پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے وکلا نے ان کی خراب ہوتی صحت کی بنیاد پر بدعنوانی کے مقدمے میں سنائی گئی 17 سال قید کی سزا معطل کرنے اور سابق وزیر اعظم کو رہا کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب جمعرات کو وکیل سلمان صفدر کی جانب سے سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم کی مبینہ بگڑتی صحت سے متعلق رپورٹ جمع کروائی گئی تھی۔
اس رپورٹ کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی)، جس میں عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان بھی شامل ہیں، نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ عمران خان کو علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔
عمران خان کے وکلا کی جانب سے ہفتے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں 20 دسمبر 2025 کو خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے جس میں سرکاری تحائف غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے کے کیس میں سزا سنائی گئی تھی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اپیل زیرِ سماعت ہونے کے دوران قید برقرار رہنا ’سنگین ناانصافی‘ کا باعث بنے گا۔
پی ٹی آئی کے بیان کے مطابق درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیصلے کو قانونی بنیادوں پر چیلنج کیا جا چکا ہے اور اپیل کے فیصلے تک سزا معطل کرنا پاکستانی قانون کے تحت ممکن ہے، خاص طور پر جب سزا کے خلاف سنجیدہ قانونی سوالات اٹھائے گئے ہوں۔
بیرسٹر صفدر کی جانب سے دائر درخواست کے مطابق پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ماہر ڈاکٹر نے عمران خان کی دائیں آنکھ میں خون جم جانے کے باعث شدید نقصان کی تشخیص کی، جس کے نتیجے میں متاثرہ آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ یہ طبی پیچیدگی اس قدر سنگین ہے کہ اس کا علاج جیل کے اندر ممکن نہیں۔
دوسری جانب پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن کا دھرنا ہفتے کو دوسرے روز میں داخل ہو گیا اور عمران خان کے حامیوں نے خیبر پختونخوا میں ہزارہ موٹر وے بھی بند کر دی۔
اپوزیشن اتحاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے حراست میں ہیں۔ اس درخواست میں دسمبر کی سزا معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے جو زیورات کے ایک سیٹ سے متعلق امانت میں خیانت اور بدعنوانی کے الزامات پر سنائی گئی تھی۔ انہیں امانت میں خیانت پر 10 سال جبکہ انسدادِ بدعنوانی قانون کے تحت سات سال قید کی سزا دی گئی تھی۔
یہ درخواست سابق کرکٹر سے سیاست دان بننے والے عمران خان کی طویل قانونی جدوجہد کا تازہ مرحلہ ہے۔ 2022 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے انہیں متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔
ان کی قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ موجودہ مقدمہ ’غیر معمولی سیاسی انتقام‘ کے تسلسل کا حصہ ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتیں قانونی معاملات میں آزاد ہیں۔
پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے جمعہ کو کہا تھا کہ عمران خان کے علاج کے معاملے میں کوئی غفلت نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے کہا: ’میڈیکل رپورٹ دوبارہ تیار کی جائے گی اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس خود اس کیس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جہاں بھی ضرورت ہوگی، عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے گا۔‘
