امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ’بہترین عمل‘ ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی مشرق وسطیٰ میں ’زبردست طاقت‘ موجود ہو گی کیوں کہ پینٹاگون نے خطے میں دوسرا طیارہ بردار جہاز بھیج دیا ہے۔
ٹرمپ کے فوجی اقدامات اور سخت بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران طویل عرصے سے جاری جوہری تنازعے پر سفارت کاری کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
معاملے سے آگاہ ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر منگل کو جنیوا میں ایران کے ساتھ مذاکرات کریں گے، جس میں عمان کے نمائندے ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ ذریعے نے بتایا کہ وٹکوف اور کشنر منگل جنیوا میں روس اور یوکرین کے حکام سے بھی ملاقات کریں گے جو یوکرین میں جنگ ختم کروانے کی امریکی کوشش کا حصہ ہے۔
جب ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یہ سب سے بہترین عمل ہو گا، جو ہو سکتا ہے۔‘ انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ وہ کس کو ایران کا کنٹرول سنبھالتے دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ’لوگ موجود ہیں۔‘
نارتھ کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں ایک فوجی تقریب کے بعد ٹرمپ نے کہا: ’47 سال سے، وہ باتیں کر رہے ہیں اور باتیں کر رہے ہیں اور باتیں کر رہے ہیں۔
’اس دوران، ان کی باتوں کے دوران ہم نے بہت سی جانیں گنوائی ہیں۔ ٹانگیں اڑ گئیں، بازو اڑ گئے، چہرے اڑ گئے۔ یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔‘
واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں ملک کے بیلسٹک میزائل، خطے بھر میں مسلح گروہوں کی حمایت اور ایرانی عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا معاملہ بھی شامل ہو۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے اس مسئلے کو میزائلوں سے جوڑنے کو مسترد کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر حملے کیے جائیں گے، جب کہ تہران نے جوابی کارروائی کا عہد کیا ہے، جس سے وسیع جنگ کے خدشات کو ہوا ملی ہے کیوں کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں فوجیں جمع کر رہا ہے۔ امریکہ نے گذشتہ سال حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ جوہری مقامات پر نشانہ بنانے کے لیے کیا بچا ہے؟ تو ٹرمپ نے کہا ’دھول۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’اگر ہم ایسا کرتے ہیں، تو یہ مشن کا سب سے معمولی حصہ ہو گا، لیکن ہم شاید جو کچھ بھی بچا ہے اسے بھی دیکھ لیں گے۔‘
طویل عرصے کے لیے تعیناتی
امریکی حکام نے فوجی اثاثوں کی نقل و حرکت کے پیچیدہ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طیارہ بردار جہاز ’جیرالڈ آر فورڈ‘، طیارہ بردار جہاز ’ابراہم لنکن‘ کے ساتھ شامل ہو جائے گا، اس کے علاوہ کئی گائیڈڈ میزائل تباہ کرنے والے جہاز، لڑاکا طیارے اور نگرانی کرنے والے طیارے بھی شامل ہیں، جو حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ منتقل کیے گئے ہیں۔
جیرالڈ آر فورڈ، جو امریکہ کا جدید ترین اور دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز ہے، اپنے ہمراہی جہازوں کے ساتھ کیریبین میں موجود رہا ہے اور اس نے رواں سال کے اوائل میں وینزویلا میں آپریشنز میں حصہ لیا تھا۔
جمعے کو اس سے قبل جب پوچھا گیا کہ دوسرا طیارہ بردار جہاز مشرق وسطیٰ کیوں جا رہا ہے؟ تو ٹرمپ نے کہا: ’اگر ہم کوئی معاہدہ نہیں کرتے، تو ہمیں اس کی ضرورت ہو گی۔ اگر ہمیں اس کی ضرورت پڑی، تو ہمارے پاس یہ تیار ہو گا۔‘
