بلومبرگ کے ایک مضمون کے مطابق، انڈیا نے امریکی انتظامیہ کے اندر اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے 500 ارب ڈالر کے پیکج کا عہد کیا ہے۔
انڈیا میں اندرون ملک بیشتر سیاسی جماعتوں اور مبصرین نے امریکہ-انڈیا تجارتی ڈیل پر سخت سوال اُٹھائے ہیں، بلکہ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے یہاں تک کہہ دیا کہ وزیراعظم مودی نے ’بھارت ماتا‘ کو بیچ دیا ہے۔
راہل نے پارلیمان میں اپنی دھواں دار تقریر کے دوران بی جے پی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے پارٹی کے مالیاتی سودے، تاجر انیل امبانی اور گوتم اڈانی کو بچانے کے لیے انڈیا کے ایک ارب چالیس لاکھ افراد کو بلی چڑھایا ہے، جس کے بعد پارلیمان میں سخت شور اور ہنگامہ برپا ہوا۔
گو کہ تجارتی ڈیل کی کچھ تفصیلات مشترکہ بیان میں سامنے آئی ہیں، مگر حزب اختلاف کے مطابق مودی انتظامیہ پوشیدہ عزائم کے بے نقاب ہونے سے ڈر رہی ہے اور اس نے اس معاہدے سے انڈیا کا زرعی شعبہ داؤ پر لگا دیا ہے۔
دوسری جانب بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مودی نے کشمیر کے بدلے میں تجارتی سودے کا خسارہ برداشت کرنے کا رسک لیا ہے۔
حال ہی میں ٹرمپ نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خوب تعریفیں کرتے ہوئے ان کے ساتھ پرتعیش لنچ، میٹنگز اور لاکھوں ڈالر کے کرپٹو سودے بھی کر دیے، جس پر انڈیا کے اندر ضرور بے چینی کی لہر دوڑی تھی۔
یہ بات واضح ہے کہ باوجود ٹرمپ کی اس دوستی کے، محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کا کام کرنے کا اپنا نظام ہے جو مختلف ملکوں کے ساتھ لین دین کے اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔
مگر مبصرین کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں، انڈیا اور پاکستان، کے ساتھ ان سودوں، دوستیوں اور ملاقاتوں کے پس پردہ بہت کچھ ہے، جس میں تجارت سے زیادہ برصغیر کی جیو سٹریٹجک پوزیشن اور مغربی مفادات کا کردار ہے، اور اس کا تعلق کشمیر کی پوزیشن سے بھی جڑا ہوا ہے۔
حیرانی اس بات پر ہوئی جب تجارتی ڈیل کے فوراً بعد واشنگٹن سے انڈیا کا ایک نقشہ منظر عام پر آگیا، جس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور کچھ شمالی علاقوں کو انڈیا کے حصے کے طور پر دکھایا گیا تھا (تاہم بعد ازاں امریکہ نے پاکستان کی درخواست پر اس غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے یہ نقشہ اس ٹویٹ سے ڈیلیٹ کر دیا)۔
امریکہ-پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کے پس منظر میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا پاکستان کے فیلڈ مارشل کی تعریفیں محض ایک اور ڈھکوسلا تھیں اور کیا پاکستان کو مسٔلہ کشمیر سے الگ کرکے پھر دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔
واضح رہے پاکستان 1947 میں برصغیر کے بٹوارے کو جموں و کشمیر کے متنازع علاقے کے حل کیے بغیر ادھورا قرار دیتا ہے۔
اس کے برعکس انڈیا نے ماضی کے اپنے بیانیے کو تبدیل کرتے ہوئے 2019 میں کشمیر کی داخلی خودمختاری ختم کرنے کے بعد اس پورے خطے کو ڈوگرہ مملکت کے حصے کے طور پر مانا ہے، بلکہ کافی عرصے سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو حاصل کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کا ارادہ بھی ظاہر کر چکا ہے۔
برصغیر کے بٹوارے کے بعد جموں و کشمیر کے مختلف حصے بخرے کر دیے گئے ہیں، حالانکہ 1947 میں تنازعے کی شکل اختیار کرنے کی صورت میں عالمی برادری کی موجودگی میں دونوں ملکوں نے اس کو حل کرنے کا عہد و پیمان کیا تھا، مگر اس پر کبھی عمل پیرا نہیں ہوئے۔
اس مسئلے کی شدت پھر اس وقت محسوس کی گئی جب 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے بیچ میں محدود جنگ نے ایسی شدت اختیار کی تھی کہ نوبت ایٹمی جنگ پر پہنچی، جس نے پوری دنیا کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے روکنے کا کریڈٹ لے کر نوبیل انعام کا تقاضہ کیا تھا۔
امریکی انتظامیہ کے حالیہ نقشے پر اگرچہ پہلے دونوں ملکوں نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا، گو کہ انڈین میڈیا نے اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، تاہم بہت سے علاقائی مبصرین نے شکوک کا اظہار کیا اور معاہدوں کے پیچھے عزائم کو فاش کرنے کی سعی کی۔
بیشتر کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے ساتھ تجارتی کھیل کھیلا اور انہیں بہلا پھسلا کر اپنے شرائط اور مفادات کے تحفظ پر مائل کر دیا۔ برصغیر کے کئی سفارت کاروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ دونوں ملکوں کے بیچ مسلسل دشمنی کا ٹرمپ فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اگر ان ملکوں کے قائدین مخلص اور دیانت دار ہوتے تو پہلے اپنے لوگوں کے مفادات کو ترجیح دے دیتے، جو بظاہر موجودہ لین دین کے پس منظر میں نظر نہیں آ رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
برلن میں مقیم سیاسی تجزیہ کار رخشیت روجرز کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے مسئلہ کشمیر پر خاموشی برتنے کے بدلے میں اپنے زرعی شعبے کے حصے کا سودا کیا۔ ایسا ظاہر ہو رہا تھا کہ عاصم منیر کے ساتھ دوستی کے عوض پاکستان نے کشمیر کو ہر فورم میں اٹھانے کا ٹرمپ سے وعدہ لیا تھا اور خفیہ طور پر انڈیا کو کشمیر مذاکرات پر آمادہ کرنا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ٹرمپ انتظامیہ سے اشارے مل رہے تھے کہ وہ انڈیا پر دباؤ ڈالنے کے لیے مسئلہ کشمیر اور انسانی حقوق کے معاملے کو دوبارہ اٹھائیں گے، اگر وہ تجارتی معاہدے کی شقوں کو مان کر اس پر دستخط نہیں کرتے، تاہم اس کی باوثوق ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی مگر میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اندرونی طور پر کشمیر پر کوئی ایسی بات ضرور ہوئی ہے جس پر دونوں ملکوں کی سرکاروں نے خاموشی اختیار کی ہے۔‘
خطے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ سچ ہے تو کشمیر دوبارہ تجارتی لین دین کا حصہ بن گیا ہے اور یہ 1846 کے بعینامہ امرتسر کی بازگشت ہے، جب انگریزوں نے کشمیر کو مہاراجہ گلاب سنگھ کو 75,000 نانک شاہی سکوں میں بیچا تھا، جو اس وقت لاہور کے تخت پر اپنی گرفت قائم کرنا چاہتے تھے۔
تو کیا کشمیر ایک بار پھر لین دین کی شے بن گیا ہے اور کیا اس بار بھی کشمیر کے مسئلے پر خاموشی اختیار کرنے کے بدلے میں انڈیا نے 500 ارب ڈالر کے برابر ڈیل کا ہرجانہ ادا کیا ہے؟
واضح رہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کشمیر کو انڈیا کی کمزوری تصور کرتے ہیں۔ جب بھی انڈیا اپنے مفاد میں خارجی اور اقتصادی پالیسیاں از سرنو ترتیب دینے کا اشارہ دیتا ہے، تو مغرب اسے اس کا کمزور نقطہ ’کشمیر‘ یاد دلاتا ہے۔
انڈیا کے تجارتی معاہدے یا اندرونی عہد و پیمان کے پیچھے کتنے راز چھپے ہیں اس کی تفصیل کا انتظار ہے، مگر تھنک ٹینکس کے بیشتر اداروں میں ان سودوں کا کشمیر سے گہرا تعلق بتایا جاتا ہے۔
کشمیر کو نظر انداز کرنے کی انڈیا کی خواہش پر پاکستان کس حد تک تیار ہو سکتا ہے، اس کا اشارہ ابھی واضح نہیں ہو سکا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
