عمران خان کی بینائی کا معاملہ: پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن دھرنے کا دوسرا روز

اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی مبینہ بگڑتی ہوئی صحت اور ان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے خلاف اپوزیشن اتحاد کا اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس اور خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنا ہفتے کو دوسرے روز بھی جاری ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اس دھرنے کا اعلان جمعرات کو وکیل سلمان صفدر کی جانب سے سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم کی مبینہ بگڑتی صحت سے متعلق رپورٹ جمع کروائے جانے کے بعد کیا تھا، جس کے بعد اپوزیشن اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ اور عوام پاکستان پارٹی نے بھی اس احتجاجی دھرنے کی حمایت کرتے ہوئے اس میں شمولیت کا اعلان کیا۔ 

سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے)  کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی صحت سے متعلق سہولیات پر پی ٹی آئی متعدد بار شکوہ اور عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے۔ گذشتہ ماہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ عمران خان کو آنکھوں کا سنگین مرض ’سنٹرل ریٹائنل وین اوکلوژن (CRVO)‘ لاحق ہو سکتا ہے اور شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کے طبی معائنے اور ان تک رسائی کی اجازت کے لیے درخواست کی ہے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔

انہی قیاس آرائیوں کے دوران 29 جنوری کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے بتایا تھا کہ عمران خان کو آنکھوں کے طبی ماہرین کی تجویز پر گذشتہ ہفتے کی شب پمز ہسپتال لے جایا گیا تھا اور 20 منٹ کی طبی کارروائی کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا، جس  پر پی ٹی آئی نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

عمران خان کی صحت کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے جہاں ایک جانب ’راستوں کی بندش‘ کی وجہ سے اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ نے پارلیمان کی حدود کے اندر دھرنا دے رکھا ہے وہیں دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں ایک دھرنا اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس (کے پی ہاؤس) میں بھی دیا گیا ہے۔ 

جو اراکین پارلیمان کو جانے والے راستوں کے بند ہونے کی وجہ سے وہاں نہیں پہنچ سکے تھے، وہ سہیل آفریدی کے ہمراہ کے پی ہاؤس کے باہر موجود ہیں۔ 

چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان نے جمعے کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کا مطالبہ انتہائی سادہ ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت ان کا بنیادی حق ہے۔

ان کے بقول: ’عمران خان کو فوری طور پر شفا ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں ان کا علاج کیا جائے تاکہ ان کا مناسب علاج ممکن ہو سکے۔ اسی تاخیر کی وجہ سے ان کی بینائی 85 فیصد ضائع ہو چکی ہے۔‘

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا تھا کہ ان کی جماعت اور عمران خان کے اہل خانہ کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ عمران خان کا علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کروایا جائے، جہاں متعلقہ شعبے کے ماہرین دستیاب ہیں۔ 

مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں لائحۂ عمل سے متعلق سوال پر گوہر خان نے کہا کہ یہ قیادت فیصلہ کرے گی کہ آگے کیا کرنا ہے۔ 

دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی رانا ثنا اللہ نے اس معاملے پر اپنے بیان میں کہا کہ اپوزیشن سنجیدہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

رانا ثنا کا کہنا تھا: ’اگر اپوزیشن دھرنے یا احتجاجی کال دے تو سکیورٹی اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں، اسی لیے بعض راستوں کو بند کیا گیا۔‘

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے حوالے سے رانا ثنا کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹرز کی سفارش پر ہوگا اور عدالت بھی طبی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔

’اگر ماہرین تجویز کریں تو عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال کسی نئی کمیٹی کی تشکیل زیر غور نہیں اور وزیراعظم کو جو خط دیا گیا ہے اس میں بھی بنیادی طور پر علاج اور ہسپتال منتقلی کا مطالبہ دہرایا گیا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *