات تک نہیں بلکہ امریکہ کی جانب سے خطے میں مزید جنگی اثاثے بھیجے جا رہے ہیں۔
ان میں تازہ ترین اضافہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کا مشرق وسطیٰ بھیجے جانا ہے۔ یہ طیارہ بردار جنگی بحری جہاز کیا ہے، یہ کام کیسے کرتا اور اس کی جنگی صلاحیت کس حد تک تباہ کن ہے، اس رپورٹ میں ان صلاحیتیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا بحری جنگی جہاز
یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ سال 2017 میں امریکی نیوی میں شامل کیا گیا۔ یہ جیرالڈ فورڈ کلاس کا کلیدی طیارہ بردار جہاز ہے۔ اس جہاز کا وزن ایک لاکھ ٹن سے بھی زیادہ ہے جبکہ اس کی لمبائی 1100 فٹ سے کچھ زیادہ ہے، جو اسے دنیا کا سب سے بڑا بحری جنگی جہاز بناتی ہے۔
سال 2017 میں جب اس جنگی جہاز کو امریکی بحریہ کا حصہ بنایا گیا تو اس پر تین ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئی تھی اور اس کی تیاری میں دو سال سے زیادہ کی تاخیر ہوئی تھی۔
اس پر تعینات فوجیوں کی تعداد یو ایس ایس نمٹز کے مقابلے میں 3250 سے کم ہو کر 2500 اہلکار کی گئی ہے۔
اس طیارہ بردار جنگی جہاز پر جیٹ کو اڑانے کے لیے کیٹاپلٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ان کی لینڈنگ کے لیے اریسٹنگ گیئر بھی موجود ہے۔
دو مئی 2023 کو جیرالڈ آر فورڈ کو اپنی پہلی بڑی مہم پر بھیجا گیا جہاں اس جہاز نے اگلے آٹھ ماہ تک بحیرہ روم اور شمالی اٹلانٹک میں امریکہ کے چھٹے بحری بیڑے کے ساتھ مہم میں حصہ لیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سال 2024 میں اس جہاز نے نیٹو افواج کے ساتھ جنگی مشقوں میں بھی حصہ لیا۔جبکہ گذشتہ سال اکتوبر میں امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے حکم پر جیرالڈ آر فورڈ نے بحیرہ کیریبین میں کارروائیوں میں حصہ لیا جو صدر ٹرمپ کے مطابق منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تھیں۔
اس طیارہ بردار جہاز کے ساتھ عمومی طور پر امریکی نیوی کے کروزر اور ڈیسٹرائر جہاز ہوتے ہیں جو اس کو درپیش خطرات سے دفاع کا کام کرتے ہیں جبکہ اس جہاز میں بھی کئی ریڈار گائیڈر دفاعی نظام نصب ہیں جو اس کو اینٹی شپ میزائلز، فضائی خطرات اور زمین سے فائر کیے جانے والے میزائل سے محفوظ رکھنے کے کام آتے ہیں۔
یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پر ایف 18 سپر ہورنیٹ جیٹس کے پانچ سکوارڈنز تعینات ہیں جبکہ اس پر ای اے 18 جی گرولرز کا ایک سکوارڈن بھی موجود ہے جو الیکٹرانک وارفیئر میں دنیا کا بہترین جہاز سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اس جہاز پر ایم ایچ 60 سی ہاک ہیلی کاپٹرز کے دو سکوارڈن بھی موجود رہتے ہیں جو سمندر میں مختلف نوعیت کے مشن سرانجام دے سکتے ہیں۔
