’انتقام کیا دیتا ہے؟‘ جارح مزاج منتظم سے دھیمے لہجے والے طارق رحمٰن

بنگلہ دیش کے 13 ویں پارلیمانی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرنے والی بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمٰن لندن میں تقریباً دو دہائیوں کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد لگ بھگ دو ماہ قبل وطن واپس پہنچے۔

 طارق رحمٰن بنگلہ دیش کے اہم ترین الیکشن میں سے ایک میں جیت کے بعد وزیراعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔ مقامی میڈیا ہاؤس ’ایکتور ٹی وی‘ کے مطابق طارق رحمان کی جماعت بی این پی کی قیادت میں اتحاد نے جمعے کو علی الصبح ووٹوں کی گنتی میں پارلیمانی الیکشن میں نصف کا ہندسہ عبور کر لیا۔

جمعرات کا الیکشن دھیمے لہجے والے 60 سالہ رہنما طارق رحمٰن کی قسمت میں حیران کن تبدیلی کی علامت رہا۔ انہوں نے 2008 میں یہ کہہ کر ملک چھوڑا تھا کہ انہیں فوجی حمایت یافتہ نگران انتظامیہ کے تحت حراست سے رہائی کے بعد علاج معالجے کی ضرورت ہے۔

 انہیں بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

اگست 2024 میں نوجوانوں کی قیادت میں طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والی شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف پرتشدد تحریک چلائی گئی جس کے بعد یہ حکومت ختم ہو گئی۔

شیخ حسینہ حکومت ختم ہونے کے بعد جب گذشتہ سال دسمبر میں کرسمس کے موقعے پر طارق رحمٰن بنگلہ دیش پہنچے تو ان کا ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا۔

طارق رحمٰن کی والدہ خالدہ ضیا طویل عرصے تک بنگلہ دیشی سیاست پر چھائی رہیں، جب کہ طارق رحمٰن کے والد بنگلہ دیش کی آزادی کی سرکردہ شخصیت تھے جنہوں نے قتل ہونے سے پہلے 1977 سے 1981 تک ملک پر حکومت کی۔

طارق رحمٰن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی بین الاقوامی شراکت داریوں کو از سر نو ترتیب دیں گے اور ملک کو کسی ایک طاقت کے ساتھ بہت زیادہ منسلک نہیں کریں گے۔ ان کی یہ مجوزہ پالیسی شیخ حسینہ حکومت کے برعکس ہے جنہیں نئی دہلی کے ساتھ وابستہ سمجھا جاتا تھا۔

طارق رحمٰن نے غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد بڑھانے، کھلونوں اور چمڑے کی مصنوعات جیسی صنعتوں کو فروغ دے کر گارمنٹس کی برآمدات پر انحصار کم کرنے، اور آمرانہ رجحانات کو روکنے کے لیے وزرائے اعظم کے لیے دو بار یعنی 10 سال کی مدت کی حد متعارف کرانے پر بھی زور دیا ہے۔

جب سے طارق رحمٰن اپنی ماہر امراض دل بیوی اور بیرسٹر بیٹی کے ساتھ ڈھاکہ اترے ہیں، واقعات اتنی تیزی سے رونما ہوئے کہ ان کا کہنا ہے کہ انہیں سوچنے کا وقت مشکل سے ہی ملا ہے۔

گذشتہ ہفتے پارٹی آفس میں اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں جانتا کہ جب سے ہم اترے ہیں ہم نے ہر منٹ کیسے گزارا ہے؟‘

ساکھ کی تبدیلی

عینک لگانے والے طارق رحمان 20 نومبر 1965 کو ڈھاکہ میں خالدہ اور سابق صدر ضیا الرحمان، جو بی این پی کے بانی تھے، کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کی تعلیم حاصل کی، جسے ادھورا چھوڑ دیا، اور بعد میں ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات کا کاروبار شروع کیا۔

اپنی واپسی کے بعد سے، رحمان نے خود کو ایک ایسے سیاست دان کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو شیخ حسینہ کے دور میں اپنے خاندان کی مشکلات سے آگے دیکھنے کے لیے تیار ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 بی این پی کے 2001 سے لے کر 2006 کے دور حکومت میں طارق رحمٰن کا وہ جارح مزاج منتظم والی ساکھ ختم ہو گئی ہے، جب ان کی والدہ وزیراعظم تھیں۔ اگرچہ وہ کبھی کسی سرکاری عہدے پر نہیں رہے، لیکن طارق رحمان پر ان کی والدہ کے دور حکومت میں اقتدار کا ایک متوازی مرکز چلانے کا الزام لگایا جاتا تھا، جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

طارق رحمٰن نے کہا کہ ’انتقام کسی کو کیا دیتا ہے؟ انتقام کی وجہ سے لوگوں کو اس ملک سے بھاگنا پڑتا ہے۔ اس سے کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ اس وقت ملک میں ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن اور استحکام ہے۔‘

شیخ حسینہ کے دور حکومت میں طارق رحمان بدعنوانی کے مقدمات کا مرکزی ہدف رہے اور ان میں سے کئی میں انہیں ان کی غیر موجودگی میں سزا بھی سنائی گئی۔ انہیں 2004 میں حسینہ کے خطاب والی ریلی پر دستی بم حملے کے سلسلے میں 2018 میں عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ اس حملے کئی لوگوں کی جان گئی یا وہ زخمی ہوئے۔ انہوں نے اس حملے کے الزام کی ہمیشہ تردید کی اور اسے سیاسی قرار دیا۔ شیخ حسینہ حکومت ختم ہونے بعد وہ تمام مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔ 

جب وہ لندن میں تھے تو انہوں نے الیکشن در الیکشن اپنی پارٹی کو دیوار سے لگتے دیکھا۔ پارٹی کے سرکردہ رہنما جیلوں میں بند تھے، کارکن لاپتہ ہو رہے تھے اور پارٹی دفاتر بھی بند کر دیے گئے تھے۔

وطن واپسی کے بعد طارق رحمٰن نے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کیا اور تحمل اور مفاہمت کی اپیل کرتے ہوئے واضح طور پر ایک دھیما انداز اپنایا ہے۔ انہوں نے ’ریاست پر عوام کی ملکیت‘ بحال کرنے اور اداروں کی تعمیر نو کی بات کی۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جس نے نئی شروعات کے خواہشمند بی این پی کے حامیوں میں جوش پیدا کر دیا ہے۔ 

بی این پی  پر طارق رحمٰن کی گرفت مضبوط ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے امیدواروں کے انتخاب، حکمت عملی اور اتحاد کی بات چیت کی براہ راست نگرانی کی۔ یہ وہ کردار تھا جو وہ کبھی دور سے ادا کرتے تھے۔

وہ خاندانی سیاست کی پیداوار ہو سکتے ہیں، لیکن رحمان نے کہا کہ جمہوریت کی بحالی اور اسے برقرار رکھنا ان کی سب سے بڑی ترجیح ہو گی۔

طارق رحمٰن کے بقول: ’صرف جمہوریت پر عمل کر کے ہی ہم خوشحال ہو سکتے ہیں اور اپنے ملک کی تعمیر نو کر سکتے ہیں۔ اگر ہم جمہوریت پر عمل کریں تو ہم احتساب کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہم جمہوریت پر عمل کرنا چاہتے ہیں، ہم اپنے ملک کی تعمیر نو کرنا چاہتے ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *