طالبان افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کریں: پاکستان

پاکستان نے جمعرات کو ایک مرتبہ پھر افغانستان میں شدت پسند گروپوں کی سرگرم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پائیدار اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے ان عناصر کے خلاف موثر کارروائی کریں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد کی جانب سے اس قرارداد کے حق میں ووٹ کے بعد کیا، جس کے تحت 1988 میں طالبان پر پابندیوں کے نظام سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کی مدت میں 12 ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔

عاصم افتخار نے اس قرارداد کی متفقہ منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’بروقت بھی ہے اور ضروری بھی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مستقل مندوب کے مطابق: ’پاکستان کو افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی سرگرم موجودگی پر شدید تشویش لاحق ہے، جن میں ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان)، بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) اور مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور القاعدہ شامل ہیں۔ یہ گروہ پاکستان کے خلاف بعض انتہائی گھناؤنے دہشت گرد حملوں اور یرغمال بنانے کے واقعات کے ذمہ دار رہے ہیں۔‘

رواں ماہ فروری میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے اور اسلام آباد کی مسجد میں داعش خراسان کے حملوں میں مجموعی طور پر 80 بے گناہ پاکستانیوں کی اموات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ایک بار پھر ان حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے افغان سرزمین استعمال کی گئی۔‘

عاصم افتخار نے کہا: ’ہم ایک مرتبہ پھر اس مطالبے کو دہراتے ہیں کہ افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور بیرونی تخریب کار عناصر کو صورت حال سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہییں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ ’دہشت گرد گروہوں کو بلا روک ٹوک ایسے اقدامات کرنے سے روکیں اور پائیدار اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے اپنی انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کریں، تاکہ دیرپا امن اور سلامتی کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔‘

پاکستانی مندوب نے مزید کہا: ’یہ فیصلہ طالبان کو کرنا ہے کہ وہ افغانستان کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ تنہائی کا راستہ یا امن اور خوشحالی کا وہ راستہ جو عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *