بنگلہ دیش میں الیکشن، کروڑوں ووٹوں کی گنتی شروع

بنگلہ دیش میں جمعرات کو اہم قومی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی، جس میں کروڑوں لوگوں نے نئے حکومت کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے۔ 

یہ انتخابات 2024 میں طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والی شیخ حسینہ کی جین زی کی قیادت میں ہونے والی بڑے پیمانے کی بغاوت کے نتیجے میں برطرفی کے بعد ہو رہے ہیں۔

اگرچہ حتمی اعداد و شمار فوری طور پر دستیاب نہیں لیکن الیکشن کمیشن کے سینیئر سیکریٹری اختر احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ دوپہر دو بجے (مقامی وقت) تک 42,651 میں سے 36,031 پولنگ سٹیشنوں میں تقریباً نصف ووٹرز نے ووٹ ڈالے تھے، جب کہ پولنگ کے اختتام میں ابھی ڈھائی گھنٹے باقی تھے۔

یہ شرح 2024 کے گذشتہ انتخابات کے 42 فیصد ٹرن آؤٹ سے زیادہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ساڑھے 17 کروڑ کی آبادی والے ملک میں واضح انتخابی نتیجہ استحکام کے لیے ضروری ہے کیونکہ حسینہ مخالف خونی احتجاج نے کئی ماہ تک بدامنی پیدا کی اور ملک کی اہم صنعتوں، خاص طور پر دنیا کی دوسری بڑی ملبوسات کی برآمدی صنعت، کو متاثر کیا۔

یہ دنیا کا پہلا انتخاب ہے جو نوجوان نسل جین زی کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد منعقد ہو رہا ہے جبکہ اگلے ماہ نیپال میں بھی اسی نوعیت کے انتخابات ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق زیادہ تر پولنگ سٹیشنوں پر گنتی 4:30 شام (مقامی وقت) پر پولنگ ختم ہونے کے فوراً بعد شروع ہو گئی اور ابتدائی نتائج رات 12 بجے کے قریب متوقع ہیں جبکہ مکمل نتائج جمعے کی صبح تک واضح ہونے کی امید ہے۔

اس مقابلے میں دو اتحاد آمنے سامنے ہیں، جن کی قیادت سابق اتحادی کر رہے ہیں، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی۔ رائے عامہ کے سروے بی این پی کو معمولی برتری دکھا رہے ہیں۔

دونوں وزیراعظم کے امیدواروں، بی این پی کے طارق رحمٰن اور جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمٰن، نے جیت کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں کے درمیان کوئی رشتہ نہیں۔

طارق رحمٰن نے صحافیوں سے کہا ’مجھے اپنی جیت پر پورا یقین ہے۔ عوام میں ووٹ کے حوالے سے جوش و خروش ہے۔‘

جماعت کے شفیق الرحمٰن نے انتخابات کو ’بنگلہ دیش کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی ہے اور وہ خود اپنے دیرینہ اتحادی انڈیا میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں، جس سے چین کو بنگلہ دیش میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل رہا ہے کیونکہ ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

حسینہ واجد کے دور اقتدار میں انتخابات تو ہوتے رہے لیکن ناقدین کے مطابق وہ اپوزیشن کے بائیکاٹ اور دھمکیوں کے باعث شفاف نہیں تھے۔

انتخابات کے ساتھ ساتھ ایک ریفرنڈم بھی ہوا، جس میں آئینی اصلاحات پر ووٹ ڈالا گیا، جن میں انتخابی عمل کے لیے غیر جانبدار عبوری حکومت کا قیام، پارلیمان کو دو ایوانوں میں تقسیم کرنا، خواتین کی نمائندگی بڑھانا، عدلیہ کو مزید خودمختار بنانا، اور وزیراعظم کے لیے دو بارہ تک کی حد شامل ہے۔

300 نشستوں پر مشتمل قومی پارلیمان، جاتیا سنگساد، کے لیے 2,000 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں، جن میں کئی آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔

ایک حلقے میں ایک امیدوار کے انتقال کے باعث انتخابات مؤخر کر دیے گئے۔ مجموعی طور پر 50 سے زائد جماعتیں حصہ لے رہی ہیں، جو ملک کا نیا ریکارڈ ہے۔

طویل قطاریں اور سخت سکیورٹی

 

ووٹنگ کے دوران کسی بڑے تشدد کے واقعے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ساحلی شہر کھلنا میں ایک پولنگ بوتھ کے باہر جھگڑے میں بی این پی کا ایک رہنما مارا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حسینہ واجد کے مضبوط گڑھ گاپال گنج میں ایک پولنگ سٹیشن کے باہر دیسی ساختی بم کے دھماکے میں دو نیم فوجی اہلکار اور ایک 13 سالہ لڑکی زخمی ہوگئے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پورے ملک میں نو لاکھ 58 ہزار سے زائد پولیس، فوج اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے۔ زیادہ تر پولنگ بوتھوں کے باہر پولیس اور فوج کے اہلکار موجود تھے۔

 

39 سالہ محمد جبیر حسین نے ووٹ ڈالتے ہوئے کہا ’میں بہت پُرجوش ہوں کیونکہ 17 سال بعد ہم آزادانہ ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ہمارے ووٹ کی قدر ہے اور معنی رکھتے ہیں۔‘

 

یہی جذبات متعدد ووٹرز نے بھی ظاہر کیے، جنہوں نے روئٹرز کو بتایا کہ ماحول پچھلے انتخابات کے مقابلے میں زیادہ آزاد اور پُرسکون ہے۔

 

31 سالہ کمال چوہدری نے، جو ڈھاکہ میں ایک کمپنی کے ڈرائیور ہیں اور ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے آبائی علاقے براہمن بریہ گئے، کہا ’یہاں تو میلہ لگا ہوا ہے۔

لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے اتنے پُرجوش ہیں، یہ تقریباً عید جیسا لگ رہا ہے۔‘

ڈھاکہ میں ووٹ ڈالنے کے بعد عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہا ’آج سے ہمیں نیا بنگلہ دیش بنانے کا موقع ملا ہے۔ یہ ایک تہوار ہے، خوشی کا دن ہے، آزادی کا دن ہے۔ ہمارا ڈراؤنا خواب ختم ہوا۔ میں آپ سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔‘

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے سینیئر کنسلٹنٹ تھامس کین نے کہا ’اب بنگلہ دیش کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہو گا کہ انتخابات شفاف طریقے سے ہوں اور تمام جماعتیں نتائج کو قبول کریں۔ 

’اگر ایسا ہوا تو یہ اس بات کا مضبوط ثبوت ہوگا کہ ملک واقعی جمہوری بحالی کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *