افغانستان: پابندیوں کے باوجود بامیان کی رحیمہ کا بوتیک ایک عمدہ مثال

افغانستان میں خواتین پر زیادہ تر ملازمتیں کرنے پر پابندی ہے لیکن مرکزی صوبے بامیان میں 22 سالہ رحیمہ علوی کا سلائی کڑھائی کا بوتیک حیران کن طور پر کامیابی سے چل رہا ہے۔

ایک مہینے تک کام کی تلاش کے بعد جنوری میں کھولے جانے والی رحیمہ علوہ کی چھوٹی سی اس دکان کے باہر لگے بورڈ پر لکھا ہے: ’بہار کے پھول، سلائی اور کڑھائی۔‘

رنگ برنگے دھاگوں کی کڑھائی والا برگنڈی رنگ کا کوٹ پہنے رحیمہ علوی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں واقعی میں فخر محسوس کرتی ہوں کہ میں اپنے خاندان، والدین اور تین بہنوں کی کفالت کر سکتی ہوں۔ میں کرایہ ادا کر سکتی ہوں۔‘

علوی ان پچاس لاکھ سے زیادہ افغانوں میں سے ایک ہیں جو کئی سال تک ہمسایہ ممالک ایران اور پاکستان میں رہنے کے بعد 2023 میں وطن واپس آئے ہیں۔ 

دیہی صوبہ بامیان سے تعلق رکھنے والا یہ کسان خاندان افغانستان میں جنگ کے باعث 2021 میں ایران چلا گیا تھا۔

رحیمہ علوی کا کہنا تھا کہ ’ایران میں، ملازمت کے زیادہ مواقع تھے اور وہاں مرد اور عورتیں دونوں کام کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے 2024 میں افغانستان واپس آنے سے پہلے ایران کے مرکزی شہر اصفہان کے قریب زندگی گزارنے کے لیے کھیتوں میں گوبھی چنی۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا: ’میرے والد کو نوکری نہیں مل سکی، نہ مجھے اور نہ ہی میری بہنوں کو۔ میں بہت مایوس تھی، کیونکہ بامیان میں کوئی نوکری نہیں تھی۔‘

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے سروے کے مطابق، ایران یا پاکستان سے واپس آنے والی خواتین میں سے صرف ایک فیصد کو کل وقتی ملازمتیں ملی ہیں، جبکہ دو فیصد کاروبار کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے تعاون سے ایک پروگرام کے تحت 25 دیگر خواتین کے ساتھ کڑھائی کی تربیت کے لیے منتخب ہونے سے پہلے رحیمہ علوی نے مہینوں تک جدوجہد کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے امید کرنا شروع کر دی اور کورس کے ساتھ میری امید اور بڑھ گئی۔‘

خواتین کے لیے کوئی کام نہیں

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

علوی کو ایک سلائی مشین، کپڑا اور سولر پینل کے لیے نقدی سمیت بہت سے آلات فراہم کیے گئے جو کہ ایک ایسے ملک میں ضروری ہے جہاں بجلی کی ترسیل میں تعطل عام ہے۔

ان کی استاد، ریحانہ درابی نے علوی کو ’بہت قابل، بہت باصلاحیت‘ قرار دیا۔

ریحانہ درابی کا کہنا تھا کہ ’اس کا شوق اتنا زیادہ تھا کہ وہ ہر چیز سیکھنا چاہتی تھی اور اس نے جلد ہی سب کچھ سیکھ لیا تھا۔‘

سلائی کڑھائی کی استاد دسمبر میں پروگرام کے بند ہونے کے بعد بے روزگار ہو گئی تھیں۔ پروگرام کی بندش کے نتیجے میں افغانستان میں لوگوں کی امداد میں وسیع پیمانے پر کٹوتی ہوئی تھی۔

رحیمہ علوی اس پروگرام سے تعلق رکھنے والی واحد خاتون ہیں جنہوں نے اپنی بہترین دوست کے تعاون سے اب تک کامیابی سے کاروبار کھولا۔

رحیمہ کی استاد کا کہنا تھا ’ہم واقعی بہت خوش تھے کیونکہ پورے افغانستان میں خواتین کو بہت بڑے بڑے چیلنجز اور قوانین کا سامنا ہے۔‘

طالبان انتظامیہ کے حکام اسلامی قانون کی سخت تشریح کے ذریعے حکومت کرتے ہیں، خواتین کو زیادہ تر ملازمتوں سے روکتے جبکہ ہیں۔ تاہم چند ایک کو دستکاری جیسی صنعتوں میں کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

علوی نے ڈونرز سے تربیتی پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کیونکہ یہاں خواتین کے لیے کوئی کام نہیں ہے۔‘ 

گذشتہ سال یو این ایچ سی آر کے پروگراموں کے تحت تربیت یافتہ تقریباً 2400 افراد میں خواتین کی اکثریت تھی۔

ایجنسی نے اس ماہ کہا کہ اسے ملک بھر میں بے گھر ہونے والے لوگوں اور واپس آنے والوں کی مدد کے لیے اس سال ساڑھے 21 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے، لیکن اسے صرف آٹھ فیصد فنڈز دستیاب ہو سکے ہیں۔

حد سے زیادہ محدود مواقعوں کی موجودگی میں رحیمہ علوی نے افغانستان واپس آنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کسی بھی دستیاب موقعے کو ضائع نہ کریں۔  

انہوں نے اپنی ساتھیوں کو کہا کہ ’گھر پر مت بیٹھوں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *