عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ: وفاقی وزیر

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ہفتے کو بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے پیش نظر انہیں ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے)  کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی صحت سے متعلق سہولیات پر پی ٹی آئی متعدد بار شکوہ اور عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے اور رواں ہفتے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ایک رپورٹ کے بعد ان خدشات میں مزید اضافہ ہوا، جس میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔

عمران خان کی مبینہ بگڑتی ہوئی صحت اور ان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے خلاف پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے 13 فروری سے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس اور خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنا دے رکھا ہے جبکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی احتجاج کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے ہفتے کو ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’عمران خان کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور ان کی صحت کے پیش نظر انہیں ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔‘

وفاقی وزیر کے مطابق: ’حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے۔ ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘

 

تاہم انہوں نے کہا کہ ’صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کو چاہیے کہ بے بنیاد پروپیگنڈا یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے گریز کریں۔‘

اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے بھی ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے۔‘

تاہم وفاقی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ عمران خان کا علاج کس طبی مرکز میں اور کب کیا جائے گا۔

عطا تارڑ نے مزید کہا: ’ اِس کی تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ اس معاملے پر قیاس آرائیوں، بے بنیاد خبروں اور ذاتی مفاد کے لیے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔‘

 

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عمران خان کے وکلا نے ان کی خراب ہوتی صحت کی بنیاد پر بدعنوانی کے مقدمے میں سنائی گئی 17 سال قید کی سزا معطل کرنے اور ان کی رہائی کے لیے ہفتے کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

اس درخواست میں 20 دسمبر 2025 کو خصوصی عدالت کے اُس فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی، جس میں سرکاری تحائف غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے کے کیس میں سابق وزیراعظم کو سزا سنائی گئی تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اپیل زیرِ سماعت ہونے کے دوران قید برقرار رہنا ’سنگین ناانصافی‘ کا باعث بنے گا۔

پی ٹی آئی کے بیان کے مطابق درخواست میں کہا گیا کہ فیصلے کو قانونی بنیادوں پر چیلنج کیا جا چکا ہے اور اپیل کے فیصلے تک سزا معطل کرنا پاکستانی قانون کے تحت ممکن ہے، خاص طور پر جب سزا کے خلاف سنجیدہ قانونی سوالات اٹھائے گئے ہوں۔

 

رواں ہفتے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ سابق وزیرِاعظم کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی ضائع ہو چکی ہے، جس کے بعد عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ ڈاکٹروں کے ایک پینل کے ذریعے طبی جانچ کا بندوبست کیا جائے اور 16 فروری سے قبل عمران خان اور ان کے بیٹوں کے درمیان ٹیلی فون کال کی سہولت فراہم کی جائے۔

عمران خان کے اہلِ خانہ نے عطا تارڑ کے اعلان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاج کے لیے لے جانے سے پہلے ان سے مشاورت نہیں کی گئی، اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ کسی بھی طبی عمل کے دوران خاندان کے افراد اور خان کے ذاتی معالج کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔

سابق وزیراعظم کی بہن علیمہ خان نے ہفتے کو ایکس پر کہا کہ حکام نے کال کا انتظام کیا تھا اور عمران خان نے اپنے بیٹوں سے تقریباً 20 منٹ بات کی۔ انہوں نے کہا کہ طویل وقفے کے بعد بیٹوں کی آوازیں سن کر عمران خان ’انتہائی خوش‘ تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کا خاندان ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں فوری علاج کا منتظر ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *