جنوبی کوریا کی نمایاں کرپٹو کرنسی ایکسچینج بٹ تھم نے انکشاف کیا ہے کہ داخلی نظام کی سنگین خامیوں کی وجہ سے گذشتہ ہفتے 40 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے غلطی سے منتقل ہو گئے۔
کمپنی نے تسلیم کیا کہ ان خامیوں کی وجہ سے اس کا سسٹم ممکنہ تخریب کاری کا نشانہ بھی بن سکتا تھا۔
ملک کی دوسری بڑی ورچوئل اسیٹ ایکسچینج نے تشہیری تقریب کے دوران صارفین میں غلطی سے تقریباً چھ لاکھ 20 ہزار بٹ کوائن تقسیم کر دیے حالاں کہ اصل میں چھ لاکھ 20 ہزار وان (کورین کرنسی، تقریباً 426 ڈالر) دیے جانے تھے۔
اس ہوشربا غلطی کے نتیجے میں بٹ کوائن کی مارکیٹ قیمت میں 17 فیصد کمی واقع ہوئی۔
اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بات کرتے ہوئے، بٹ تھم کے چیف ایگزیکٹیو افسر لی جے وون نے وضاحت کی کہ غلطی سے دی گئی یہ رقم ایکسچینج کے کل 42000 بٹ کوائنز کے اثاثوں سے 15 گنا زیادہ تھی۔
انہوں نے اس کی ایک وجہ لین دین کے عمل میں تقریباً 24 گھنٹے کی تاخیر کو قرار دیا، جس کی وجہ سے ورچوئل اثاثوں کے بیلنس کو بروقت اپ ڈیٹ کرنے میں رکاوٹ آئی۔ لی جے وون نے کہا: ہم داخلی نظام کے کنٹرول میں خامی سے بخوبی واقف ہیں۔‘
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ رقم کی منتقلی کے حجم کی اصل ہولڈنگز کے ساتھ تصدیق کرنے کی ایکسچینج کی مقررہ پالیسی ناکام ہو گئی تھی۔ مزید برآں، اتنی بڑی رقم کو الگ اکاؤنٹ میں نہیں رکھا گیا تھا، جو اس طرح کے لین دین کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہوتا ہے۔
ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بٹ کوائنز ایکسچینج نے واپس لے لیے ہیں، لیکن 1786 بٹ کوائنز چند منٹوں میں ہی فروخت کر دیے گئے تھے، اس سے پہلے کہ ایکسچینج ان صارفین کے اکاؤنٹس منجمد کرتی جنہیں یہ موصول ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جن صارفین نے انہیں فروخت کیا ہے وہ قانونی طور پر انہیں واپس کرنے کے پابند ہیں۔
ارکان پارلیمنٹ نے ملک کی ورچوئل اثاثوں کی مارکیٹ میں حکومتی اور کارپوریٹ نگرانی کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا، جو تجارتی حجم کے اعتبار سے دنیا کی سرگرم ترین مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔
فنانشل سپروائزری سروس (ایف ایس ایس) کے گورنر لی چان جن نے کہا کہ ان کا ذاتی خیال ہے کہ ورچوئل کرنسی مارکیٹ کو بھی بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی طرح ریگولیٹری نگرانی کے تابع ہونا چاہیے، لیکن موجودہ قوانین اور ضوابط کے تحت یہ ممکن نہیں تھا۔
جنوبی کوریا نے جولائی 2024 میں ’ورچوئل ایسٹ یوزر پروٹیکشن ایکٹ‘ متعارف کرایا تھا تاکہ 2022 میں کرپٹو کرنسیوں ٹیرا یو ایس ڈی اور لونا کے گرنے سے ہونے والے مارکیٹ کے نقصان کے بعد کرپٹو سرمایہ کاروں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حکومت کا ارادہ ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں پر ریگولیٹری کنٹرول کو مزید وسیع کرنے کے لیے ایک اور بل متعارف کرایا جائے، جب کہ پالیسی سازوں اور قانون سازوں کے درمیان کورین وان میں چلنے والے سٹیبل کوائنز پر بھی بات چیت جاری ہے۔
معاملے کی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک مارکیٹ تجزیہ کار نے کہا: ’یہ افسوسناک بات ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مالیاتی ادارے صنعت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہے تھے، جیسے کہ انضمام اور حصول کے معاہدے، جو پالیسی کی مزید حمایت کی توقعات کے تحت اب تاخیر کا شکار ہو جائیں گے۔‘
’یہ افسوسناک ہے کہ ایسا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب مالیاتی فرموں کی جانب سے صنعت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے تھے، جیسے کہ انضمام اور حصول کے سودے، جن کی بنیاد مزید پالیسی سپورٹ کی توقعات پر تھی، جو اب تاخیر کا شکار ہو جائیں گے۔‘
