اسرائیل کا مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن شروع کرنے کا متنازع فیصلہ

اتوار کو کیے گئے ایک حکومتی فیصلے کے مطابق، اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے میں زمین کے انتظام (لینڈ ریگولیشن) کا متنازع عمل شروع کرے گا، جس کے نتیجے میں اسرائیل مستقبل کی ترقی کے لیے اس علاقے کے وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے سے مغربی کنارے میں ’زمین کی ملکیت کے تصفیے‘ کا قانونی عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا جو 1967 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے منجمد تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اسرائیل کسی خاص علاقے میں زمین کی رجسٹریشن شروع کرے گا تو زمین پر دعویٰ کرنے والے کسی بھی شخص کو ملکیت ثابت کرنے والی دستاویزات جمع کروانی ہوں گی۔

اسرائیلی آباد کاری مخالف گروپ ’پیس ناؤ‘ نے کہا کہ یہ عمل ممکنہ طور پر فلسطینیوں کی زمین پر ’زمین پر بڑے پیمانے پر قبضے‘ کے مترادف ہے۔

پیس ناؤ کے سیٹلمنٹ واچ پروگرام کی ڈائریکٹر ہیگت اوفران نے کہا ’یہ اقدام بہت ڈرامائی ہے اور ریاست کو ایریا سی کے تقریباً تمام حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘ 

فلسطینیوں کے ساتھ 1990 کی دہائی میں طے پانے والے معاہدوں کے مطابق، ایریا سی مغربی کنارے کے اس 60 فیصد حصے پر مشتمل ہے جو مکمل طور پر اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے دفتر نے ایک بیان میں اس فیصلے کو ’ایک سنگین پیش رفت اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا، جو ’عملی طور پر الحاق‘ کے مترادف ہے۔ صدارتی دفتر نے نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

حالیہ مہینوں میں اسرائیلی اقدامات

یہ فیصلہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرنے کا تازہ ترین قدم ہے۔ حالیہ مہینوں میں، اسرائیل نے یہودی بستیوں میں تعمیرات کو بہت بڑھا دیا ہے، چوکیوں کو قانونی حیثیت دی ہے اور علاقے میں اپنی پالیسیوں میں اہم افسر شاہانہ تبدیلیاں کی ہیں تاکہ اپنی گرفت کو مضبوط اور فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کر سکے۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سول پلاننگ کے نقشے ظاہر کرتے ہیں کہ اتھارٹی برسوں سے ایریا سی میں اراضی کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو آگے بڑھا رہی ہے جو ان معاہدوں کی خلاف ورزی ہے جو اسرائیل کو اس علاقے پر سول اور فوجی کنٹرول دیتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اتوار کا فیصلہ زیادہ شفافیت کے لیے کیا گیا تھا۔

اس فیصلے کا اعلان سب سے پہلے گذشتہ مئی میں کیا گیا تھا لیکن اس ہفتے کابینہ کے اجلاس میں منظوری سے قبل اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت تھی۔ اس فیصلے کے تحت، اسرائیلی حکام رجسٹریشن کے لیے مخصوص علاقوں کا اعلان کریں گے، جس سے زمین پر دعویٰ کرنے والے کسی بھی شخص کو اپنی ملکیت ثابت کرنا ہوگی۔

اوفران نے کہا کہ ملکیت ثابت کرنے کا عمل ’سخت گیر‘ ہو سکتا ہے اور شاذ و نادر ہی شفاف ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ فی الحال فلسطینیوں کی ملکیت والے علاقوں میں رجسٹریشن کے عمل سے گزرنے والی کوئی بھی زمین ممکنہ طور پر اسرائیلی ریاستی کنٹرول میں واپس چلی جائے گی۔

اوفران نے بتایا کہ ’فلسطینیوں کو اس طریقے سے ملکیت ثابت کرنے کے لیے بھیجا جائے گا جو وہ کبھی نہیں کر پائیں گے۔ اور اس طرح اسرائیل ایریا سی کے 83 فیصد حصے پر قبضہ کر سکتا ہے جو مغربی کنارے کا تقریباً نصف ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کا عمل رواں سال ہی شروع ہو سکتا ہے۔

یہ تجویز حکمران اتحاد کے کچھ انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی ارکان کی طرف سے پیش کی گئی تھی، جن میں وزیر انصاف یاریو لیون بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا، ’اسرائیل کی حکومت اپنے تمام حصوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور یہ فیصلہ اس عزم کا اظہار ہے۔‘

 ’خطرناک پیش رفت‘

اردن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ’اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھائے، اور قابض طاقت اسرائیل کو اس کی خطرناک پیش رفت کو روکنے پر مجبور کرے۔‘

قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ اسرائیل کے فیصلے کو ’فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے اس کے غیر قانونی منصوبوں کی توسیع‘ سمجھتی ہے۔

سابقہ امریکی انتظامیہ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی سرگرمیوں اور کنٹرول میں توسیع کی شدید مذمت کی ہے، لیکن وزیراعظم بنامین نتن یاہو کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ خاصے قریبی تعلقات ہیں۔ دونوں نے گذشتہ ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کی جو گذشتہ ایک سال میں ان کی ساتویں ملاقات تھی۔

اوفران نے کہا کہ پھر بھی ٹرمپ نے الحاق کی مخالفت کی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلسطینی شہریوں کو نجی طور پر اسرائیلی شہریوں کو زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے، حالاں کہ گذشتہ ہفتے اعلان کردہ اقدامات کا مقصد اسے کالعدم کرنا ہے۔ فی الحال، آباد کار اسرائیل کی حکومت کے کنٹرول والی زمین پر گھر خرید سکتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے فیصلے کا مقصد مغربی کنارے میں ماحولیاتی اور آثار قدیمہ کے امور سمیت فلسطینیوں کے زیر انتظام علاقوں میں اسرائیلی نفاذ کے کئی پہلوؤں کو بڑھانا بھی تھا۔

سات لاکھ سے زیادہ اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں رہتے ہیں، یہ وہ علاقے ہیں جن پر اسرائیل نے 1967 میں اردن سے قبضہ کیا تھا اور فلسطینی اسے مستقبل کی ریاست کے لیے چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری بھاری اکثریت سے ان علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تین لاکھ سے زیادہ فلسطینی مغربی کنارے کے ایریا سی میں رہتے ہیں، جب کہ آس پاس کی برادریوں میں اس سے کہیں زیادہ لوگ اس کی زرعی اور چرنے والی زمینوں پر انحصار کرتے ہیں، جن میں وہ پلاٹس بھی شامل ہیں جن کے لیے خاندانوں کے پاس دہائیوں زمین کی دہائیوں پرانی دستاویزا یا ٹیکس کا ریکارڈ موجود ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *