انڈین کپتان کا ایک بار پھر مصافحے سے گریز: پاکستان کا فیلڈنگ کا فیصلہ

ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سلسلے میں اتوار کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کولمبو میں اہم میچ میں سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تاہم ٹاس کے موقع پر انڈین کپتان نے ایک بار پھر روایتی مصافحے گریز کیا۔

ٹاس کے بعد سلمان آغا نے کہا کہ ان کی ٹیم کسی تبدیلی کے بغیر میدان میں اترے گی جب کہ انڈین کپتان نے دو تبدیوں کا اعلان کیا۔

سوریا کمار یادو نے کہا کہ کلدیپ یادو کو محمد ارشدیپ سنگھ کی جگہ اور ابھیشک شرما کو سنجو سیمسن کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

میچ سے قبل ہنگامہ خیز دو ہفتوں کے اثرات ابھی تک محسوس کیے جا رہے ہیں کیوں کہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جو بعدازاں واپس لے لیا گیا۔

دو طرفہ کرکٹ پاکستان اور انڈیا کے کشیدہ تعلقات کی نذر ہو چکی ہے، اس لیے جب بھی یہ روایتی حریف غیر جانبدار مقامات پر ہونے والے ملٹی ٹیم ایونٹس میں مدمقابل آتے ہیں تو جذبات عروج پر ہوتے ہیں۔

انڈیا کے ایک اور پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے ساتھ کشیدہ تعلقات نے ورلڈ کپ کے ارد گرد کے سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

جب بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر انڈیا کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا اور 20 ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ میں اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا گیا، تو خطے کی سیاسی بساط ہی پلٹ گئی۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے گروپ اے میں انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، جس سے کھیل، تجارت اور جیو پولیٹکس کے سنگم پر کھڑا یہ منافع بخش میچ خطرے میں پڑ گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اشتہارات کی مد میں کروڑوں ڈالرز کے نقصان کے خدشے کے پیش نظر براڈکاسٹرز میں کھلبلی مچ گئی۔ گورننگ باڈی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پس پردہ ہنگامی بات چیت کی اور بالآخر ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقابلے کو بچانے کے لیے ایک سمجھوتہ کروایا۔

تاہم، اگر صرف کرکٹ کی کارکردگی کی بات کی جائے تو یہ رقابت یک طرفہ رہی ہے۔

دفاعی چیمپیئن انڈیا کا ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پاکستان کے خلاف ریکارڈ 1-7 ہے اور اس نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے گذشتہ ایشیا کپ میں بھی اپنی اس برتری کو ثابت کیا تھا۔

انڈیا نے اس ایک ایونٹ میں پاکستان کو تین بار شکست دی، جس میں ایک ہنگامہ خیز فائنل بھی شامل تھا جو اشتعال انگیز اشاروں اور مصافحہ کرنے سے انکار جیسے واقعات کی وجہ سے خراب ہوا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *