پنجاب کونسل آف آرٹس راولپنڈی کی پوٹھوہار آرٹ گیلری میں ایک منفرد نمائش کا انعقاد کیا گیا جو کئی حوالوں سے اپنی نوعیت کی پہلی نمائش قرار دی جا رہی ہے۔
اس نمائش کا عنوان ’صنف نازک، عزم آہن‘ ہے جس کا اہتمام اسلام آباد میں ’تصویر خانہ‘ کے بانی احمد حبیب نے کیا۔
اس نمائش کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جڑواں شہروں کی دس خواتین فنکاروں کی تخلیق کردہ پاکستان کے مختلف تاریخی اور مشہور قلعوں کی پینٹنگز پیش کی گئیں۔
اس تصور کے پیچھے یہ خیال کارفرما ہے کہ ماضی میں عسکری طاقت، سیاسی اقتدار اور حکمرانی کی علامت سمجھے جانے والے یہ قلعے، جو آج بھی جاہ و حشمت کی یادگار ہیں، موجودہ دور کی خواتین آرٹسٹس کی نظر میں کس طرح جلوہ گر ہوتے ہیں۔
نمائش میں شامل فن پاروں کی تعداد درجنوں میں ہے، جن میں قلعوں کی عکاسی واٹر کلر، آئل کلر اور ایمبرائڈری سمیت مختلف میڈیمز کے ذریعے کی گئی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عصمت جبیں بھی ان دس فنکاروں میں شامل ہوں جن کی پینٹنگز اس نمائش کا حصہ ہیں۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے تاریخی التت فورٹ کی پینٹنگ تیار کی ہے، جو تقریباً ایک ہزار سال قدیم ہے اور وادی ہنزہ کا نمایاں تعمیراتی شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ التت قلعہ صدیوں تک ہنزہ کے حکمرانوں کی رہائش گاہ رہا ہے۔
نمائش سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تاریخی قلعوں کو پاکستان کی دس خواتین مصوروں نے کس زاویے سے دیکھا اور اپنے فن کے ذریعے کیسے پیش کیا۔
