مقبوضہ مغربی کنارے کی اراضی رجسٹریشن: پاکستان سمیت سات مسلم ممالک کی اسرائیلی اقدام کی مذمت

پاکستان اور سات مسلم ممالک نے مغربی کنارے میں اراضی کی رجسٹریشن سے متعلق اسرائیلی اقدام کی مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ پاکستان کی طرف سے منگل کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

مشترکہ بیان کے مطابق اتوار کو اسرائیلی کابینہ نے 1967 کے بعد پہلی مرتبہ مغربی کنارے میں زمینوں کی رجسٹریشن کے عمل کا آغاز کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔

اس فیصلے کو فلسطینی اتھارٹی سمیت متعدد حلقے مغربی کنارے پر اسرائیل کے کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے یہودی آبادکاروں کے لیے زمین خریدنا آسان ہو جائے گا اور بالآخر اس علاقے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عمل صرف ایریا سی میں ہو گا، جو مغربی کنارے کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے اور اسرائیلی سکیورٹی و انتظامی کنٹرول میں ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ اسرائیل کے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو نام نہاد ’ریاستی زمین‘ قرار دے کر وسیع علاقوں میں اراضی کی رجسٹریشن اور ملکیت کے تصفیے کی منظوری دی گئی ہے، جو 1967 کے بعد پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔

بیان کے مطابق یہ اقدام غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع، زمینوں کی ضبطی اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی خود ساختہ حاکمیت مسلط کرنے کی ایک سنگین کوشش ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ قدم ایک نئی قانونی اور انتظامی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش ہے، جس کا مقصد مقبوضہ زمین پر کنٹرول کو مضبوط بنانا ہے، اور اس سے دو ریاستی حل کو نقصان پہنچتا ہے، ایک آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کمزور ہوتے ہیں اور خطے میں منصفانہ اور جامع امن خطرے میں پڑ جاتا ہے۔‘

وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی یہ پالیسیاں ایک ’خطرناک اشتعال‘ ہیں، جو فلسطین اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عدم استحکام میں مزید اضافہ کریں گی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ’واضح اور فیصلہ کن‘ اقدامات کرے، بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنائے اور فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کا تحفظ کرے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی موجودہ حکمران اتحاد میں کئی ایسے ارکان شامل ہیں جو یہودی آبادکاروں کے حامی ہیں اور مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جسے اسرائیل 1967 کی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں قبضے میں لے چکا تھا اور جس پر وہ مذہبی اور تاریخی دعوے کرتا ہے۔

مغربی کنارہ ان علاقوں میں شامل ہے جنہیں فلسطینی ایک مستقبل کی آزاد ریاست کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کا بڑا حصہ اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کے تحت محدود خود مختاری موجود ہے۔

اراضی کی رجسٹریشن کی منظوری اس سے قبل اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں منظور کیے گئے ان اقدامات کے بعد سامنے آئی ہے، جن کی حمایت انتہائی دائیں بازو کے وزرا نے کی تھی۔ ان اقدامات کا مقصد 1990 کی دہائی کے اوسلو معاہدوں کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید سخت کرنا تھا۔

ان اقدامات میں یہودی اسرائیلیوں کو براہِ راست مغربی کنارے میں زمین خریدنے کی اجازت دینا اور فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں بعض مذہبی مقامات کا انتظام اسرائیلی حکام کے سپرد کرنا بھی شامل ہے، جن پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *