بسنت اب کروڑوں کا نہیں اربوں روپے کا کھیل

سید فرخ ظفر اسلام آباد میں ایک این جی او میں کام کرتے ہیں۔ انہیں اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی وجہ سے اکثر لاہور آنا جانا پڑتا ہے، مگر اس بار وہ گذشتہ دو ہفتوں سے لاہور نہیں جا سکے، جس کی وجہ لاہور میں کسی بھی ہوٹل میں کمرہ نہ ملنا تھا۔

فرخ نے بتایا کہ عموماً جو کمرہ انہیں کارپوریٹ ریٹس پر 15,000 روپے کا ملتا تھا، اب وہ دگنی قیمت پر مل رہا ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنا دورہ ملتوی کرنا پڑا۔

لاہور میں آخری بسنت 2005 میں ہوئی تھی، تب سے اب تک لاہور کی آبادی دوگنا ہو چکی ہے۔

اس لیے اگر حساب سادہ بھی رکھا جائے تب بھی آج سے 20 سال پہلے والی بسنت کے سارے شماریے دوگنا ہی سمجھیں، لیکن عملی طور پر جو صورت حال سامنے آئی ہے وہ دوگنا نہیں بلکہ کئی سو گنا بنتی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بسنت کی سرگرمیوں کے حوالے سے جو بریفنگ دی گئی اس میں بتایا گیا کہ بسنت کے تین دنوں میں لاہور میں چھوٹی بڑی نو لاکھ گاڑیاں داخل ہوئیں۔

اسی طرح شہر کے اندر سرکاری ٹرانسپورٹ سے 14 لاکھ لوگوں نے مفت سفری سہولیات سے استفادہ کیا۔ لاہور میں داخل ہونے والی گاڑیوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بسنت منانے کے لیے دوسرے شہروں سے تقریباً 30 لاکھ سے زیادہ لوگ آئے۔

لوگ جب فیسٹیول منانے کی غرض سے آتے ہیں تو لاکھوں روپے خرچ بھی کرتے ہیں، جس سے شہر کی اقتصادیات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

یہ اضافی پیسہ لوگوں کی جیبوں میں جاتا ہے، جسے وہ خرچ کرتے ہیں تو سرکاری خزانے میں پیسہ جاتا ہے۔ یوں لاہور کی بسنت یقیناً اربوں روپے کی معاشی سرگرمی بن چکی ہے۔

 لاہور میں کتنے کی پتنگیں فروخت ہوئیں؟

پاکستان کائٹس فلائنگ ایسوسی ایشن کے صدر عامر رفیق آل نے بتایا کہ ابھی تک تو انہیں ہوش ہی نہیں آیا کہ وہ درست ڈیٹا اکٹھا کر سکیں کہ تین دنوں میں لاہور میں کتنے کی ڈوریں اور پتنگیں فروخت ہوئیں۔

لیکن یہ اربوں روپے کی بات ہے کیونکہ پولٹری ایسوسی ایشن والے کہہ رہے ہیں کہ لاہوریوں نے ان تین دنوں میں 10 ارب روپے سے زیادہ کا چکن کھا لیا جو ایک ریکارڈ ہے۔

اتنا چکن عید پر بھی فروخت نہیں ہوتا تو پھر اندازہ کر لیں کہ پتنگیں اور ڈوریں کتنے کی فروخت ہوئی ہوں گی؟

یہ لازمی طور پر اس سے دوگنی قیمت کی ہی فروخت ہوئی ہوں گی کیونکہ لاہور میں بننے والا سارا سٹاک ختم ہو گیا تھا اور پھر پتنگیں اور ڈوریں گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان کے علاوہ دوسرے صوبوں سے بھی منگوانی پڑیں لیکن پھر بھی طلب پوری نہیں ہوئی۔

احمد سمیر پتنگوں کی فروخت کے پہلے آن لائن سٹور لاہور کائٹس ڈاٹ کام کے بانی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور میں پتنگوں کی فروخت کے ساڑھے تین ہزار کے قریب لائسنس جاری کیے گئے جن میں آن لائن فروخت کا سٹور صرف ان کا تھا، مگر کسٹمر اتنا تھا کہ وہ آن لائن آرڈرز کو پورا ہی نہیں کر سکے۔

’جتنے آرڈرز آن لائن آ رہے تھے اس کو پورا کرنے کے لیے نہ ہی ہمارے پاس رائیڈرز تھے اور نہ ہی سٹاک۔‘

بقول احمد: ’سب سے چھوٹی پتنگ کا جو ریٹ 200 روپے سے شروع ہوا تھا وہ 400 میں بھی نہیں مل رہی تھی کیونکہ ڈیمانڈ زیادہ تھی اور سپلائی محدود۔‘

انہوں نے بتایا کہ صرف تین دنوں میں انہوں نے پانچ ہزار سے زیادہ پتنگیں فروخت کیں۔ اگر ان کے پاس ایک لاکھ پتنگوں کا سٹاک ہوتا تو وہ بھی ختم ہو جاتا۔

سب سے زیادہ پیسہ ہوٹلوں نے بنایا

عامر رفیق قریشی پاکستان ریسٹورنٹس یونٹی ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں ایک ہزار کے قریب چھوٹے بڑے ہوٹلز ہیں جن میں 50 ہزار کمرے ہیں۔

’لیکن آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ بسنت سے دس، پندرہ دن پہلے ایڈوانس بک ہو چکے تھے۔ بسنت کے دنوں میں لاہور میں کمرے نہیں مل رہے تھے۔ ہمیں اپنے پرانے اور ریگولر گاہکوں کو بھی انکار کرنا پڑا۔

’لاہور میں فور اور فائیو سٹار ہوٹلز نے ڈالروں میں پیسے لینے شروع کر دیے تھے۔‘

لاہور میں موٹروے اور ہائی ویز کے ریکارڈ کے مطابق تین دنوں میں 10لاکھ  چھوٹی بڑی گاڑیاں داخل ہوئیں تو پھر اندازہ کریں کہ ان میں کتنے لوگ آئے ہوں گے۔

پاکستان میں روایت ہے کہ لوگ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو خالی ہاتھ نہیں جاتے اس لیے کاروبار صرف ہوٹلوں کا ہی نہیں بیکریوں اور پھل فروشوں کا بھی بڑھا۔

لاہور میں بسنت کے دنوں میں ریستورانوں اور فوڈ بزنس کا حجم آٹھ سے 10 ارب روپے تک بڑھا، جس سے ان کے ملازمین کی آمدنی 30 فیصد کے قریب بڑھی۔

مجموعی طور پر کھانے کے کاروبار میں 25 سے 30 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

تفریحی سرگرمیاں بھی عروج پر رہیں

بسنت کے دنوں میں لاہور میں ساؤنڈ سسٹم بھی نایاب ہو گئے۔ دوسرے شہروں سے ٹرکوں پر لاد کر سسٹم لائے گئے تاکہ لاہور کی طلب پوری کی جا سکے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈھول والے اتنے مصروف شادیوں کے سیزن میں نہیں ہوتے جتنا ان تین دنوں میں تھے۔

معروف فنکار حامد علی بیلا کے فرزند اور گائک سجاد علی بیلا کا کہنا تھا کہ بسنت فیسٹیول اور موسیقی لازم و ملزوم ہیں۔

اس بسنت میں لاہور میں فنکاروں کے ساتھ ڈھول والوں اور دیگر میوزیشنز کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

لاہور میں گانے بجانے کی اتنی محفلیں بیک وقت ہو رہی تھیں کہ پورے ملک کے فنکاروں نے لاہور کا رخ کیا۔

لاہور میں ہونے والے میوزیکل شوز کا ریٹ کروڑ، کروڑ تک جا پہنچا۔

عمومی حالات میں جن کا شو 10 لاکھ روپے کا ہوتا تھا ان کا ریٹ بھی ان دنوں میں 20،20 لاکھ تک پہنچ گیا۔ اسی حساب سے موسیقی کے آلات بجانے والوں کے ریٹ بھی کئی گنا بڑھے۔   


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *