پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف انڈیا اور افغانستان ایک ہی صفحے پر ہیں۔
انہوں نے یہ بات بدھ کو فرانسیسی ٹی وی فرانس 24 کو انٹرویو میں کہی۔
پاکستانی حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ ملک میں حالیہ عسکریت پسند حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے اور جنگجوؤں کو انڈیا کی بھی پشت پناہی حاصل ہے تاہم افغانستان اور انڈیا کی جانب اس کی تردید کی جاتی رہی ہے۔
خواجہ آصف نے انٹرویو میں کہا کہ ’ہمارے ملک میں عسکریت پسندوں کے حملے کابل میں طالبان حکومت کے ساتھ مل کر انڈیا کی طرف سے شروع کی گئی ’پراکسی جنگ‘ کا نتیجہ ہیں۔‘
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان افغانستان پر نئے حملے کرنے میں ’ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔‘
انہوں نے پاکستان میں سکیورٹی صورت حال اور دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مسجد میں ہونے والے حالیہ خود کش حملے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کابل حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے‘ پاکستان میں ’دہشت گردی کی تقریباً تمام فرنچائزز موجود ہیں۔‘
انہوں نے انڈیا پر پاکستان کے خلاف ’پراکسی جنگ‘ چھیڑنے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ جب پاکستان پر حملہ کرنے کی بات آتی ہے تو نئی دہلی اور کابل ’ایک ہی صفحے پر‘ ہوتے ہیں۔
خواجہ آصف نےایک سوال کے جواب میں کہا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ کا اب بھی ’امکان‘ موجود ہے تاہم اس بارے میں انہوں مزید کچھ نہیں کہا۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ سال مئی میں لڑائی ہوئی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان اور افغانستان میں اکتوبر میں شدید سرحدی جھڑپوں میں اموات کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور دوحہ میں عارضی فائر بندی کے بعد ترکی میں پائیدار امن حاصل کرنے کے لیے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔
دونوں کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں اور سرحدی گزرگاہیں آمد و رفت کے لیے بند ہیں۔
جبکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد کسی طرح کا سفارتی رابطہ نہیں ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اپریل 2025 میں اس وقت شروع ہوئی جب مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ایک حملے کا الزام بغیر ثبوت کے اسلام آباد پر لگایا گیا تھا، جس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔
دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے جو مئی میں امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ختم ہو گئیں۔
پاکستان کے وزیر دفاع نے غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حالات سازگار ہونے کی صورت میں پاکستان بین الاقوامی امن فورس میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔
غزہ میں بین الاقوامی استحکام کے مشن میں پاکستان کے ممکنہ تعاون کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ’ اس امن فورس کے لیے کس قسم کی شرائط کا مسودہ تیار کیا جاتا ہے۔‘
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کی امن فوج میں شراکت دار کے طور پر نمایاں تجربہ ہے اور کہا کہ غزہ فورس میں شرکت مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل تک پہنچنے کی کوشش کرنے کا ایک ’اچھا موقع‘ ہو گا۔
